---


جاز کا "بے ضمیر" بیلنس کٹاؤ: ایک صارف کے حقوق کی جدوجہد کا احوال


پاکستان میں موبائل فون صارفین کی سب سے بڑی تعداد جاز (موبی لنک) کے پاس ہے۔ کمپنی کے اعداد و شمار کے مطابق اس کے تقریباً 70 ملین صارفین ہیں—جی ہاں، پورے سات کروڑ! ان میں سے محتاط اندازے کے مطابق کم از کم تین سے چار کروڑ لوگ ایکٹو یوزر ہوں گے جو روزانہ بنیادوں پر خدمات استعمال کرتے ہیں۔


اور عجیب بات یہ ہے کہ ہمارے ہاں ہر دوسرا شخص یہی شکایت کرتا نظر آتا ہے کہ جاز نے بیلنس کا "قتل عام" کر رکھا ہے۔ یہ کوئی مبالغہ آرائی نہیں، بلکہ ایک تلخ حقیقت ہے جس کا سامنا ہر طبقہ فکر کے صارفین کو ہے۔


خاموش ڈاکا: وہ سروسز جو آپ کو معلوم تک نہیں


ہر سِم پر دو تین سروسز ایسی چل رہی ہوتی ہیں جو نہ صارف کو ان کے بارے میں معلوم ہوتا ہے اور نہ ہی ان کا کوئی واضح فائدہ ہوتا ہے۔ مگر روزانہ کے کم از کم 3 سے 5 روپے آرام سے کاٹ لیے جاتے ہیں۔ یہ میں کم سے کم کہہ رہا ہوں کیونکہ عملی طور پر اس سے کہیں زیادہ کی کٹوتی ہوتی ہے۔ یہ سروسز کب، کیسے، اور کس بنیاد پر ایکٹیویٹ ہوتی ہیں، یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب شاید ہی کسی عام صارف کے پاس ہو۔


پھر المیہ یہ بھی ہے کہ ان سروسز کو بند کرانے کا طریقہ بھی زیادہ تر لوگوں کو نہیں آتا۔ USSD کوڈز کی پیچیدہ labyrinths، ہیلپ لائن پر لمبے انتظار کے اوقات، اور غیر واضح گائیڈنس کی وجہ سے عام صارف مایوس ہو کر راستہ چھوڑ دیتا ہے۔


ایک خوفناک مالیاتی حساب کتاب


ذرا ایک سادہ سا حساب لگائیں… اگر صرف 3 کروڑ صارفین بھی ہیں اور ہر ایک سے صرف 3 روپے روزانہ کٹ رہے ہیں تو:


· روزانہ کی آمدن: 3 کروڑ × 3 روپے = 9 کروڑ روپے یومیہ

· ماہانہ آمدن: 9 کروڑ × 30 = 270 کروڑ روپے ماہانہ

· سالانہ آمدن: 270 کروڑ × 12 = 3,240 کروڑ روپے سالانہ


یہ ایک محتاط اندازہ ہے۔ اگر اوسط کٹوتی 5 روپے یومیہ مانی جائے تو یہ رقم روزانہ 15 کروڑ، ماہانہ 450 کروڑ اور سالانہ 5,400 کروڑ روپے تک پہنچ جاتی ہے! کیا یہ عوامی لوٹ نہیں؟ یہ وہ "ٹریفک آمدن" ہے جو کسی بھی اشتہار یا سرمائے کاری کے بغیر، صارف کی جیب سے براہ راست نکال کر کمپنی کے ریوینو میں شامل ہو رہی ہے۔


ہم لاٹھی کھاتے رہتے ہیں، اور زبان سے صرف گالیاں ہی نکلتی ہیں۔ مگر عملی اقدام سے گریز کرتے ہیں۔ ہماری یہی مجرمانہ خاموشی ان کمپنیوں کے لیے حوصلہ افزائی کا باعث بنتی ہے۔


ذاتی تجربہ: کیسے واپس دلائے گئے 40 روپے


کچھ دن پہلے میرے نمبر پر "جاز پڑھو" کے نام سے کوئی سروس از خود ایکٹو ہو گئی۔ بیلنس میں ہونے والی غیر متوقع کمی نے مجھے حیران و پریشان کر دیا۔ میں نے فیصلہ کیا کہ اس بار خاموش تماشائی بننے کے بجائے اپنے حق کے لیے آواز اٹھاؤں گا۔


