چین اور پاکستان کے درمیان قائم تاریخی اور انتہائی





مضبوط دوستی کا ایک اور شاندار مظاہرہ اس وقت دیکھنے میں آیا جب چین کے متعدد فوجی کارگو طیاروں Y-20 کا بیڑا اہم جنگی سازوسامان لے کر پاکستان پہنچا۔ یہ اقدام نہ صرف دونوں ممالک کے درمیان اعتماد، یکجہتی اور باہمی تعاون کی گہری بنیادوں کو ظاہر کرتا ہے بلکہ اس حقیقت کا بھی غماز ہے کہ چین ہمیشہ اپنے دوست ممالک کے ساتھ کھڑا رہتا ہے اور مشکل اوقات میں اس کی مدد کرتا ہے۔ Y-20 طیارے، جو جدید ترین فوجی نقل و حمل کے حامل ہیں، کا اس طرح بڑی تعداد میں پاکستان آنا ایک تاریخی لمحہ ہے، کیونکہ پہلی بار اس قدر بڑے پیمانے پر جدید ترین دفاعی آلات پاکستان پہنچائے گئے ہیں۔ یہ عمل "آئرن برادرز" کے درمیان سٹریٹجک اعتماد اور دفاعی تعاون کے نئے دور کا آغاز کرتا دکھائی دیتا ہے۔


اس شحن میں شامل ممکنہ ہتھیاروں میں J-35E سٹیلتھ فائٹر جیٹس (ابتدائی بیچ)، Z-10E اٹیک ہیلی کاپٹرز، HQ-9BE لانگ رینج ایئر ڈیفنس میزائل سسٹمز، اور PL-15/17E ایئر ٹو ایئر میزائلز جیسی جدید ترین ٹیکنالوجیز شامل ہیں۔ یہ تمام اسلحہ جدید جنگ کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیے گئے ہیں اور ان کی آمد سے پاک فضائیہ اور زمینی فوج کی دفاعی صلاحیتیں کئی گنا بڑھ جائیں گی۔ J-35E سٹیلتھ فائٹر، جو پانچویں نسل کا لڑاکا طیارہ ہے، نہ صرف دشمن کے ریڈار پر نظر آنے سے بچ سکتا ہے بلکہ اس میں جدید ترین ایویونکس اور ہتھیار نظام موجود ہیں، جو فضائی برتری حاصل کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔ Z-10E ہیلی کاپٹرز جدید ترین ٹینک مخالف اور کلوز ایئر سپورٹ مشنز کے لیے موزوں ہیں، جو پاکستان کی موبائل وارفیئر صلاحیت کو مضبوط بنائیں گے۔ HQ-9BE میزائل سسٹم ایک طویل فاصلے تک ہوائی حملوں کو روکنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جو ملک کے اہم مراکز اور سرحدوں کی حفاظت کے لیے ایک مضبوط ڈھال کا کام دے گا۔ جبکہ PL-15/17E میزائلز جدید ترین ایئر ٹو ایئر ہتھیار ہیں جو دشمن کے طیاروں کو طویل فاصلے سے نشانہ بنا سکتے ہیں، جس سے پاک فضائیہ کی ضرب لگانے کی صلاحیت میں اضافہ ہوگا۔


اس دفاعی تعاون کا خطے کی طاقت کے توازن پر گہرا اثر مرتب ہو سکتا ہے۔ پاکستان کو ملنے والی یہ جدید ترین فوجی ٹیکنالوجی نہ صرف اس کے قومی دفاع کو مزید مضبوط بنائے گی بلکہ خطے میں استحکام کا بھی ضامن ہوگی۔ یہ اقدام چین کی اس پالیسی کا عکاس ہے کہ وہ اپنے اتحادوں پر ہر حال میں قائم رہتا ہے اور دوستی کے رشتے کو محض الفاظ تک محدود نہیں رکھتا بلکہ عملی اقدامات سے اس کا ثبوت دیتا ہے۔ چین-پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) جیسے منصوبوں کے بعد دفاعی شعبے میں اس تعاون کو دونوں ممالک کے درمیان سٹریٹجک شراکت داری میں ایک اہم سنگ میل قرار دیا جا سکتا ہے۔ اس سے پاکستان کی خود انحصاری کی پالیسی کو تقویت ملے گی اور وہ بیرونی دباؤ سے آزادانہ فیصلے کرنے کے قابل ہو سکے گا۔


عالمی سطح پر، دفاعی حلقے اور تجزیہ کار اس واقعے کو بہت سنجیدگی سے دیکھ رہے ہیں۔ چین کا یہ اقدام اس بات کا اشارہ ہے کہ وہ خطے میں امن و استحکام کے قیام کے لیے پرعزم ہے اور اپنے اتحادیوں کی خودمختاری اور سالمیت کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔ یہ تعاون دونوں ممالک کی مسلح افواج کے درمیان باہمی اعتماد اور مشترکہ مفادات کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، یہ دنیا کو یہ پیغام بھی دیتا ہے کہ چین اور پاکستان کے تعلقات محض رسمی یا معاشی نہیں ہیں بلکہ ایک گہرے سٹریٹجیک اور جذباتی رشتے پر مبنی ہیں، جو وقت کے ساتھ ساتھ مزید مضبوط ہوتا جا رہا ہے۔


اس موقع پر عوام الناس میں بھی جوش و خروش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ سوشل میڈیا پر #PakChinaFriendship اور #PakChinaCooperation جیسے ہیش ٹیگز کے تحت لوگ دونوں ممالک کی دوستی پر اپنے جذبات کا اظہار کر رہے ہیں۔ یہ دفاعی تعاون نہ صرف حکومتی سطح پر بلکہ عوام دونوں ممالک کے عوام کے دلوں میں بھی چین-پاکستان دوستی کی گہرائی کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ رشتہ محض مفادات تک محدود نہیں بلکہ ایک حقیقی اور پائیدار شراکت داری ہے، جو دونوں قوموں کے درمیان بھائی چارے، اعتماد اور باہمی احترام پر مبنی ہے۔


آخر میں، یہ کہا جا سکتا ہے کہ چین کا یہ اقدام نہ صرف "دوستی کا حق" ادا کرنے کے مترادف ہے بلکہ اس سے خطے میں ایک نئی دفاعی ڈائنامکس جنم لے سکتی ہے۔ پاکستان کو ملنے والی یہ جدید ترین فوجی ٹیکنالوجی اسے اپنی سرزمین کی حفاظت کے لیے مزید مستعد بنائے گی اور علاقائی امن کے قیام میں اس کا کردار مزید مضبوط ہوگا۔ چین اور پاکستان کے درمیان یہ تعاون آنے والے دنوں میں بھی جاری رہے گا اور دونوں ممالک مل کر خطے میں استحکام اور خوشحالی کے فروغ کے لیے کام کرتے رہیں گے۔ پاک زندہ باد، چین زندہ باد، اور چین-پاکستان دوستی زندہ باد!