پاکستان کا ہائپر سونک میزائل تجربہ — حقائق اور تجزیہ
28 اکتوبر 2025 کو پیش آنے والے واقعے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات
واقعے کا پس منظر
28 اکتوبر 2025 کی صبح 5:30 بجے پاکستان کی جانب سے ایک ایسے میزائل نظام کا مبینہ تجربہ کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئیں جسے دفاعی ماہرین Hypersonic Re-entry Vehicle (HGV) قرار دے رہے ہیں۔
اس تجربے کی سرکاری سطح پر اب تک کوئی تصدیق نہیں کی گئی، لیکن فضائی حدود کی بندش، زمینی شواہد، آسمانی نشانات اور بین الاقوامی فوجی سرگرمیوں نے اس واقعے کو خاصا واضح کر دیا ہے۔
اہم مشاہدات
اُس روز پاکستان کی فضائی حدود میں پروازوں کی معطلی کا NOTAM جاری ہو چکا تھا۔ یہ عام طور پر اُس وقت کیا جاتا ہے جب میزائل یا ہتھیاروں کے کسی تجربے کا امکان ہو۔
عین اسی وقت بحیرۂ عرب میں امریکہ کا میزائل ٹریکنگ طیارہ U.S. Air Force Boeing RC-135S "Cobra Ball" پاکستان کی فضائی حدود کے عین باہر موجود تھا۔
واقعے کے حقائق
| واقعے کے پہلو | دعوے/مشاہدات | ثبوت/تصدیق | تجزیہ/حقیقت |
|---|---|---|---|
| تاریخ و وقت | 28 اکتوبر 2025 صبح 5:30 سے 6:00 | نوٹم (NOTAM) جاری | فضائی حدود میں عارضی تبدیلی کی اطلاع |
| آسمانی مظہر | دھوئیں کے راستے، زگ زیگ پیٹرن | پاکستان محکمہ موسمیات (PMD) کی وضاحت: "لینٹیکیولر کلاؤڈ" | ایک قدرتی موسمی مظہر، میزائل تجربہ نہیں |
| سرکاری موقف | ہائپر سونک میزائل تجربے کی افواہیں | آئی ایس پی آر یا وزارت دفاع کی جانب سے کوئی تصدیق نہیں | سرکاری اداروں نے اس تجربے کی کوئی تصدیق نہیں کی |
| سائنسی وضاحت | میزائل کے دھوئیں کا راستہ سمجھا گیا | موسمیاتی ماہرین: "لینٹیکیولر کلاؤڈ فارمیشن" | پہاڑی خطوں میں ہوا کے دباؤ اور درجہ حرارت سے بننے والے بادل |
| ثانوی ثبوت | زمینی ملبہ، امریکی تجسس طیارہ | کوئی سرکاری یا آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں | صارف کے بیان کے مطابق، سرکاری طور پر ثابت نہیں |
ہائپر سونک ٹیکنالوجی کیا ہے؟
ہائپر سونک میزائل وہ ہوتے ہیں جو آواز کی رفتار سے پانچ گنا یا اس سے زیادہ تیزی سے سفر کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہ بنیادی طور پر دو اقسام کے ہوتے ہیں:
بوسٹ گلائیڈ وہیکل (BGV)
یہ ایک راکٹ کی مدد سے فضا میں بلند ہوتے ہیں اور پھر انتہائی تیز رفتاری سے اپنے ہدف کی طرف پلٹتے ہیں۔
ہائپر سونک کروز میزائل
یہ زمین کے قریب ہی پرواز کرتے ہیں تاکہ دشمن کے ریڈار سے بچ سکیں۔
ہائپر سونک میزائل کی خصوصیات:
- آواز کی رفتار سے 5 گنا یا زیادہ تیز
- دشمن کے دفاعی نظام سے بچنے کی صلاحیت
- ہدف کو نشانہ بنانے کی اعلیٰ درستگی
- طویل فاصلے تک حملہ کرنے کی صلاحیت
عالمی منظر نامہ
خطے اور دنیا میں ہائپر سونک ٹیکنالوجی کا موجودہ منظر نامہ درج ذیل ہے:
- چین: DF-17 میزائل کے ذریعے اس میدان میں سب سے آگے ہے۔
- روس: 'ایون گارڈ' میزائل کے ساتھ اس دوڑ میں شامل ہے، جو آواز سے 27 گنا تیز رفتار ہونے کا دعویٰ کرتا ہے۔
- شمالی کوریا: 2024 میں ٹھوس ایندھن والے ہائپر سونک میزائل کا کامیاب تجربہ کرچکا ہے۔
- ایران اور اسرائیل: بھی ہائپر سونک ہتھیار رکھنے یا تیار کرنے کا دعویٰ کرچکے ہیں۔
- پاکستان: ماضی میں چین سے ایچ ڈی 1 نامی سپر سونک میزائل خریدنے کے امکان کی اطلاعات گردش کرچکی ہیں، لیکن ہائپر سونک میزائل کے حوالے سے کوئی سرکاری اعلان سامنے نہیں آیا۔
نتیجہ اور حتمی بات
28 اکتوبر 2025 کو پاکستان میں ہائپر سونک میزائل کے تجربے کے بارے میں جو اطلاعات گردش کر رہی ہیں، فی الحال ان کی کوئی سرکاری یا حتمی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔ تمام تر مبصرانہ بیانات کے باوجود، سرکاری ذرائع کی خاموشی اور محکمہ موسمیات کی جانب سے اس واقعے کی قدرتی وضاحت اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ یہ محض ایک قدرتی مظہر تھا، نہ کہ کوئی فوجی تجربہ۔
ہائپر سونک ٹیکنالوجی ایک انتہائی جدید اور مہنگی ٹیکنالوجی ہے جس پر فی الحال صرف چند ممالک کا اجارہ ہے۔ پاکستان اگر اس ٹیکنالوجی کو حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو یقیناً یہ خطے کے دفاعی توازن کو متاثر کرے گا، لیکن جب تک اس حوالے سے سرکاری طور پر کوئی اعلان نہیں ہوتا، اس بارے میں حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا۔



0 Comments
Post a Comment