میں نے فوری طور پر جاز ہیلپ لائن 111 پر کال کی۔ پہلے نمائندے نے معاملے کو معمولی سمجھتے ہوئے روایتی طریقے سے نمٹانے کی کوشش کی۔ میں نے واضع کہا کہ مجھے سپروائزر سے بات کرنی ہے۔ ابتدا میں کچھ ٹال مٹول ہوئی، "سر سپروائزر مصروف ہیں"، "ہم دیکھ لیں گے"، وغیرہ۔ لیکن میں نے ہمت نہیں ہاری اور اصرار جاری رکھا۔


آخرکار کال سپروائزر تک پہنچی۔ میں نے پورے اعتماد اور سکون کے ساتھ اپنا موقف پیش کیا:


1. "جناب، جو سروسز آپ چارج کر رہے ہیں وہ میری طرف سے ایکٹو نہیں ہوئی ہیں۔"

2. "اگر میں نے کوئی لنک کلیک کیا ہو یا کوئی درخواست دی ہو تو اس کا ثبوت پیش کریں۔"

3. "اگر آپ کے پاس میرے ایکشن کا کوئی ثبوت نہیں ہے، تو یہ چارجز ناجائز ہیں۔"

4. "اگر آپ نے فوری طور پر میرے پیسے واپس نہیں کیے تو میں کنزیومر کورٹ کا راستہ اختیار کروں گا۔"


کنزیومر کورٹ کا ذکر سنتے ہی نمائندے کے لہجے میں فوری تبدیلی آئی۔ چند منٹ کی بحث کے بعد اس نے کہا: "ٹھیک ہے، میں ریفنڈ کی درخواست ڈال رہا ہوں… آدھے گھنٹے میں آپ کو بیلنس واپس مل جائے گا۔"


تقریباً ایک گھنٹے بعد جب میں نے بیلنس چیک کیا تو واقعی 40 روپے واپس آ چکے تھے۔


بات چالیس روپے کی نہیں، اصولوں کی ہے


یہ معاملہ محض 40 روپے کی واپسی کا نہیں تھا۔ یہ ایک پرچے کی لڑائی تھی۔ اس بات کا اثبات تھا کہ اگر صارف اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھائے تو انصاف مل سکتا ہے۔ ہم اپنے مشکل سے کمائے ہوئے پیسے ان لوٹیروں کو کیوں دیں؟ ہماری خاموشی اور بے حسی ہی ان کمپنیوں کی ڈھٹائی کو مضبوط بناتی ہے۔ یہ سلسلہ صرف جاز تک محدود نہیں، بلکہ یہ ایک قومی المیہ بن چکا ہے جہاں تمام ٹیلی کام آپریٹرز اسی طرح کے ناجائز طریقوں سے صارفین کا استحصال کر رہے ہیں۔


آپ بھی اپنے حق کے لیے اٹھیں: یہ ہے مکمل گائیڈ


اگر آپ کے موبی لنک نمبر سے بھی کوئی ناجائز چارجز ہو رہے ہیں تو مایوس نہ ہوں۔ مندرجہ ذیل آسان سے اقدامات پر عمل کر کے آپ بھی اپنا حق واپس لے سکتے ہیں:


1. ہیلپ لائن پر کال کریں: جاز ہیلپ لائن 111 پر کال کریں۔

2. آپشن منتخب کریں: نمائندہ سے بات کرنے کے لیے 2 کا آپشن منتخب کریں۔

3. سپروائزر تک پہنچیں: کچھ سیلف سروس آپشنز کے بعد 7 پریس کر کے 0 دبا دیں۔ پھر نمائندہ سے بات کرنے کے لیے 1 ملائیں۔

4. اپنا معاملہ پیش کریں: جب نمائندہ فون اٹھائے، اپنا مسئلہ واضع اور پراعتماد طریقے سے بیان کریں۔

5. سپروائزر کا نام لیں: اگر نمائندہ تعاون نہ کرے یا معاملہ حل کرنے میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کرے، تو فوری طور پر اس کا نام پوچھیں اور سپروائزر پر کال ٹرانسفر کروائیں۔

6. سکون سے اپنا کیس پیش کریں: سپروائزر سے بات کرتے وقت ہائپر یا جذباتی ہونے کے بجائے پُرسکون اور پر اطمینان رہیں۔ اپنی بات منطق اور ثابت قدمی کے ساتھ پیش کریں۔

7. ثبوت مانگیں: واضع کہیں کہ اگر ان کے پاس آپ کی جانب سے سروس ایکٹیویٹ کرنے کا کوئی ثبوت (جیسے ایس ایم ایس یا کال ریکارڈ) نہیں ہے، تو چارجز واپس کرنے ہوں گے۔

8. کنزیومر کورٹ کا ذکر کریں: اگر معاملہ حل نہ ہو تو کنزیومر کورٹ کے جانے کا ذکر ضرور کریں۔ یہ ایک طاقتور حربہ ثابت ہوتا ہے۔


