پاک افواج - مظفرگڑھ آرٹلری رینج فعال سازی

پاک افواج کی جانب سے مظفرگڑھ آرٹلری رینج کی فعال سازی

OP/R241 - 24 نومبر سے 30 نومبر 2023 تک

قومی دفاعی تیاریوں کا اہم حصہ

⚠️ اہم اطلاع برائے عوام و ہوابازی سے متعلق ادارے

پاک افواج کی جانب سے مظفرگڑھ آرٹلری رینج (OP/R241) کو 24 نومبر سے 30 نومبر تک فعال کیا جا رہا ہے۔ اس دوران مختلف نوعیت کی فوجی فائرنگ اور تربیتی مشقیں سرانجام دی جائیں گی، جن کا مقصد آپریشنل تیاریوں اور قومی دفاع کو مزید مضبوط بنانا ہے۔

📅 مدت

24 نومبر تا 30 نومبر (7 روز)

⏰ اوقات کار

روزانہ صبح 0300 بجے سے دوپہر 1200 بجے تک مشقوں کا سلسلہ جاری رہے گا۔

✈️ فضائی حدود

فضائی حدود (Surface to FL150) ہر قسم کی سول، کمرشل اور نجی پروازوں کے لیے مکمل طور پر بند رہے گی۔

🎯 مشقوں کی قسم

آرٹلری فائرنگ، فوجی تربیتی مشقیں، آپریشنل تیاریاں

مشقوں کا تفصیلی شیڈول

پہلا دن (24 نومبر)

ابتدائی فائرنگ اور آرٹلری ٹیسٹ

دوسرا دن (25 نومبر)

مخصوص ہدف پر فائرنگ مشقیں

تیسرا دن (26 نومبر)

جدید ہتھیاروں کے استعمال کی تربیت

چوتھا دن (27 نومبر)

رات کے وقت فائرنگ مشقیں

پانچواں دن (28 نومبر)

متحرک اہداف پر فائرنگ

چھٹا دن (29 نومبر)

جامع دفاعی مشق

ساتواں دن (30 نومبر)

حتمی مشق اور تشخیص

⚠️ اہم احتیاطی نوٹس

  • علاقہ مکینوں سے درخواست ہے کہ مشقوں کے دوران رینج کے قریب غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کریں۔
  • کسی بھی قسم کی ہنگامی صورت حال یا شک و شبہ کی صورت میں متعلقہ حکام سے رابطہ کریں۔
  • تمام متعلقہ اداروں، پائلٹس اور آپریٹرز کو ہدایت کی جاتی ہے کہ فضائی راستوں کی منصوبہ بندی کرتے ہوئے اس NOTAM/ہدایات کو لازماً مدنظر رکھیں۔
  • یہ اقدامات قومی سلامتی اور عسکری آپریشنل تیاریوں کا حصہ ہیں، لہٰذا تعاون کریں۔

