1. تعارف: وزیر خارجہ کے بیانات کا خلاصہ اور ان کی اہمیت
2. "بھائی کو گھر میں گھس کر مارنا": ایک طاقتور استعارے کی تشریح
3. پاکستان کے لیے افغانستان کا استراتژک اہمیت اور تاریخی پیچیدگی
4. ٹی ٹی پی (تحریک طالبان پاکستان): مرکزی مسئلہ
· ٹی ٹی پی کا تعارف، مقاصد اور پاکستان کے لیے خطرات
· افغانستان میں ٹی ٹی پی کی موجودگی اور پاکستان کی شکایات
5. پاکستان کی سفارتی کوششیں: ایک جامع جائزہ
· دوطرفہ مذاکرات (کابل کا دورہ)
· علاقائی فورمز (ماسکو میں SCO اجلاس)
· بین الاقوامی حمایت (یورپی یونین سے مذاکرات)
6. "امن ہی واحد راستہ ہے": پاکستان کی افغان پالیسی کا نیا فلسفہ
7. افغان حکام کا موقف: چیلنجز اور ممکنہ وجوہات
8. علاقائی اور عالمی ردعمل: اسحاق ڈار کے بیانات کے اثرات
9. مستقبل کے ممکنہ منظر نامے اور سفارتی راستے
10. اختتام: امن کے لیے ایک نازک موقع
---
پاکستان اور افغانستان: امن کی تلاش میں ایک نئی سفارتی حکمت عملی
1. تعارف: وزیر خارجہ کے بیانات کا خلاصہ اور ان کی اہمیت
پاکستان کے نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے حالیہ بیانات نے پاکستان کی افغانستان کے تئیں نئی اور واضح پالیسی کو جنم دیا ہے۔ ان بیانات میں دو نہایت ہی اہم اور باہم مربوط پیغامات پوشیدہ ہیں: ایک تو یہ کہ پاکستان کے پاس افغانستان کے حوالے سے پیدا ہونے والے سلامتی کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے عسکری طاقت کا اختیار موجود ہے، لیکن وہ اس راستے کو اختیار نہیں کرنا چاہتا۔ دوسرا، پاکستان کا بنیادی مطالبہ یہ ہے کہ افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردانہ سرگرمیوں کے لیے استعمال نہ کیا جائے، خاص طور پر کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے حوالے سے۔ ڈار نے واضح کیا کہ پاکستان نے افغان حکام سے دو ہی راستے تجویز کیے ہیں: یا تو ٹی ٹی پی کو پاک-افغان بارڈر سے دور لے جایا جائے، یا اسے پاکستان کے حوالے کر دیا جائے۔ انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ افغان وزیر خارجہ امیر متقی نے تسلیم کیا تھا کہ انہوں نے ٹی ٹی پی کے "چند" ارکان کو گرفتار کیا ہے، لیکن پاکستان کے نزدیک یہ ناکافی ہے۔ یہ بیانات نہ صرف موجودہ کشیدہ تعلقات کی عکاسی کرتے ہیں بلکہ پاکستان کی جانب سے ایک نئی، پراعتماد اور واضح سفارتی حکمت عملی کا اعلان بھی ہیں۔
2. "بھائی کو گھر میں گھس کر مارنا": ایک طاقتور استعارے کی تشریح
اسحاق ڈار کا یہ جملہ، "ہم افغانستان کا مسئلہ طاقت سے حل کر سکتے ہیں لیکن نہیں چاہتے اپنے بھائی کو گھر میں گھس کر ماریں،" ان بیانات کا سب سے زیادہ طاقتور اور مبنی برحکمت حصہ ہے۔ یہ استعارہ کئی گہرے معانی رکھتا ہے:
· رابطۂ خون اور ثقافتی ہم آہنگی: "بھائی" کا لفظ اس گہرے ثقافتی، نسلی، لسانی اور مذہبی رشتے کی طرف اشارہ ہے جو پاکستان اور افغانستان کے عوام کے درمیان ہمیشہ سے رہا ہے۔ دونوں طرف پشتون، بلوچ، تاجک اور دیگر گروہ آباد ہیں جو سرحد کے دونوں اطراف اپنے خاندانوں سے جڑے ہوئے ہیں۔ اس لفظ کے استعمال سے یہ پیغام دیا گیا ہے کہ پاکستان افغان عوام کو دشمن نہیں سمجھتا۔
