یہ ہند فری کیوں بہتر
بسم اللہ الرحمن الرحیم
عنوان: ایک صارف کی صوتی آلات کے سفر کی کہانی: اورائیمو نک بینڈ کا حتمی حل
انسانی زندگی میں ٹیکنالوجی کے ادخال نے جہاں بے پناہ سہولیات پیدا کی ہیں، وہیں کچھ نئے قسم کے سماجی مسائل بھی جنم دیے ہیں۔ انہی مسائل میں سے ایک ہے عوامی مقامات پر موبائل فون کے غیر مناسب استعمال سے پیدا ہونے والی شرمناک صورت حال۔ میری اپنی زندگی کا ایک واقعہ اس کی بھرپور عکاسی کرتا ہے۔
وہ یادگار (یا پھر شرمناک) واقعہ
بالکل ٹھیک ایک سال پہلے کی بات ہے۔ ہم ایک فاتحہ خوانی کے لیے بیٹھے تھے۔ ایسے مجمعوں میں عموماً رسمی بات چیت کے بعد ایک عجیب سا خاموشی کا لمحہ طاری ہو جاتا ہے، جسے پُر کرنے کے لیے لوگ اپنے اپنے موبائل فونز میں مصروف ہو جاتے ہیں۔ ہوا بھی کچھ یوں ہی۔ ایک موصوف نے اپنا اسمارٹ فون نکالا اور بے ساختہ ہی فیس بک ایپ کو اوپن کر دیا۔ فیس بک کا آٹو پلے فیچر آن تھا اور اسی لمحے ایک ویڈیو بغیر کسی انتباہ کے بجلی کی طرح چل نکلی۔ ویڈیو میں ایک عورت اپنے جذبات کا اظہار کر رہی تھی، اور اس کا جملہ تھا: "میرا خاوند تو رات بھر مجھے گھوڑی بنائے رکھتا ہے"۔
وہاں موجود آدھی درجن افراد کا مجمع جو ایک لمحے پہلے تک خاموشی اور سکون کا مرقع تھا، اچانک اس غیر متوقع اور شرمناک آواز سے دوچار ہو گیا۔ ہر طرف ایک عجیب سی بیچینی پھیل گئی۔ کسی کی آنکھوں میں حیرت تھی، تو کسی کے چہرے پر شرمندگی کے آثار۔ لیکن سب سے زیادہ جو حالت ہوئی وہ موبائل والے موصوف کی تھی۔ ان کا چہرہ فق کی سرخی سے دوچار ہو گیا، ہاتھ کانپنے لگے، اور وہ ویڈیو بند کرنے کی کوشش میں ایسے گھبرائے جیسے کوئی بڑا جرم کر بیٹھے ہوں۔ وہ لمحات ان کے اور موجودہ لوگوں کے لیے لمحاتِ عذاب بن گئے۔ یہ کیفیت بیان سے باہر تھی۔
احتیاطی تدابیر کا پہلا دور: ڈیجیٹل پابندیاں
اس واقعے نے مجھے گہرائی سے سوچنے پر مجبور کر دیا۔ میں نے فیصلہ کیا کہ اب ایسے واقعات کو دوبارہ رونما ہونے سے بچانا ہے۔ چنانچہ میں نے کچھ احتیاطی تدابیر اختیار کیں:
1. فیس بک کا آٹو پلے بند کرنا: سب سے پہلے میں نے فیس بک اور دیگر سوشل میڈیا ایپس کا آٹو پلے ویڈیو کا فیچر مستقل طور پر بند کر دیا۔ اب ویڈیوز خود بخود نہیں چلتی تھیں، جس سے ایک بڑا خطرہ ٹل گیا۔
2. والیوم کو کم رکھنا: میں نے ہمیشہ اپنے فون کی والیوم بہت کم رکھنے کی عادت اپنا لی، تاکہ اگر کوئی ویڈیو چل بھی جائے تو اس کی آواز زیادہ لوگوں تک نہ پہنچ سکے۔
3. عوامی مقامات پر استعمال میں احتیاط: میں نے ایسے اجتماعی اکٹھوں میں موبائل فون استعمال کرنے سے گریز کرنا شروع کر دیا۔ اگر استعمال کرنا بھی ہوتا تو انتہائی احتیاط اور چھپ کر کیا کرتا۔