نتیجہ


حقوق کی جنگ میں جدوجہد ہی کامیابی کی کنجی ہے۔ حق کبھی بھی بغیر مطالبہ کے نہیں دیا جاتا، اسے حاصل کرنا پڑتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں یہ سوچ پروان چڑھانی ہوگی کہ ہم اپنے استحصال کے خلاف آواز بلند کریں۔ صرف شکایت کرنے کے بجائے عملی اقدام کریں۔ یاد رکھیں، آپ کی ایک کال نہ صرف آپ کے چند روپے بچا سکتی ہے بلکہ اس سے ایک ایسی روایت قائم ہوتی ہے جس کے مثبت اثرات ہمارے پورے معاشرے پر مرتب ہوں گے۔


ہر صارف کا یہ فرض بنتا ہے کہ وہ نہ صرف اپنے حقوق کے لیے کھڑا ہو، بلکہ دوسرے صارفین کو بھی اس کے لیے آگاہی اور ہمت فراہم کرے۔ تبھی جا کر ہم ایک منصفانہ صارفی معاشرہ قائم کر سکیں گے۔


---


تحریر: جمال عبقری


موبائل فون سے جاز کا بیلنس اچانک غائب ہونے کی وجوہات اور تحفظ کے طریقے


تعارف


موبائل فون کا بیلنس اچانک غائب ہوجانا پاکستان میں جاز صارفین کے لیے ایک عام مسئلہ بن چکا ہے۔ یہ صورتحال صارفین کو مالی طور پر نقصان پہنچانے کے ساتھ ساتھ ان کے روزمرہ کے مواصلاتی نظام میں بھی خلل ڈالتی ہے۔ بیلنس غائب ہونے کے پیچھے کئی وجوہات ہوسکتی ہیں، جن میں سے کچھ صارف کی اپنی غلطی سے ہوتی ہیں تو کچھ سسٹم میں خرابی یا دھوکہ دہی کی کارروائیوں کا نتیجہ ہوتی ہیں۔


بیلنس غائب ہونے کی وجوہات


1. خودکار سبسکرپشنز اور چالاک مارکیٹنگ


جاز کے صارفین اکثر اس بات سے بے خبر ہوتے ہیں کہ وہ کسی سروس کو سبسکرائب کرچکے ہیں جس کی فیس ہر ہفتے یا مہینے خودکار طور پر کٹتی رہتی ہے۔ یہ سبسکرپشنز کئی طریقوں سے ہوسکتی ہیں:


· غیر ارادی طور پر ایس ایم ایس بھیجنا: بعض اوقات صارف کسی نمبر پر خالی میسج بھیج دیتا ہے جو درحقیقت کسی سروس کی سبسکرپشن کا کوڈ ہوتا ہے۔

· مشتہر کالز: مارکیٹنگ کالز میں صارف سے ہاں کہلوایا جاتا ہے جو سروس سبسکرپشن کی توثیق سمجھی جاتی ہے۔

· ایپ ڈاؤنلوڈ: مفت ایپس ڈاؤنلوڈ کرتے وقت چھپے ہوئے شرائط میں موبائل بیلنس سے ادائیگی کی اجازت شامل ہوتی ہے۔


2. سکیورٹی کی خلاف ورزی اور ہیکنگ


سائبر جرائم میں اضافے کے ساتھ موبائل اکاؤنٹس ہیک ہونے کے واقعات بڑھ رہے ہیں:


· فشنگ حملے: جعلی ایس ایم ایس یا ای میلز کے ذریعے صارف کے ذاتی ڈیٹا حاصل کرلینا۔

· میلویئر اور اسپائی ویئر: غیر معیاری ایپس یا لنکس کے ذریعے فون میں میلویئر انسٹال ہوجانا جو صارف کی موبائل معلومات چرا لیتا ہے۔

· سوشل انجینئرنگ: صارف کو فون کرکے یا میسج بھیج کر حساس معلومات حاصل کرنا۔


3. سسٹم میں تکنیکی خرابیاں


جاز کے اپنے سسٹم میں کچھ تکنیکی مسائل بھی بیلنس غائب ہونے کا سبب بن سکتے ہیں:


· سافٹ ویئر بگز: بلنگ سسٹم میں موجود خامیاں جو غلط طور پر بیلنس کٹتی ہیں۔

· نیٹ ورک ایرر: ڈیٹا ٹرانسمیشن کے دوران ہونے والی غلطیاں۔

· سسٹم اپڈیٹ: نئے سسٹم اپڈیٹس کے بعد آنے والی غیر متوقع خرابیاں۔


4. چوری یا گمشدہ فون


فون چوری ہوجانے یا گم ہوجانے کی صورت میں:


· سِم سوئپنگ: چور نئی سِم لے کر آپ کے نمبر پر کنٹرول حاصل کرسکتا ہے۔

· آن لائن سروسز کا غلط استعمال: اگر فون میں بائیومیٹرک لاک نہیں ہے تو چور آپ کے اکاؤنٹس تک رسائی حاصل کرسکتا ہے۔


5. بچوں یا فیملی ممبرز کی غیر ارادی سرگرمیاں


گھر میں بچوں کے ہاتھ فون لگ جانے سے:


· غیر ارادی کالز: بین الاقوامی نمبروں پر لمبی کالز۔

· غیر ضروری سبسکرپشنز: گیمز یا ایپس میں خریداری۔

· پریمیم ریٹ نمبرز: مہنگے ریٹ والے نمبروں پر میسج یا کالز۔


6. جاز کے اپنے چارجز اور فیسز


بعض اوقات صارف جاز کے اپنے چارجز سے واقف نہیں ہوتا:


· ڈیٹا چارجز: ڈیٹا لیمٹ ختم ہونے کے بعد کے اضافی چارجز۔

· بین الاقوامی کالز اور رومنگ: بیرون ملک کالز یا رومنگ کی مہنگی فیسز۔

· سروس فیسز: مختلف سروسز کے لیے ماہانہ فیسز۔


7. دھوکہ دہی کی اسکیمیں


سکیم باز افراد نئے نئے طریقے ایجاد کرتے رہتے ہیں:


· فری ڈیٹا یا منیٹس کے نام پر: صارف سے کوڈ یا ذاتی معلومات حاصل کرنا۔

· انعامات جیتنے کے نام پر: جعلی انعامات کے بدلے صارف سے پیسے یا معلومات حاصل کرنا۔


بچاؤ کے طریقے اور احتیاطی تدابیر


1. سبسکرپشنز کی نگرانی


· سبسکرپشن چیک کریں: *345# ڈائل کرکے اپنی فعال سبسکرپشنز چیک کریں۔

· غیر ضروری سبسکرپشنز کینسل کریں: فوری طور پر تمام غیر ضروری سروسز منسوخ کردیں۔

· سیلف سروس ایپ: جاز سیلف سروس ایپ انسٹال کریں اور اپنے سبسکرپشنز مینج کریں۔


2. سکیورٹی اقدامات


· سٹرانگ پاسورڈز: اپنے موبائل اکاؤنٹس کے لیے مضبوط پاسورڈز استعمال کریں۔

· بائیومیٹرک لاک: فون پر انگلیوں کے نشان یا چہرے کی پہچان کا لاک لگائیں۔

· دو مرحلہ توثیق: جہاں ممکن ہو دو مرحلہ والی توثیق (2FA) فعال کریں۔


3. باقاعدہ چیکنگ


· بیلنس چیک: روزانہ اپنا بیلنس چیک کرنے کی عادت بنائیں۔

· کسٹمر کیئر سے رابطہ: کسی بھی غیر معمولی صورتحال پر فوری طور پر 111 سے رابطہ کریں۔

· بیلنس الرٹس: کم بیلنس پر الرٹ حاصل کرنے کے لیے سروس فعال کریں۔


4. تعلیم اور آگاہی


· خاندانی ممبروں کو آگاہ کریں: خصوصاً بچوں کو بتائیں کہ کونسی چیزیں نہیں کرنیں۔

· دھوکہ دہی کی اسکیموں سے آگاہ رہیں: نئے دھوکوں سے متعلق معلومات حاصل کرتے رہیں۔

· جاز کی باقاعدہ معلومات پڑھیں: جاز کی ویب سائٹ پر موجود حفاظتی ہدایات کا مطالعہ کریں۔


5. تکنیکی حل


· اینٹی وائرس سافٹ ویئر: اپنے فون پر معیاری اینٹی وائرس سافٹ ویئر انسٹال کریں۔

· اپڈیٹس: آپریٹنگ سسٹم اور ایپس کو ہمیشہ اپ ٹو ڈیٹ رکھیں۔

· بیک اپ: اپنے ڈیٹا کا باقاعدہ بیک اپ لیں۔


مسئلہ حل کرنے کے طریقے


اگر آپ کا بیلنس غائب ہوجائے تو:


1. فوری طور پر 111 پر کال کریں: صارف سروس سے رابطہ کریں اور شکایت درج کروائیں۔

2. شکایت نمبر نوٹ کریں: شکایت کا نمبر لازمی نوٹ کریں۔

3. **جاز شاپ پر جائی

Visit Home Page