· احترام خودمختاری: "گھر میں گھس کر" کا فقرہ افغانستان کی خودمختاری اور اس کی جغرافیائی حدود کے احترام کا اعتراف ہے۔ پاکستان یہ واضح کرنا چاہتا ہے کہ وہ افغانستان کی خودمختاری کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کوئی یکطرفہ فوجی کارروائی نہیں کرنا چاہتا، چاہے اسے اس کا اختیار حاصل ہے۔
· اخلاقی برتری اور دوراندیشی: یہ بیان پاکستان کو ایک ایسی اخلاقی پوزیشن پر فائز کرتا ہے جو طاقت کے بے جا استعمال سے گریز کرتی ہے۔ یہ بین الاقوامی برادری، خاص طور پر یورپی یونین جیسے امن پسند شراکت داروں کے سامنے پاکستان کے پرامن اور ذمہ دارانہ رویے کو پیش کرتا ہے۔ نیز، یہ اس تاریخی حقیقت کو بھی اجاگر کرتا ہے کہ افغانستان میں فوجی مداخلت نے ماضی میں بین الاقوامی طاقتوں کے لیے بھی مشکلات ہی پیدا کی ہیں۔
· انتباہ کا پہلو: اگرچہ یہ بیان پرامن ہے، لیکن اس میں ایک واضح انتباہ بھی پنہاں ہے: "ہم طاقت سے حل کر سکتے ہیں۔" یہ افغان حکام اور دیگر اہم کرداروں کے لیے ایک پیغام ہے کہ پاکستان کے پاس اختیارات موجود ہیں، اور اگر حالات ناقابل برداشت ہو جاتے ہیں تو وہ انہیں استعمال کرنے پر مجبور ہو سکتا ہے۔
3. پاکستان کے لیے افغانستان کا استراتژک اہمیت اور تاریخی پیچیدگی
پاکستان کے لیے افغانستان محض ایک پڑوسی ملک نہیں، بلکہ اس کی قومی سلامتی، معاشی استحکام اور خارجہ پالیسی کا ایک مرکزی محور ہے۔ اس تعلق کی تاریخی جڑیں بہت گہری اور اکثر پیچیدہ رہی ہیں:
· سرحدی سلامتی: 2,640 کلومیٹر طویل ڈیورنڈ لائن دنیا کی سب سے زیادہ متنازعہ اور انتہائی گھنی آبادی والی سرحدوں میں سے ایک ہے۔ اس کی لمبائی اور مشکل زمینی حالات نے اسمگلنگ، غیرقانونی نقل و حرکت اور دہشت گرد گروہوں کے لیے اسے ایک محفوظ پناہ گاہ بنا دیا ہے۔
· پناہ گزینوں کا بحران: دہائیوں کی جنگ کے نتیجے میں لاکھوں افغان مہاجرین پاکستان میں مقیم ہیں، جو معاشرے اور معیشت پر ایک بڑا بوجھ ہے۔
· "گہرائی کی حکمت عملی": سرد جنگ کے دوران، افغانستان کو سوویت یونین کے خلاف ایک بفر زون کے طور پر استعمال کیا گیا۔ بعد ازاں، پاکستان نے طالبان کے ساتھ تعلقات اس امید پر استوار کیے کہ وہ افغانستان میں ایک دوستانہ حکومت قائم کرے گا جو پاکستان کے استراتژک مفادات (جیسے "گہرائی" کا نظریہ) کے تحفظ میں معاون ثابت ہوگی۔ تاہم، موجودہ طالبان حکومت (افغانستان) نے اس توقع پر پورا نہیں اترا، بلکہ ٹی ٹی پی کے معاملے پر تعلقات میں کشیدگی پیدا ہو گئی ہے۔
· معاشی راہداریاں: پاکستان افغانستان کو بحیرہ عرب تک رسائی فراہم کرتا ہے، جبکہ پاکستان وسطی ایشیائی ریاستوں تک رسائی کے لیے افغانستان پر انحصار کرتا ہے۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) کی کامیابی کا انحصار بھی خطے میں استحکام پر ہے، جس میں افغانستان کا امن کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔
4. ٹی ٹی پی (تحریک طالبان پاکستان): مرکزی مسئلہ
اسحاق ڈار کے بیانات کا محور کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) ہی ہے۔ یہ گروہ پاکستان میں دہشت گردی کی زیاد تر ذمہ داری قبول کرتا ہے اور پاکستان کی ریاست، خاص طور پر فوج اور پولیس کے اہلکاروں کو نشانہ بناتا ہے۔
