خون کا عطیہ: ایک انسانی کہانی
دو صحافیوں کی جانب سے انسانیت کی خدمت کا خوبصورت واقعہ
یہ ایک چھوٹا سا لمحہ تھا مگر احساس سے بھرا ہوا۔ دو لوگ — ایک مرد، ایک خاتون — دونوں صحافت سے وابستہ، مگر آج کسی خبر کی تلاش میں نہیں بلکہ انسانیت کی خدمت کے لیے اکٹھے ہوئے تھے۔ دونوں کا بلڈ گروپ ایک ہی تھا: O نیگیٹو، مگر سوچ کا زاویہ بے حد پوزیٹو۔
اس دن نہ خبر بنانے کا جوش تھا، نہ کیمرے کی روشنیوں کا شور۔ بس ایک دل کی خواہش تھی — کہ اگر ہمارا خون کسی کے جسم میں جا کر بہے، تو وہ زندگی کی صورت بن جائے۔ اسپتال کے کوریڈور میں داخل ہوتے ہوئے احساس ہوا کہ کبھی کبھی سب سے بڑی خبر انسان کے اپنے اندر ہوتی ہے — وہ لمحہ جب وہ خود کو دوسروں کے لیے وقف کرتا ہے۔
بلڈ ڈونیٹ کرنے کا فیصلہ شاید ایک عام قدم لگتا ہے، مگر دراصل یہ زندگی اور موت کے درمیان ایک پل ہوتا ہے۔ جب کسی انجانی جان کے لیے آپ اپنی رگوں سے خون دیتے ہیں تو یہ صرف عطیہ نہیں بلکہ دعا بن جاتا ہے۔ ان دونوں صحافیوں نے بھی یہی سوچ کر خون دیا — نہ کسی شہرت کے لیے، نہ کسی تحریر کے عنوان کے لیے، بلکہ صرف اس نیت سے کہ "اگر ہمارا ایک قطرہ کسی کی سانس بڑھا دے تو یہی سب سے بڑی خبر ہے۔"
"دیکھو، ہم ہمیشہ دوسروں کی کہانیاں سناتے ہیں، آج خود ایک کہانی بن گئے ہیں،"
خون دینے کے بعد دونوں اسپتال کے کیفے میں بیٹھ گئے۔ میز پر کافی کے دو کپ رکھے تھے — خوشبو ہوا میں گھل رہی تھی۔ تھکن کے باوجود چہروں پر ایک عجیب سا اطمینان تھا۔ باتیں چھوٹی چھوٹی تھیں، مگر معنی بہت گہرے۔ گفتگو انسانیت، احساس، اور ذمہ داری کے گرد گھومتی رہی۔
"شاید یہی صحافت کا اصل مقصد ہے — سچ کہنا، مگر انسانیت کے لہجے میں۔"
کافی کے گھونٹ کے ساتھ احساس جاگ اٹھا کہ زندگی صرف خبروں اور ہیڈلائنز کا نام نہیں۔ اصل زندگی وہ لمحے ہیں جب آپ کسی کے لیے آسانی پیدا کرتے ہیں، کسی اجنبی کی دعا میں شامل ہو جاتے ہیں۔
ان دونوں نے اس دن ایک سبق سیکھا — انسانیت ابھی زندہ ہے۔
خون کا عطیہ ایک لمحے کا عمل ہوتا ہے، مگر اس کا اثر دائمی ہوتا ہے۔ جس طرح قلم سے نکلا ہوا لفظ ذہن بدل دیتا ہے، ویسے ہی خون کا ایک قطرہ زندگی بدل دیتا ہے۔
ان دونوں صحافیوں کے لیے یہ دن کسی بڑے ایوارڈ یا اعزاز سے کم نہیں تھا۔ یہ احساس کہ آپ کسی کے درد کو کم کر سکتے ہیں، کسی کے چہرے پر مسکراہٹ لا سکتے ہیں — یہی انسان ہونے کی اصل تعریف ہے۔
آخری بات
آخر میں دونوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا:
"خون نیگیٹو ہو سکتا ہے، لیکن نیت ہمیشہ پوزیٹو رہنی چاہیے۔"
اور شاید یہی جملہ ان کے دن کی سب سے خوبصورت ہیڈلائن تھی۔



0 Comments
Post a Comment