پنجاب حکومت نے "پنجاب ریگولرائزیشن آف سروس ایکٹ 2018" کو منسوخ کر کے صوبے بھر کے سرکاری ملازمین کے مستقبل پر ایک سنگین ضرب لگائی ہے۔ یہ فیصلہ لاکھوں کنٹریکٹ ملازمین کے مستقل ہونے کے امکانات کو ختم کر دے گا اور سرکاری ملازمتوں کے روایتی تصور کو یکسر بدل دے گا۔
تاریخی تناظر: ریگولرائزیشن ایکٹ 2018
پنجاب ریگولرائزیشن آف سروس ایکٹ 2018 سابق وزیر اعلیٰ شہباز شریف کی حکومت میں متعارف ہوا تھا۔ اس قانون کا بنیادی مقصد عارضی اور کنٹریکٹ بنیادوں پر کام کرنے والے سرکاری ملازمین کو مستقل حیثیت دینا تھا۔ اس قانون کے تحت، جو ملازم مسلسل چار سال تک اپنی خدمات سرانجام دے چکے تھے، انہیں خود بخود مستقل ملازم قرار دیا جانا تھا۔
یہ قانون خاص طور پر ان ہزاروں ملازمین کے لئے امید کی کرن تھا جو دہائیوں سے عارضی بنیادوں پر کام کر رہے تھے اور مستقل ہونے کے انتظار میں تھے۔ اس قانون نے نہ صرف ملازمین کے تحفظ کو یقینی بنایا تھا بلکہ انہیں پنشن اور دیگر مراعات کا حقدار بھی بنایا تھا۔
نئے آرڈیننس کی تفصیلات
2025 کا یہ نیا آرڈیننس درج ذیل اہم تبدیلیاں لے کر آیا ہے:
1. ریگولرائزیشن ایکٹ 2018 کا خاتمہ
اب کنٹریکٹ ملازمین کو پہلے والے قانون کے تحت مستقل نہیں کیا جائے گا۔ یہ قدم لاکھوں ملازمین کے مستقل ہونے کے خوابوں پر پانی پھیر دے گا۔
2. سابقہ فیصلوں کی برقراری
جو کام یا فیصلے پہلے سے 2018 کے ایکٹ کے تحت ہو چکے ہیں، وہ برقرار رہیں گے۔ اس کا مطلب ہے کہ جو ملازم پہلے ہی مستقل ہو چکے ہیں، ان کی حیثیت پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔
3. نئی بھرتیوں کا نیا نظام
اب نئی بھرتیاں "Lump Sum Pay Package" کے تحت ہوں گی، یعنی مستقل ملازمت یا بنیادی تنخواہ والے اسکیل پر نہیں بلکہ ٹھیکہ یا پیکیج بنیاد پر۔
حکومتی دلائل: بوجھ میں کمی کا دعویٰ
حکومت پنجاب نے اس اقدام کو درج ذیل دلائل سے جواز فراہم کیا ہے:
سرکاری خزانے پر پنشن اور مستقل ملازمین کی تنخواہوں کا بوجھ کم کرنا اس اقدام کا بنیادی مقصد بتایا جا رہا ہے۔ حکومت کے مطابق، مستقل ملازمین کی پنشن اور دیگر مراعات کا بوجھ حکومتی خزانے کے لئے ناقابل برداشت ہوتا جا رہا تھا۔
حکومتی ترجمان کے مطابق، "یہ قدم جدید دور کے تقاضوں کے مطابق ہے جہاں پرائیویٹ سیکٹر میں بھی کنٹریکٹ پر ملازمت کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ اس سے نہ صرف حکومتی اخراجات میں کمی آئے گی بلکہ ملازمین کو ان کی کارکردگی کے مطابق معاوضہ دینا بھی ممکن ہو سکے گا۔"
معاشی اور سماجی اثرات
ملازمین پر اثرات
اس فیصلے کے سب سے گہرے اثرات سرکاری ملازمین پر پڑیں گے۔ اب انہیں ملازمت کا تحفظ، پنشن، طبی سہولیات اور دیگر مراعات میسر نہیں ہوں گی۔ یہ صورتحال نہ صرف ان کی معاشی حالت کو متاثر کرے گی بلکہ ان کے خاندانوں کے مستقبل پر بھی منفی اثرات ڈالے گی۔
معیشت پر اثرات
ماہرین معیشت کے مطابق، یہ قدم طویل المدتی معاشی ترقی کے لئے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ جب ملازمین کو ملازمت کا تحفظ نہ ہو، تو وہ بچت اور سرمایہ کاری میں دلچسپی نہیں لیتے، جس سے معیشت کی مجموعی ترقی متاثر ہوتی ہے۔
