بھارت ، افغانستان اور پاکستان — ایک نیا جنگی فرنٹ

بھارت ، افغانستان اور پاکستان — ایک نیا جنگی فرنٹ

اشاعت کی تاریخ: • زمرہ: تجزیہ

بھارت طالبان سے کہ رہا تھا کہ ویسٹرن فرنٹ سے اب تم گولی چلاؤ۔ ایک ہی فرنٹ سے ڈائریکٹ full fledged conventional war ہمارے لیے کافی challenging رہی ہے۔ پاکستان کی بھارت کے اندر مبینہ پراکسی کارروائیوں کے جواب میں بھارت کا حالیہ جنگی تجربہ ناکام ہوا ہے، سرجیکل سٹرائیکس اور ٹارگٹڈ میزائل حملوں کے جواب میں انہیں فضائی جنگ میں شکست اور عالمی رسوائی کا سامنا کرنا پڑا۔

بھارت پاکستان پر امریکہ و اسرائیل کی سنت پر عمل کرتے ہوئے فضائی حملے کر کے neo normal بنانا چاہتا تھا اور ستر کی conventional war کی یاد تازہ کرنا چاہتا تھا مگر وہ دن گئے جب خلیل میاں فاختائیں اڑایا کرتے تھے۔ “اور پھر پاکستان نے ہم پہ ہی حملے کر دیا” — یہ بیانیہ بھارت نے استعمال کیا تاکہ پاکستان کو دہشتگردوں پراکسیوں کی حمایت اور پشت پناہی کے الزام میں غزہ جیسا منظر نامہ دکھا سکے، مگر اس میں انہیں کامیابی نہیں ملی۔ نہ کوئی بڑا ٹارگٹ حاصل کیا جا سکا۔

تو اس کے بعد بھارت کے پاس ایک آپشن باقی رہ گیا ہے: پاکستان ہی کی طرح low-cost war لڑو — پراکسی استعمال کرو، طالبان کو استعمال کروں، guerilla war یا militancy کو ہوا دو۔

اس لیے بھارت جنگ کو stretch کر کے پاکستان کو multiple fronts engagements کے ساتھ سبق سکھانا چاہتا ہے۔ پاکستان ویسٹ سے افغانستان، طالبان اور ٹی ٹی پی جیسے اپنی سابقہ پراکسیوں سے انگیج ہو گا۔ اندر سے بلوچ انسرجنسی کو بھی سپورٹ ملتی رہے گی۔ ایسٹرن فرنٹ سے "آپریشن سندور 2.0" لانچ کریں گے — جس کے بارے میں ریاستی سٹیک ہولڈرز کے بیانات آچکے ہیں کہ سندور جاری ہے، صرف سیز فائر ہوا ہے۔

ایسے میں پاکستان پہلے ہی سیاسی افراتفری کا شکار ہے، فوج غیر مقبول ہے تو اسے نقصان پہنچ سکتا ہے۔ بھارت کی strategic establishment کہ رہی کہ پاکستان کا ایک لاکھ کلومیٹر قبضہ کر لو، پاکستان کچھ نہیں کر پائے گا — یہ ایٹمی طاقت محض ایک blackmailing tool ہے؛ ان کے نزدیک حقیقی ایٹمی خطرہ نہیں۔

طالبان کی بات کی جائے تو امریکہ اور پاکستان اور سعودی عرب نے مل کر انہیں بنایا۔ یہی گروہ اب پاکستان کے خلاف استعمال ہو سکتے ہیں — سابقہ جرنیلوں کی ناکام، self-serving پالیسیاں اس صورتحال میں مددگار ثابت ہوئی ہیں۔

اب سیکولر بھارت کی طرف سے طالبان کے ساتھ ملٹری ارینجمنٹ مضبوط ہوتی جا رہی ہے۔ بھارت ممکنہ طور پر اسلحہ فراہم کر سکتا ہے — امریکہ کا چھوڑا ہوا ایک بڑا ہارڈویئر بھی ہاتھ آ چکا ہے۔ طالبان، اگرچہ ریاست پر قابض ہیں، منتخب نہیں اور مکمل عوامی اعتماد نہیں رکھتے۔ یہ مختلف عسکری، قبائلی اور جرائم پیشہ گروہوں کا مجموعہ ہیں — ان کو بطور پراکسی استعمال کرنا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ انہیں کنٹرول کرنا مشکل ہے۔

اصل میں یہ جنگ پیسے، طاقت اور کنٹرول کی ہے — مذہب کے نام پر بھی یہ لوٹ مار، ہتھیاروں کی تجارت اور شراکت داری کی لڑائی ہے۔ اسی پس منظر میں پاکستانی عسکری قیادت کے لیے بھی بجٹ اور سیاسی کنٹرول بڑھانے کے مواقع پیدا ہوتے ہیں۔

خلاصہ یہ کہ: علاقائی سیاست میں پراکسیز، ملٹری ارینجمنٹس اور داخلی سیاسی کمزوریاں ایک پیچیدہ تصویر تشکیل دے رہی ہیں — جسے سمجھنے اور سنبھالنے کے لیے محتاط، دوراندیش اور حقیقت پسندانہ حکمتِ عملی ضروری ہے۔

نوٹ: یہ تجزیاتی تحریر مصنف کے خیالات کی نمائندگی کرتی ہے۔ اگر آپ چاہیں تو میں اسی متن کا مناسب خلاصہ، سوشل پوسٹ یا اردو/انگلش ورژن بھی بنا دوں گا۔