بسم اللہ الرحمن الرحیم بلاشبہ یہ ایک نہایت ہی پر مسرت اور قابل فخر لمحہ تھا جب دبئی ایئر شو 2025 کے موقع پر پاکستان ایوی ایشن انڈسٹری کا تیار کردہ شاہین باز JF-17C بلاک-III نہ صرف بین الاقوامی ہوابازوں اور ماہرین کی توجہ کا مرکز بنا بلکہ بھارتی فضائیہ کے اہلکاروں نے بھی اسے دیکھنے اور اس کے ساتھ تصاویر بنانے میں خصوصی دلچسپی کا اظہار کیا۔ یہ منظر نہ صرف ایک ہوائی جہاز کی کامیابی کی علامت ہے بلکہ یہ پاکستان کی سائنسی و دفاعی خودمختاری، سفارتی حکمت عملی اور بین الاقوامی سطح پر اس کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کا واضح اظہار ہے۔ ایک تاریخی منظر اور اس کے مضمرات دبئی ایئر شو جیسے معتبر بین الاقوامی فورم پر JF-17 تھنڈر کے جدید ترین ورژن کی موجودگی خود میں ایک بہت بڑا پیغام ہے۔ یہ ایئر شو صرف طیاروں کی چکاچوند اور ہوابازی کے کرتب کا مظاہرہ نہیں ہوتا، بلکہ یہ درحقیقت عالمی دفاعی صنعت کی ایک نمائش گاہ ہوتا ہے، جہاں ممالک اپنی تکنیکی قابلیت، جدت اور دفاعی صلاحیتوں کا لوہا منواتے ہیں۔ اس تناظر میں جب بھارتی فضائیہ کے اہلکار، جو خود ایک جدید اور طاقتور فضائیہ کا حصہ ہیں، اپنے ازلی حریف کے بنائے ہوئے طیارے کے ساتھ تصاویر بنانے پر آمادہ ہوں، تو یہ اس طیارے کی تکنیکی برتری اور کشش کو تسلیم کرنے کے مترادف ہے۔ یہ عمل ایک "پروفیشنل ازم" کی اعلیٰ مثال ہے۔ فضائیہ کے اہلکار، چاہے وہ کسی بھی ملک کے ہوں، جدید ترین ٹیکنالوجی کے دلدادہ ہوتے ہیں۔ ان کا JF-17 کے ساتھ تصویر کھنچوانا درحقیقت اس طیارے کی افادیت، اس کی ڈیزائن میں جدت، اور اس کی جنگی صلاحیتوں کے حوالے سے ان کے فنی تجسس اور احترام کا اظہار ہے۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ JF-17 اب صرف ایک "پاکستانی طیارہ" نہیں رہا، بلکہ ایک بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ اور قابل قدر ڈیفنس پلیٹ فارم بن چکا ہے۔ JF-17C بلاک-III: خصوصیات اور انقلابی تبدیلیاں بھارتی اہلکاروں کی اس دلچسپی کی بنیادی وجہ JF-17C بلاک-III میں موجود جدید ترین ٹیکنالوجیز ہیں۔ یہ طیارہ اپنے پچھلے ورژنز سے کہیں زیادہ مہلک، ہوشیار اور لچکدار ہے۔ 1. ایویونکس اور ریڈار سسٹم: اس میں نصب NRIET KLJ-7A ایپرچر رڈار ایک انقلابی اضافہ ہے۔ یہ ایک ایکٹو الیکٹرانک سکینڈ ایرے (AESA) ریڈار ہے جو روایتی ریڈارز کے مقابلے میں زیادہ دور تک، زیادہ درستی سے اور ایک ساتھ متعدد اہداف کو بہتر طریقے سے ٹریک کر سکتا ہے۔ یہ طیارے کو "شٹ اینڈ فورجٹ" کی صلاحیت دیتا ہے، یعنی وہ میزائل داغنے کے بعد خود کو بچاتے ہوئے دوسرے مشن پر جا سکتا ہے۔ 2. ہوائی ہتھیار: یہ طیارہ PL-15 (لمبی رینج کے ایئر ٹو ایئر) اور PL-10 (قصیر رینج کے انتہائی مانور ایبل) میزائلز سے لیس ہے۔ PL-15 کی مار کرنے کی صلاحیت اسے دشمن کے طیاروں کے لیے ایک خوفناک خطرہ بناتی ہے، جس کا مقابلہ کرنا کسی بھی فضائیہ کے لیے ایک چیلنج ہوگا۔ 