لیکن جلد ہی یہ احتیاطی تدابیر ایک بوجھ محسوس ہونے لگیں۔ فون کو ہر وقت خاموش یا کم والیوم پر رکھنا، ہر وقت اس خوف میں گزارنا کہ کہیں کوئی آواز نہ نکل آئے، یہ سب ذہنی دباؤ کا باعث بن رہا تھا۔ مجھے ایسے حل کی ضرورت تھی جو مجھے مکمل پرائیویسی فراہم کرے، بغیر کسی ڈر کے میں اپنے فون کا استعمال کر سکوں۔
دوسرا دور: ہیڈ فون اور ایئر بڈز کا تجربہ
1. Mi کے ایئر بڈز: پہلا حل جو میرے ذہن میں آیا وہ تھا وائر لیس ایئر بڈز کا۔ میں نے Xiaomi کے ایئر بڈز خریدے۔ یہ چھوٹے تھے، پورٹیبل تھے، اور آواز بھی اچھی تھی۔ لیکن ایک نیا مسئلہ درپیش آیا: میری بھولنے کی عادت۔ کئی بار میں انہیں کان سے اتار کر کہیں رکھ دیتا اور پھر بھول جاتا۔ بعد میں انہیں ڈھونڈنے کی دوڑ لگتی، جو ایک نئی پریشانی کا باعث بنتی۔ کبھی وہ میز کے نیچے ملتے، تو کبھی بیگ کی کسی پوشیدہ جیب میں۔ یہ سلسلہ اتنا تکلیف دہ ہوا کہ انہیں استعمال کرنے کا حوصلہ پست ہونے لگا۔
2. لوکل نک بینڈز کا تجربہ: ایئر بڈز کے ضائع ہونے کے خوف نے مجھے نک بینڈز کی طرف متوجہ کیا۔ یہ گردن میں پہنے جاتے ہیں اور استعمال نہ ہونے پر بھی گردن میں لٹکے رہتے ہیں، جس سے ان کے گم ہونے کا خدشہ کم ہو جاتا ہے۔ میں نے مارکیٹ سے مختلف لوکل اور سستی کمپنیوں کے آدھے درجن سے زائد نک بینڈز خرید کر آزمانے شروع کیے۔
ان کے نتائج مایوس کن تھے:
· ساؤنڈ کوالٹی: آواز یا تو بہت پتلی اور بے جان تھی، یا پھر بہت زیادہ بھرائی ہوئی اور ڈسٹورٹ ہوتی تھی۔ نہ ہی باس ٹھیک تھا، نہ ہی کلیریٹی۔
· بیٹری لائف: دعووں کے برعکس، ان کی بیٹری بمشکل ایک سے دو دن چلتی تھی۔ کئی بار تو بات چیت کے درمیان ہی "لو بیٹری" کی وارننگ آنے لگتی۔
· کال کوالٹی: کال کے دوران مخالف فریق کو میری آواز میں شور یا دوری کا احساس ہوتا، جس سے بات چیت متاثر ہوتی تھی۔
1. Beme کے نک بینڈز: اس کے بعد میں نے نسبتاً بہتر برانڈ سمجھے جانے والے Beme کے نک بینڈز منگوائے۔ ان کی پرفارمنز پچھلے والوں سے بہتر تھی، لیکن پھر بھی وہ میری توقعات پر پورا نہ اتر سکے۔ خاص طور پر بیٹری لائف نے دھوکہ دیا۔ ایک بار چارجنگ کے بعد وہ پورا دن بھی مشکل سے چل پاتے تھے، جبکہ مجھے ایک ایسے آلے کی ضرورت تھی جو بار بار چارج کرنے کی زحمت سے آزاد رکھے۔
یہ سارے تجربات مجھے مایوسی کے گڑھے میں دھکیل رہے تھے۔ ایسا لگ رہا تھا کہ یا تو میں شرمندگی کو قبول کر لوں، یا پھر بھولنے کی عادت، یا پھر ناقص معیار کے آلات کے ساتھ مصالحہ کر لوں۔
تیسرا اور آخری دور: اورائیمو نک بینڈ کا انقلاب
کئی ماہ کی اس جدوجہد کے بعد، پچھلے کچھ مہینوں پہلے، فیس بک پر مجھے اورائیمو (Oraimo) برانڈ کے ایک نک بینڈ کا اشتہار دکھائی دیا۔ یہ ایک سافٹ بیسڈ نک بینڈ تھا، جس کی خاص بات اس کا آرام دہ ڈیزائن اور طویل بیٹری لائف بتائی جا رہی تھی۔ قیمت تقریباً 2800 روپے تھی۔ ماضی کے تلخ تجربات کے بعد تھوڑا سا ہچکچاتے ہوئے، میں نے اسے آرڈر کرنے کا فیصلہ کیا۔
