This website under maintainnes daily base . This website under maintenance .we work on dilay .ویب سائٹ پر کام جاری روازنہ کی بنیاد پر ۔ پاکستان تین زائنسٹس کی زد پر

ADS1

پاکستان تین زائنسٹس کی زد پر

پاکستان تین زائنسٹس کی زد پر!!

پاکستان تین زائنسٹس کی زد پر!!

پاکستان کے خلاف تین نظریاتی دشمنوں کی سازشیں

تحریر: شاہد خان
1

گریٹر اسرائیل

نیتھن یاہو اور بہت سے انتہا پسند یہودی یہ یقین رکھتے ہیں کہ جب تک اسرائیل کا رقبہ اتنا بڑا نہیں کیا جاتا جتنا موسی علیہ السلام کے دور میں تھا تب تک انکا مسیحا نہیں آئیگا۔ اسرائیل کو مدینہ تک پھیلایا جائے تو مسیحا آئیگا جس کے بعد دنیا پر یہودیوں کا غلبہ ہوجائیگا۔

یہ عقیدہ رکھنے والے یہودی زائنسٹ کہلاتے ہیں۔ سعودی عرب کو ہڑپنے کے لیے پاکستان نامی خطرے کا خاتمہ ضروری ہے اور اب تو مزید ضروری ہوگیا ہے کیونکہ وہ سعودی عرب کے ساتھ اسرائیل کے خلاف دفاعی اتحاد بھی بنا چکا ہے۔ اسی لیے اسرائیل پاکستان کے خلاف ہمیشہ انڈیا کا ساتھ دیتا ہے۔

گریٹر اسرائیل کا نظریاتی نقشہ
2

اکھنڈ بھارت

ہندو انتہاپسند وہ بھارت دوبارہ بنانا چاہتے ہیں جو ڈھائی ہزار سال قبل اشوکا کے دور میں تھا۔ ان کے پاسپورٹ پر تین شیروں کا نشان اور جھنڈے پر پہیے کا نشان اسی اکھنڈ بھارت کی علامات ہیں۔ اس کے لیے پاکستان کو دوبارہ انڈیا میں ضم کرنا ضروری ہے۔

انڈیا کے خیال میں پاکستان کا انضمام ہوجائے تو باقی چھوٹے ممالک کو ہڑپنا آسان ہوگا۔ اس لیے قیام پاکستان سے آج تک انڈیا پاکستان کے خلاف جنگیں بھی لڑ رہا ہے اور سازشیں بھی کر رہا ہے۔ یہ خواہش رکھنے والے ہندو زائنسٹ کہلاتے ہیں۔

نوٹ:

ہندوستان کی طرف سے پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی کوششیں مسلسل جاری ہیں۔

3

لوئے افغانستان

افغانستان میں موجود پشتونوں کی بڑی تعداد کا خیال ہے کہ ہمیں دوبارہ وہ افغانستان بنانا چاہیے جو احمد شاہ ابدالی کے دور میں بنا تھا اور جس میں پاکستان کے کچھ علاقے بھی شامل تھے۔ اسکو وہ 'لوئے افغانستان' کہتے ہیں۔

یہ خواہش رکھنے والوں کو ہم افغان زائنسٹ کہیں گے۔ افغانستان کبھی اتنا طاقتور نہیں ہوا کہ زبردستی پاکستان سے یہ علاقے چھین سکے۔ لہذا اس نے سازش کا راستہ چنا اور پچھتر سال سے پاکستان مسلسل انکی سازشوں سے زخمی ہورہا ہے۔

اتنا نقصان پاکستان کو یہودی اور ہندو زائنسٹ نہیں پہنچا سکے ہیں جتنا افغان زائسنٹ نے پہنچایا ہے۔ وجہ سادہ سی ہے۔ افغان زائنسٹس کو کبھی ہم نے دشمن سمجھا ہی نہیں اور ہمیشہ زبردستی انکو سینے سے لگانے کی کوشش کی۔

تینوں دشمنوں کا اتحاد

آپ یہ بھی نوٹ کریں کہ معرکہ حق میں پاکستان کے یہ تینوں دشمن ملکر پاکستان کے خلاف لڑے تھے۔ اسکا اعتراف انڈیا بارہا کر چکا ہے کہ آپریشن سندور میں انکو صرف افغانستان اور اسرائیل نے سپورٹ کیا تھا۔

خطے کی جغرافیائی صورت حال کا نقشہ

ایک اور مزے دار بات ۔۔۔

وہ جو آخری جنگوں کے بارے میں حدیثیں اور روایات ہیں وہ کہتی ہیں کہ اس خطے میں موجود مسلمان فوج کے ہاتھوں دریائے اٹک کا پانی تین بار سرخ ہوگا، ہندوستان فتح ہوگا اور پھر وہ شام کے پاس (موجودہ اسرائیل) جائنگے یہودیوں سے لڑنے۔ ھممم

نتیجہ

پاکستان کو اپنی قومی سالمیت اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے ان تینوں نظریاتی دشمنوں کے خلاف مستقل بیداری، مضبوط دفاعی حکمت عملی، اور قومی یکجہتی کی ضرورت ہے۔ ہمیں اپنے دوست اور دشمن دونوں کو پہچاننے کی ضرورت ہے۔

© 2023 شاہد خان - تمام حقوق محفوظ ہیں

یہ بلاگ صرف معلوماتی مقاصد کے لیے ہے

0 Comments