· ٹی ٹی پی کا تعارف اور مقاصد: یہ گروہ 2007 میں افغان طالبان سے الگ ہوا۔ اس کا بنیادی مقصد پاکستان میں ایک سخت شرعی نظام قائم کرنا اور پاکستانی فوج کے خلاف جہاد کرنا ہے۔ اس نے سکولوں، بازاروں اور عوامی مقامات پر خودکش حملوں سمیت ہزاروں دہشت گردانہ واقعات کو انجام دیا ہے، جس کے نتیجے میں ہزاروں پاکستانی شہریوں اور فوجی اہلکاروں کی جانیں گئی ہیں۔
· افغانستان میں پناہ: پاکستان کا مستقل موقف رہا ہے کہ ٹی ٹی پی کے جنگجو اور قیادت افغانستان میں پناہ گزین ہیں، جہاں سے وہ پاکستان میں اپنی کارروائیوں کی منصوبہ بندی اور انہیں انجام دیتے ہیں۔ پاکستان کا دعویٰ ہے کہ موجودہ افغان طالبان حکومت، جو خود بھی ایک مذہبی-سیاسی تحریک ہے، ٹی ٹی پی کے ساتھ نظریاتی ہم آہنگی رکھتی ہے اور اس لیے اسے روکنے کے لیے موثر اقدامات نہیں کرتی۔
· پاکستان کی شکایات: اسحاق ڈار کا یہ کہنا کہ "افغانستان نے انسدادِ دہشت گردی کے بارے میں اپنا وعدہ پورا نہیں کیا" اور "چند سو لوگوں کی گرفتاری کافی نہیں" اس دیرینہ شکایت کی عکاسی کرتا ہے۔ پاکستان کا ماننا ہے کہ افغان حکام ٹی ٹی پی کے خلاف صرف رسمی اور نمائشی کارروائی کرتے ہیں، جبکہ حقیقی طور پر اس گروہ کو مکمل طور پر ختم کرنے کی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کر رہے۔
5. پاکستان کی سفارتی کوششیں: ایک جامع جائزہ
اسحاق ڈار کے بیانات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان نے افغان مسئلے کے حل کے لیے ایک کثیرالجہتی حکمت عملی اپنائی ہوئی ہے، جس میں طاقت کے بجائے سفارت کاری کو ترجیح دی جا رہی ہے۔
· دوطرفہ مذاکرات (کابل کا دورہ): ڈار کا افغانستان کا دورہ براہ راست رابطے کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔ ان ملاقاتوں میں پاکستان نے اپنے تحفظات براہ راست افغان قیادت کے سامنے رکھے۔ اگرچہ افغان جانب سے ٹی ٹی پی کے "چند" ارکان کی گرفتاری کا اعلان ایک مثبت قدم تھا، لیکن پاکستان نے اسے ناکافی قرار دے کر اپنی سنجیدگی اور سختی کا اظہار کیا۔
· علاقائی فورمز (ماسکو میں SCO اجلاس): شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) جیسے فورم پر شرکت پاکستان کی اس کوشش کا حصہ ہے کہ وہ افغانستان کے مسئلے کو ایک علاقائی مسئلے کے طور پر پیش کرے۔ روس، چین، ایران اور وسطی ایشیائی ریاستیں بھی افغانستان میں استحکام کے خواہش مند ہیں۔ پاکستان ان ممالک کو یہ باور کروانا چاہتا ہے کہ افغانستان میں دہشت گردی کا خطرہ صرف پاکستان تک محدود نہیں، بلکہ پورے خطے کے لیے ایک خطرہ ہے۔ اس طرح، پاکستان افغان طالبان پر دباؤ بڑھانے کے لیے ایک علاقائی اتحاد قائم کرنا چاہتا ہے۔
· بین الاقوامی حمایت (یورپی یونین سے مذاکرات): ڈار کا یورپی یونین کے سربراہان سے ملنا اور انہیں "حقائق سے آگاہ" کرنا ایک دانشمندانہ چال ہے۔ مغربی ممالک افغان طالبان حکومت کو تسلیم نہیں کرتے اور انسانی حقوق کے مسائل پر ان کی سخت تنقید کرتے ہیں۔ پاکستان یورپی یونین کو اس بات پر قائل کر سکتا ہے کہ افغانستان میں دہشت گردی کا خاتمہ نہ صرف پاکستان بلکہ عالمی امن کے لیے بھی ضروری ہے، جس کے نتیجے میں طالبان حکومت پر بین الاقوامی دباؤ میں اضافہ ہوگا۔
6. "امن ہی واحد راستہ ہے": پاکستان کی افغان پالیسی کا نیا فلسفہ
