سوڈان کی خونریزی اور سونے کی جنگ - رفعت وانی

سوڈان کی خونریزی دیکھ کر روح کانپ گئی

دنیا میں تیل کی لڑائی سے جنگ "سونے" کی لڑائی تک پہنچ گئی ہے
از: رفعت وانی

یہ وہ جبل عامر ہے جہاں افریقہ کی بڑی سونے کی کانوں میں سے ایک واقع ہے —

دنیا کی طاقت کا پیمانہ ہمیشہ بدلتا رہا ہے — کبھی سلطنتیں زمین کے ٹکڑوں پر لڑی گئیں، پھر تیل نے دنیا کی سیاست کا ایندھن بن کر تخت الٹ دیے، اور آج سونا وہ نئی جنگ بن چکا ہے جس نے انسانیت کو خون اور لالچ کی دلدل میں دھکیل دیا ہے۔

افریقہ کا جبلِ عامر— جہاں 2023ء میں صرف ایک سال میں پچاس ٹن سونا نکالا گیا — آج قبرستان بن چکا ہے۔ یہاں دولت کے پیچھے بھاگنے والوں نے انسانوں کی لاشوں پر اپنی چمکدار سلطنتیں تعمیر کی ہیں۔ سودان کی سرزمین پر بہنے والا خون محض خانہ جنگی نہیں، یہ اس سونے کا خراج ہے جو زمین کے سینے سے نکالا گیا۔

اسلام نے اسی لالچ کو انسان کی بربادی قرار دیا۔ قرآن کہتا ہے:

“تم ایک دوسرے پر فخر کرتے ہو اور مال کی زیادتی میں لگے رہتے ہو، یہاں تک کہ تم قبروں تک جا پہنچتے ہو۔”

(التکاثر: 1-2)

یہ آیت گویا آج کے انسان کی تصویر ہے — جو دولت کے پیچھے اتنا اندھا ہو چکا ہے کہ قبر تک کے سفر میں بھی حساب نہیں رکھتا۔

نبی کریم ﷺ نے وہ وقت بتایا تھا جب دریائے فرات سے سونے کا پہاڑ برآمد ہوگا، اور فرمایا:

“لوگ اس پر لڑنے آئیں گے، تو ہر سو میں سے ننانوے مارے جائیں گے، اور ہر شخص کہے گا: کاش میں بچ جاؤں۔”

(صحیح مسلم)

آج جبلِ عامر، مالی، اور کانگو کے سونے کے میدان اسی حدیث کا پیش خیمہ معلوم ہوتے ہیں۔ تیل کی جنگوں کے بعد اب سونا انسان کا نیا خدا بن چکا ہے، جس کے لیے زمینیں جل رہی ہیں، قومیں برباد ہو رہی ہیں، اور انسانیت اپنی روح کھو چکی ہے۔

یہ دنیا اب اس موڑ پر کھڑی ہے جہاں زمین سے نکلنے والا ہر خزانہ دراصل قیامت کی طرف ایک اور قدم ہے۔ دریائے فرات کا سونا ظاہر ہونا صرف ایک پیش گوئی نہیں — یہ انسان کی آزمائش کا اعلان ہے۔

جب وہ لمحہ آئے گا، تو فیصلہ سونے کے ڈھیر پر نہیں، ایمان کے ترازو پر ہوگا۔

اور شاید تب ہی انسان کو احساس ہوگا کہ اصل دولت وہ نہیں تھی جو زمین نے چھپائی تھی، بلکہ وہ تھی جو دل نے گنوا دی۔

— ✍️ رفعت وانی

صحافی / انسانی حقوق کارکن