سائنس میں چین کا غلبہ یورپ کے لیے کیا معنی رکھتا ہے؟
ایک نئے سروے کے مطابق تحقیقات کے کلیدی شعبوں میں چین امریکہ کو پیچھے چھوڑ رہا ہے
"Scientia potestas est - علم طاقت ہے!"
تحقیقی منظر نامے کا بدلا ہوا نقشہ
فی الوقت عالمی تحقیقی منظر نامے کو ایک اہم موڑ کا سامنا ہے: "پروسیڈنگز آف دی نیشنل اکیڈمی آف سائنسز" (پی این اے ایس) میگزین میں شائع ہونے والے ایک نئے سروے کے مطابق، چینی سائنسدانوں نے 2023 میں اپنے امریکی ساتھیوں کے ساتھ تقریباً نصف تعاون میں پہلے ہی اہم کردار ادا کیا تھا۔
اور جب بات اہم بین الاقوامی مسائل کی ہو، تو اب چین تحقیقی ایجنڈا طے کرتا ہے۔
سائنسی طاقت کے نئے معیارات
حقیقی سائنسی طاقت کی عکاسی صرف باوقار روایتی اشاروں، نوبل انعامات یا اشاعت کی تعداد تک کی محدود نہیں ہے۔ چین کے عروج کو اب دوسرے معیارات سے بھی ناپا جاتا ہے۔
تقریباً 60 لاکھ تحقیقی مقالوں کے تجزیے سے پتہ چلتا ہے کہ 2023 میں امریکہ اور چینی مشترکہ مطالعات میں قیادت کی پوزیشنوں کا 45 فیصد چینی ہاتھوں میں تھا، جبکہ 2010 میں یہ شرح صرف 30 فیصد تھی۔
اعداد و شمار میں چین کا عروج
یورپ کے لیے مضمرات
📊 تحقیقی مقابلہ بازی کا نیا دور
چین کی تحقیق و ترقی میں تیزی سے ترقی، خاص طور پر مصنوعی ذہانت، سیمی کنڈکٹر، اور دیگر اسٹریٹجک شعبوں میں، یورپ کے لیے ایک چیلنج ہے۔ یورپی یونین کو اب اپنی تحقیق کی صلاحیتوں کو برقرار رکھنے کے لیے مزید سرمایہ کاری اور اصلاحات کی ضرورت ہے۔
🤝 تعاون کے نئے مواقع
چین کے سائنسی عروج کا مطلب ہے کہ یورپ کے پاس چینی سائنسدانوں اور تحقیقی اداروں کے ساتھ شراکت داری کے نئے مواقع ہیں۔ بین الاقوامی مشترکہ منصوبے دونوں فریقوں کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتے ہیں۔
💼 اقتصادی اور تجارتی اثرات
سائنس اور ٹیکنالوجی میں چین کی طاقت اسے عالمی معیشت میں زیادہ بااثر پوزیشن دیتی ہے، جس کا یورپ کی معیشت پر براہ راست اثر پڑ سکتا ہے۔
🌍 جیوپولیٹیکل تبدیلیاں
سائنسی برتری اکثر عالمی اثر و رسوخ سے جڑی ہوتی ہے۔ چین کا سائنسی عروج عالمی طاقت کے توازن کو تبدیل کر سکتا ہے، جس سے یورپ کو اپنی خارجہ پالیسیوں پر نظرثانی کرنی پڑ سکتی ہے۔



0 Comments
Post a Comment