3. کاک پٹ اور پائلٹ انٹرفیس: بلاک-III کے کاک پٹ میں ایک اچھی طرح سے مربوط "گلاس کاک پٹ" ہے، جس میں بڑی اور جدید ڈسپلے اسکرینیں ہیں۔ یہ پائلٹ کو ارد گرد کے ماحول کے بارے میں مکین آگاہی (Situational Awareness) فراہم کرتی ہیں، جس سے اسے فیصلہ سازی میں تیزی اور درستی ملتی ہے۔ 4. سٹیلتھ ٹیکنالوجی: اگرچہ یہ ایک مکمل سٹیلتھ طیارہ نہیں ہے، لیکن اس میں ریڈار سے بچنے والی (لو آبزرویبل) کوٹنگز اور ڈیزائن کے عناصر شامل ہیں، جس سے اس کا ریڈار کراس سیکشن (RCS) کم ہو جاتا ہے اور دشمن کے ریڈار کے لیے اسے پکڑنا مشکل ہو جاتا ہے۔ 5. انجن: یہ اب بھی روسی RD-93 انجن پر چلتا ہے، لیکن اس میں بہتری لائی گئی ہے جس سے اس کی کارکردگی اور بھروسہ مندی میں اضافہ ہوا ہے۔ ان تمام خصوصیات نے مل کر JF-17C بلاک-III کو ایک "4+ جنریشن" کا لڑاکا طیارہ بنا دیا ہے جو جدید ترین فضائی جنگ کے تقاضوں پر پورا اترتا ہے۔ بھارتی اہلکاروں کی دلچسپی انہی جدید ٹیکنالوجیز کو قریب سے دیکھنے اور سمجھنے کی خواہش کی عکاس ہے۔ پاکستان کی دفاعی خودکفالت کا سفر: CAM سے PAC تک JF-17 تھنڈر کا سفر پاکستان کے دفاعی خودکفالت کے عزم کی ایک شاندار داستان ہے۔ اس کا آغاز 1999 میں چین کے ساتھ شراکت داری سے ہوا، جب پاکستان ایوی ایشن کمپلیکس (PAC) اور چین کی چینگڈو ایئر کرافٹ انڈسٹری کارپوریشن (CAC) نے مل کر کام شروع کیا۔ اس پروگرام کا مقصد پاکستان کو ایک ایسا جدید لڑاکا طیارہ فراہم کرنا تھا جو اس کی دفاعی ضروریات کو پورا کرے اور اسے مہنگے درآمد کردہ طیاروں پر انحصار کم کرنے میں مدد دے۔ پہلا JF-17 پروٹوٹائپ 2003 میں اڑا اور 2007 میں پاک فضائیہ میں اسے شامل کر لیا گیا۔ وقت گزرنے کے ساتھ، اس کے مختلف بلاکس تیار کیے گئے، ہر نیا بلاک پچھلے سے زیادہ بہتر اور جدید تھا۔ بلاک-III اس سفر کی اب تک کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔ یہ صرف طیارہ تیار کرنے کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ پاکستان میں ہی اس کی تیاری، اپ گریڈیشن اور مرمت کا مکین نظام قائم کرنا ہے۔ اس سے نہ صرف ملکی صنعت کو فروغ ملا ہے بلکہ بیرونی ممالک کو برآمدات کے نئے دروازے بھی کھلے ہیں۔ بین الاقوامی ردعمل اور مارکیٹ میں مقام JF-17 تھنڈر کو بین الاقوامی سطح پر بڑی پذیرائی حاصل ہوئی ہے۔ اسے پہلے ہی میانمار، نائیجیریا اور دیگر ممالک کی فضائیہ نے حاصل کر لیا ہے۔ متعدد دیگر ممالک اس میں گہری دلچسپی کا اظہار کر چکے ہیں۔ اس کی کامیابی کی وجوہات میں اس کی لاگت کی تاثیر شامل ہے – یہ اپنے ہم پلہ طیاروں جیسے F-16 یا روسی MiG-29 کے مقابلے میں کہیں سستا ہے، جبکہ جدید ترین ٹیکنالوجیز سے لیس ہے۔ اس کے علاوہ، پاکستان خریدار ممالک کو ٹیکنالوجی ٹرانسفر اور تربیت جیسے مراعات بھی فراہم کرتا ہے، جو ترقی پذیر ممالک کے لیے ایک بہت بڑا کشش ہے۔ دبئی ایئر شو میں بھارتی اہلکاروں کی دلچسپی درحقیقت اس طیارے کی مارکیٹنگ میں ایک "مفت تشہیر" ک