اسحاق ڈار کا یہ بیان پاکستان کی موجودہ حکومت کی افغان پالیسی کے مرکزی نکتے کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ ایک بنیادی فلسفیانہ تبدیلی ہے جس کے چند اہم پہلو ہیں:
· فوجی حل کی ناکامی کا اعتراف: یہ بیان اس بات کا اعتراف ہے کہ افغانستان کے حوالے سے صرف فوجی کارروائیوں سے مسئلے کا مستقل حل نہیں نکل سکتا۔ ماضی میں فاٹا میں ہونے والی فوجی کارروائیوں کے باوجود ٹی ٹی پی کے حملے جاری رہے، جس سے یہ ثابت ہوا کہ جب تک افغانستان میں ان کے محفوظ پناہ گاہیں موجود ہیں، یہ مسئلہ برقرار رہے گا۔
· معاشی تعاون اور تعمیر نو پر زور: امن کا راستہ صرف سلامتی کے تعاون تک محدود نہیں۔ اس میں افغانستان کی معاشی بحالی، تجارتی راستے کھولنے، اور انفراسٹرکچر کے منصوبوں میں سرمایہ کاری کرنا بھی شامل ہے۔ ایک مستحکم افغانستان پاکستان کے لیے ایک وسیع معاشی بازار بن سکتا ہے۔
· طویل المدتی استحکام کی خواہش: پاکستان ایک ایسے افغانستان کے ساتھ رہنا چاہتا ہے جو پرامن، مستحکم اور خوشحال ہو۔ ایک خانہ جنگی کا شکار اور معاشی طور پر دیوالیہ پڑوسن پاکستان کے لیے ہمیشہ ایک مسئلہ بنی رہے گی۔
7. افغان حکام کا موقف: چیلنجز اور ممکنہ وجوہات
افغان طالبان حکومت کے پاس ٹی ٹی پی کے خلاف فیصلہ کن کارروائی نہ کرنے کی اپنی مجبوریاں اور وجوہات ہو سکتی ہیں:
· نظریاتی ہم آہنگی: دونوں گروہوں کے درمیان ایک مضبوط نظریاتی ربط ہے۔ دونوں ہی اپنے اپنے ملکوں میں اسی قسم کے مذہبی-political نظام کے قیام کے خواہش مند ہیں۔ افغان طالبان کے لیے ایک ایسے گروہ کو نشانہ بنانا مشکل ہو سکتا ہے جو نظریاتی طور پر ان کے قریب ہے۔
· عملی رکاوٹیں: افغانستان میں موجودہ حکومت کو شدید معاشی بحران، خشک سالی، اور بین الاقوامی پابندیوں کا سامنا ہے۔ ایسے میں ان کے پاس وسائل کی کمی ہو سکتی ہے، اور وہ تمام سرحدوں پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے میں ناکام ہو سکتے ہیں۔
· بطور bargaining chip استعمال: ممکن ہے کہ افغان حکومت ٹی ٹی پی کو ایک "مبادلے کے طور پر استعمال" کر رہی ہو تاکہ وہ پاکستان سے سفارتی تسلیم، معاشی امداد، یا پناہ گزیروں کی واپسی جیسے معاملات پر بات چیت کر سکیں۔
· اندرونی اختلافات: افغان طالبان ایک یکجا وجود نہیں ہیں۔ ان کے اندر سخت گیر اور نسبتاً معتدل دھڑے موجود ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ سخت گیر دھڑا ٹی ٹی پی کے خلاف کارروائی کی مخالفت کر رہا ہو۔
8. علاقائی اور عالمی ردعمل: اسحاق ڈار کے بیانات کے اثرات
ڈار کے بیانات کا علاقائی اور عالمی سطح پر گہرا اثر پڑے گا:
· چین: چین، جو CPEC میں بھاری سرمایہ کاری کر چکا ہے، پاکستان کی پرامن سفارت کاری کی تعریف کرے گا۔ چین خود بھی افغانستان میں استحکام چاہتا ہے تاکہ اسے اپنے مغربی صوبے سنکیانگ میں علیحدگی پسند تحریکوں کی حمایت کا خدشہ نہ رہے۔
· ایران: ایران، جو خود بھی پانی کے حقوق اور پناہ گزیروں جیسے مسائل پر افغانستان سے الجھا ہوا ہے، پاکستان کی پرامن کوششوں کو مثبت نظر سے دیکھ سکتا ہے۔
· روس: روس بھی خطے میں دہشت گردی کے پھیلاؤ سے خوفزدہ ہے۔ وہ SCO کے پلیٹ فارم کے ذریعے افغان امن عمل میں اپنا کردار ادا کرنا چاہے گا۔