سماجی تحفظ کے نظام پر اثرات
سرکاری ملازمتوں میں کمی اور کنٹریکٹ سسٹم کے فروغ سے سماجی تحفظ کا نظام کمزور ہوگا۔ ملازمین کو پنشن نہ ملنے کی صورت میں بزرگ شہریوں کی دیکھ بھال کا بوجھ خاندانوں پر پڑے گا، جس کے سماجی اثرات مرتب ہوں گے۔
سیاسی ردعمل
اپوزیشن جماعتوں نے اس اقدام کی سخت مذمت کی ہے۔ پیپلز پارٹی کے ترجمان نے اسے "محنت کش دشمن اقدام" قرار دیا ہے جبکہ پی ٹی آئی کے رہنما اسے "عوامی مفاد کے خلاف فیصلہ" قرار دے رہے ہیں۔
حزب اختلاف کے مطابق، یہ قدم درحقیقت سرکاری ملازمین کے حقوق سلب کرنے اور انہیں کم مراعات دے کر زیادہ سے زیادہ کام لینے کی حکومتی پالیسی کا حصہ ہے۔
قانونی پہلو
قانونی ماہرین کے مطابق، یہ اقدام آئین پاکستان کے آرٹیکل 18 کے تحت ملازمت کے حق کے خلاف ہو سکتا ہے۔ عدالت عظمیٰ نے متعدد مواقع پر ملازمت کے تحفظ کو بنیادی انسانی حق قرار دیا ہے۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ اس آرڈیننس کو اسمبلی میں پیش نہیں کیا گیا بلکہ گورنر پنجاب نے براہ راست آرڈیننس جاری کیا ہے۔ اس طریقہ کار پر بھی قانونی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
تجزیہ: ترقی کے دعووں کی حقیقت
حکومت ترقی کے جو نعرے لگا رہی ہے، اس اقدام سے ان کی حقیقت واضح ہوتی ہے۔ درحقیقت، یہ قدم معیشت میں استحکام پیدا کرنے کے بجائے عدم تحفظ کو فروغ دے گا۔
ترقی کا مطلب صرف اخراجات میں کمی نہیں ہوتا، بلکہ انسانی سرمائے کی ترقی ہوتی ہے۔ جب ملازمین کو تحفظ نہ ملے، تو وہ اپنی صلاحیتیں پوری طرح بروئے کار نہیں لا سکتے، جس سے مجموعی کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔
حکومت کے اس اقدام سے سرکاری شعبے میں کام کرنے والے نوجوانوں کی حوصلہ شکنی ہوگی، جس کے نتیجے میں قابل اور ہونہار افراد سرکاری شعبے میں آنے سے گریز کریں گے۔
مستقبل کے امکانات
اس اقدام کے بعد درج ذیل امکانات ہیں:
- سرکاری ملازمین کی طرف سے احتجاج اور مظاہرے
- فیصلے کے خلاف عدالتی چیلنج
- سرکاری شعبے میں کام کے معیار میں کمی
- ہنر مند افراد کا سرکاری شعبے سے پرائیویٹ شعبے کی طرف ہجرت
- ملازمین کے درمیان بے چینی اور عدم تحفظ کا احساس
نتیجہ
پنجاب حکومت کا یہ قدم نہ صرف لاکھوں سرکاری ملازمین کے مستقبل کے ساتھ کھیلنے کے مترادف ہے، بلکہ یہ پورے معاشرے کے استحکام کے لئے بھی خطرہ ہے۔ ترقی کے نام پر محنت کشوں کے حقوق سلب کرنا کسی بھی صحت مند معاشرے کی علامت نہیں ہو سکتا۔
حکومت کو چاہیے کہ وہ اس فیصلے پر نظر ثانی کرے اور ملازمین کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنائے۔ مستقل ملازمت کا نظام نہ صرف ملازمین کے تحفظ کی ضمانت ہے بلکہ معاشی استحکام کی بنیاد بھی ہے۔
یہ فیصلہ پنجاب کے محنت کش عوام کے مفاد میں نہیں بلکہ چند مخصوص مفادات کے تحفظ کے لئے ہے، جس کا خمیازہ آنے والی نسلیں بھگتیں گی۔



0 Comments
Post a Comment