سوڈان کی سیاسی اور عسکری صورت حال
بین الاقوامی طاقتوں کی مداخلت اور وسائل پر کنٹرول کی کشمکش
سوڈانی آرمی فورسز (SAF)
سوڈان کی فوجی طاقت جسے برطانوی سلطنت نے مصر اور سوڈان کی فوج کے طور پر تشکیل دیا تھا۔
کنٹرول میں علاقے
- مشرقی سوڈان کا بڑا علاقہ
- نیل دریا کا کنٹرول
- اہم بندرگاہیں
حمایتی ممالک
- روس
- یوکرین
- قطر
- ترکی
- ایران
- سعودی عرب
- مصر
ریپڈ سپورٹ فورس (RSF)
2013 میں صدر عمر البشیر نے دارفر میں بغاوت کو کچلنے کے لیے قائم کی گئی ملیشیا جو اب ایک آزاد فورس بن چکی ہے۔
کنٹرول میں علاقے
- سوڈان کے مغربی علاقے
- مغربی سوڈان کے پانچوں اہم علاقے
- سونے کی کانوں کا دو تہائی حصہ
حمایتی ممالک اور گروپ
- متحدہ عرب امارات (بڑا حمایتی)
- واگنر گروپ (روس کا پرائیویٹ سیکیورٹی گروپ)
فنانسنگ کا نظام
آر ایس ایف سونے کی کانوں سے حاصل ہونے والے سستے سونے کو متحدہ عرب امارات کی مارکیٹ میں فروخت کرتی ہے، جس کے بدلے میں اسے تیل، اسلحہ اور مالی امداد ملتی ہے۔
سوڈان میں کنٹرول کے علاقے
سوڈان کے مشرقی اور مغربی حصوں میں تقسیم کے ساتھ، دونوں گروہوں کے درمیان کشمکش جاری ہے۔
خلاصہ اور تجزیہ
سوڈان کی موجودہ صورت حال دراصل بین الاقوامی طاقتوں کی مفادات کی کشمکش کی عکاسی کرتی ہے۔ متحدہ عرب امارات ایک اہم کھلاڑی کے طور پر ابھر رہا ہے جو مختلف گروہوں کو سپورٹ کر کے اپنے مفادات کو آگے بڑھا رہا ہے۔
سونے جیسے قدرتی وسائل پر کنٹرول اس کشمکش کا مرکز ہے، جہاں آر ایس ایف سونے کی کانوں پر کنٹرول کے ذریعے اپنی مالی ضروریات پوری کرتی ہے۔
اس تنازعے کا سب سے بڑا نقصان عام سوڈانی عوام کو ہو رہا ہے، جہاں ایک کروڑ سے زائد افراد بے گھر ہو چکے ہیں اور یو ایس ایڈ کی بندش کے بعد سوڈانی آرمی کے زیر کنٹرول علاقوں کے لوگ امداد سے محروم ہیں۔
جیسا کہ آپ نے اشارہ کیا، یہ کھیل مفادات اور وسائل پر کنٹرول کا ہے، اور اس میں ہر کوئی اپنی طاقت کے مطابق اپنے مفادات کو آگے بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔

0 Comments
Post a Comment