· امریکہ اور یورپی یونین: مغربی ممالک پاکستان کے پرامن نقطہ نظر کو سراہیں گے۔ وہ افغان طالبان پر دباؤ بڑھانے کے لیے پاکستان کے ساتھ تعاون جاری رکھیں گے، خاص طور پر انسانی حقوق اور خواتین کی تعلیم کے معاملات پر۔
9. مستقبل کے ممکنہ منظر نامے اور سفارتی راستے
آئندہ کچھ عرصہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کے لیے فیصلہ کن ثابت ہوگا۔ چند ممکنہ منظر نامے درج ذیل ہیں:
· مثالی منظر نامہ: افغان حکومت ٹی ٹی پی کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرتی ہے، اس کے رہنماﺅں کو پاکستان کے حوالے کرتی ہے یا انہیں جلاوطن کرتی ہے۔ اس کے نتیجے میں پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں نمایاں کمی آتی ہے، تجارت اور سفری سہولیات بحال ہوتی ہیں، اور دونوں ممالک کے درمیان اعتماد بحال ہوتا ہے۔
· معمول کا منظر نامہ: افغان حکومت ٹی ٹی پی کے خلاف کارروائی جاری رکھتی ہے لیکن اسے مکمل طور پر ختم کرنے میں ناکام رہتی ہے۔ پاکستان میں چھوٹے پیمانے کے دہشت گردانہ حملے جاری رہتے ہیں۔ تعلقات میں کشیدگی برقرار رہتی ہے، لیکن سفارتی رابطے جاری رہتے ہیں۔
· منفی منظر نامہ: افغان حکومت ٹی ٹی پی کے معاملے پر کوئی موثر کارروائی نہیں کرتی۔ پاکستان میں دہشت گردی میں اضافہ ہوتا ہے۔ پاکستان صبر کا دامن چھوڑ دیتا ہے اور افغانستان میں ٹی ٹی پی کے اڈوں پر ہدف شدہ فوجی کارروائیوں کا راستہ اختیار کر لیتا ہے، جس سے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی انتہائی خطرناک حد تک بڑھ جاتی ہے۔
10. اختتام: امن کے لیے ایک نازک موقع
نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار کے بیانات پاکستان کی طرف سے افغانستان کے ساتھ تعلقات کو نئی سمت دینے کی ایک سنجیدہ کوشش ہیں۔ یہ بیانات ایک متوازن نقطہ نظر پیش کرتے ہیں جس میں طاقت کے استعمال کی صلاحیت کا اظہار بھی ہے، لیکن اس کے استعمال سے گریز بھی۔ "بھائی" کا استعارہ ثقافتی رشتوں کی گہرائی کو اجاگر کرتا ہے، جبکہ ٹی ٹی پی کے حوالے سے واضح مطالبات پاکستان کی قومی سلامتی کے حوالے سے عدم سمجھوتے کی پالیسی کو ظاہر کرتے ہیں۔
پاکستان نے اپنا حصہ ادا کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس نے پرامن سفارت کاری کو ترجیح دی ہے، علاقائی اور بین الاقوامی فورمز پر اپنا مؤقف مؤثر طریقے سے پیش کیا ہے، اور افغان حکام کے سامنے حل کے دو واضح راستے رکھے ہیں۔ اب گیند افغان حکومت کے میدان میں ہے۔ اگر افغان قیادت واقعی اپنے ملک کی معاشی بحالی اور بین الاقوامی برادری میں شمولیت کے خواہش مند ہے، تو اسے ٹی ٹی پی جیسے دہشت گرد گروہوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرنی ہوگی۔
اس نازک موڑ پر، افغانستان کی جانب سے ٹی ٹی پی کے خلاف موثر کارروائی نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے امن اور استحکام کے لیے ایک تاریخ ساز قدم ثابت ہو سکتی ہے۔ اگر ایسا نہ ہوا تو پھر اسحاق ڈار کے استعارے میں چھپے انتباہ کے مطابق، خطے میں عدم استحکام کا ایک نیا اور خطرناک دور شروع ہو سکتا ہے، جس کا نقصان دونوں "بھائی" ملکوں کو اٹھانا پڑے گا۔ لہٰذا، امن ہی نہ صرف واحد، بلکہ بہترین اور سب کے مفاد میں راستہ ہے۔
.jpeg)
.jpeg)

0 Comments
Post a Comment