جب یہ آلہ میرے ہاتھ لگا، تو پہلی بار مجھے محسوس ہوا کہ شاید میں نے اپنا مطلوبہ پراڈکٹ ڈھونڈ لیا ہے۔ اس کے استعمال نے میرے تمام مسائل کا حل پیش کر دیا۔
اورائیمو نک بینڈ کی نمایاں خصوصیات:
1. زبردست بیٹری لائف: یہ اس آلے کی سب سے بڑی خاصیت ہے۔ میں اسے ہفتے میں صرف ایک بار چارج کرتا ہوں، اور پھر پورا ہفتہ بغیر کسی رکاوٹ کے استعمال کرتا ہوں۔ چاہے میں گانے سنوں، ویڈیوز دیکھوں، یا کالز کروں، بیٹری نے کبھی ساتھ نہیں چھوڑا۔ یہ خصوصیت اسے دوسرے تمام آلات سے یکسر مختلف اور برتر ثابت کرتی ہے۔
2. شاندار ساؤنڈ کوالٹی: آواز صاف، توانا اور متوازن ہے۔ باس کی کارکردگی بہترین ہے، اور ہر ساز کی آواز الگ سنائی دیتی ہے۔ موسیقی سننا ایک پرلطف تجربہ بن جاتا ہے۔
3. غیر معمولی کال کوالٹی: کال کے دوران سننے اور بولنے دونوں میں حیرت انگیز کلیریٹی ہے۔ میں ہر لفظ صاف سن سکتا ہوں، اور دوسری طرف سے لوگ میری آواز اس قدر صاف سنتے ہیں کہ انہیں احساس تک نہیں ہوتا کہ میں نے کوئی ایکسسری لگا رکھا ہے۔ یہ اس آلے کی سب سے متاثر کن خصوصیت ہے۔
4. مثالی ڈیزائن اور فٹ: یہ نک بینڈ نہ تو بہت بڑا اور بھدا ہے، نہ ہی بہت چھوٹا کہ گم ہونے کا خدشہ ہو۔ یہ گردن میں اس طرح بیٹھ جاتا ہے کہ اس کا احساس تک نہیں ہوتا۔ نہ یہ بوجھل لگتا ہے، نہ ہی کوئی ڈر کہ گر جائے گا۔ سافٹ بیس کی وجہ سے یہ گردن کو بھی کوئی تکلیف نہیں دیتا۔
5. آسانی اور سہولت: اسے گردن میں پہن کر میں اپنے تمام کام باآسانی کر سکتا ہوں۔ فون جیب میں ہے، اور میں دنیا سے بے خبر اپنی پسند کی آوازوں میں محو ہوں۔ گم ہونے کا خوف تقریباً ختم ہو گیا ہے۔
نتیجہ اور سفارش
میرا ٹیکنالوجی کے ساتھ یہ سفر، جو ایک شرمناک واقعے سے شروع ہوا تھا، اورائیمو نک بینڈ پر آ کر ایک پر سکون موڑ پر پہنچا ہے۔ اس آلے نے نہ صرف میری پرائیویسی کو یقینی بنایا ہے بلکہ موسیقی اور مواصلات کے معیار کو بھی بہتر بنا دیا ہے۔
اگر آپ بھی فضول چائنا کمپنیوں کے ناقص معیار کے آلات پر پیسے ضائع کر چکے ہیں، بھولنے کی عادت کی وجہ سے ایئر بڈز گم کر چکے ہیں، یا عوامی مقامات پر شرمندگی کے خوف میں زندگی گزار رہے ہیں، تو میں آپ کو مخلصانہ مشورہ دوں گا کہ اورائیمو نک بینڈ کو ایک بار ضرور آزمائیں۔
یہ صرف ایک پراڈکٹ نہیں، بلکہ ایک حل ہے۔ یہ آپ کے پیسے کی قدر کرتا ہے اور آپ کے وقت کو ضائع ہونے سے بچاتا ہے۔ اس ایک چھوٹے سے آلے نے میرے روزمرہ کے ٹیکنالوجی کے تجربے کو بدل کر رکھ دیا ہے، اور میرا یقین ہے کہ اگر آپ اسے استعمال کریں گے تو آپ بھی اپنے مسائل کا ایک مستقل حل پا سکیں گے۔
اللہ حافظ۔



0 Comments
Post a Comment