مزید معلومات اور اپڈیٹ کے لیے Pakistan Defense Talk With Rana کو فالو کریں

قومی سلامتی ہماری اجتماعی ذمہ داری پاکستان زندہ باد

پاک افواج - مظفرگڑھ آرٹلری رینج فعال سازی: ایک جامع تجزیہ تعارف اور تاریخی پس منظر پاکستان کی مسلح افواج ملک کی دفاعی ضروریات کے لیے جدید ترین تربیتی سہولیات کے قیام پر مسلسل کام کر رہی ہیں۔ انہی میں سے ایک اہم منصوبہ مظفرگڑھ آرٹلری رینج کی فعال سازی کا ہے۔ یہ رینج جنوبی پنجاب کے اہم شہر مظفرگڑھ میں واقع ہے اور پاکستان آرمی کے آرٹلری کور کے لیے ایک اہم تربیتی مرکز کے طور پر تیار کی جا رہی ہے۔ مقامی اہمیت مظفرگڑھ کا جغرافیائی محل وقوع اسے آرٹلری تربیت کے لیے انتہائی موزوں بناتا ہے: · وسیع و عریض میدانی علاقہ: جو طویل فاصلے کی فائرنگ کے تجربات کے لیے مثالی ہے · آبادی سے دوری: جو عوامی سلامتی کے تحفظ کو یقینی بناتی ہے · راہداری کا مرکز: جو ملک کے مختلف حصوں سے رسائی کو آسان بناتا ہے رینج کی تکنیکی تفصیلات 2.1 رینج کا رقبہ اور ساخت مظفرگڑھ آرٹلری رینج تقریباً 20,000 ایکڑ کے رقبے پر محیط ہے جس میں شامل ہیں: · مرکزی فائرنگ زون: 15 کلومیٹر تک کے فاصلے کی فائرنگ کی سہولت · مشاہداتی پوسٹس: متعدد مقامات پر قائم · کنٹرول ٹاور: جدید ترین ٹیکنالوجی سے لیس · ہدف کے علاقے: مختلف فاصلوں پر مرتب 2.2 جدید سہولیات رینج میں مندرجہ ذیل جدید سہولیات شامل ہیں: ٹارگٹ سسٹم: · خودکار ہدف نظام · ڈرون سے چلنے والے ہدف · الیکٹرانک سکورنگ سسٹم · حقیقی وقت کی نگرانی کميونیکیشن انفراسٹرکچر: · سیٹلائیٹ رابطہ · سیورڈ فریکوئنسی بینڈز · ریڈیو نیٹ ورک · فائبر آپٹک نیٹ ورک سیفٹی سسٹمز: · خودکار علاقہ بندی نظام · ایمرجنسی مواصلات · میڈیکل ایمرجنسی سہولیات · آگ بجھانے کے نظام تربیتی اہداف اور مقاصد 3.1 بنیادی مقاصد مظفرگڑھ آرٹلری رینج کے فعال ہونے سے مندرجہ ذیل اہداف حاصل ہوں گے: فن کی تربیت: · طویل فاصلے کی نشاندہی کی تربیت · مختلف موسمی حالات میں فائرنگ کا تجربہ · جدید آرٹلری سسٹمز کی عملی تربیت کارروائی کی تیاری: · رات کے وقت کارروائیوں کی تربیت · متحرک ہدفوں پر فائرنگ کی مشق · مشترکہ ہتھیاروں کی کارروائیوں کی تربیت 3.2 تربیتی پروگرام رینج میں منعقد ہونے والے تربیتی پروگراموں میں شامل ہوں گے: بنیادی کورسز: · نئے آرٹلری افسران کی تربیت · جوانوں کی بنیادی تربیت · خصوصی ہتھیاروں پر تربیت ایڈوانسڈ کورسز: · فائر کنٹرول افسران کی تربیت · آرٹلری انٹیلی جنس کورسز · تکنیکی ماہرین کی تربیت معاشی اور سماجی اثرات 4.1 مقامی معیشت پر اثرات مظفرگڑھ آرٹلری رینج کے فعال ہونے سے مقامی معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے: روزگار کے مواقع: · براہ راست ملازمتیں: 500-700 · بالواسطہ روزگار: 1000-1500 · مہارت کی ترقی کے مواقع معاشی سرگرمی: · مقامی خریداری · ہوٹل اور رہائش کی سہولیات · ٹرانسپورٹ سروسز · خوردہ تجارت میں اضافہ 4.2 بنیادی ڈھانچے کی ترقی رینج کے فعال ہونے سے علاقے میں بنیادی ڈھانچے کی ترقی ہوگی: · سڑکوں کی تعمیر: نئی روڈ نیٹ ورک · بجلی کی فراہمی: اضافی بجلی کی ترسیل · پانی کی سہولیات: بہتر پانی کی فراہمی · کميونیکیشن: مواصلاتی انفراسٹرکچر کی بہتری ماحولیاتی تحفظ کے اقدامات 5.1 ماحولیاتی اثرات کا جائزہ رینج کے فعال ہونے سے قبل ماحولیاتی اثرات کا مکمل جائزہ لیا گیا ہے: حفاظتی اقدامات: · زمینی آلودگی کی روک تھام · آبی ذخائر کا تحفظ · جنگلی حیات کے تحفظ کے اقدامات · شور کی آلودگی میں کمی کے اقدامات 5.2 پائیدار ترقی رینج کی تعمیر میں پائیدار ترقی کے اصولوں پر عمل کیا گیا ہے: · توانائی کی بچت: شمسی توانائی کا استعمال · پانی کے تحفظ: بارش کے پانی کے ذخیرہ کے نظام · سبز علاقوں کا تحفظ: مقامی پودوں کی بحالی سیکورٹی اور حفاظتی انتظامات 6.1 سیکورٹی ڈھانچہ رینج میں جدید ترین سیکورٹی نظام نصب کیے گئے ہیں: فزیکل سیکورٹی: · اعلیٰ فینسنگ · سیکورٹی چوکیاں · سرویلینس کیمرے · موشن ڈیٹیکٹرز ٹیکنالوجیکل سیکورٹی: · بائیو میٹرک سسٹم · خودکار دخول کنٹرول · سیٹلائیٹ نگرانی · سائبر سیکورٹی اقدامات 6.2 حفاظتی پروٹوکول رینج کے حفاظتی پروٹوکولز میں شامل ہیں: · فائرنگ سیکورٹی: سخت حفاظتی قوانین · ہتھیاروں کی حفاظت: جدید ترین اسٹوریج سسٹم · ایمرجنسی پلان: فوری ردعمل کے نظام ٹیکنالوجیکل انضمام 7.1 جدید ٹیکنالوجی رینج میں جدید ترین ٹیکنالوجیز استعمال کی گئی ہیں: سیمولیٹر سسٹمز: · ورچوئل ریئلٹی سیمولیٹرز · کمپیوٹر آئڈڈ ٹریننگ · ڈیجیٹل فائر کنٹرول سسٹم ڈیٹا اینالیٹکس: · تربیت کا تجزیہ · کارکردگی کی نگرانی · تربیت کے نتائج کا جائزہ 7.2 مربوط نظام رینج کا نظام پاکستان آرمی کے دیگر تربیتی مراکز کے ساتھ مربوط ہے: · نیٹ ورکنگ: ملک بھر کے تربیتی مراکز سے رابطہ · ڈیٹا شیئرنگ: تربیتی ڈیٹا کا تبادلہ · مشترکہ تربیت: مختلف یونٹس کی مشترکہ تربیت بین الاقوامی معیارات کا تقابل 8.1 عالمی معیارات کے مطابق مظفرگڑھ آرٹلری رینج عالمی معیارات کے مطابق تیار کی گئی ہے: تربیتی معیارات: · نیٹو معیارات کے مطابق تربیت · جدید ترین تربیتی تکنیک · بین الاقوامی تربیتی پروگرام سہولیات کا معیار: · عالمی سطح کی سہولیات · جدید ترین آلات · بین الاقوامی سلامتی معیارات 8.2 بین الاقوامی تعاون رینج کی فعال سازی میں بین الاقوامی تعاون شامل ہے: · تکنیکی مدد: دوست ممالک سے تکنیکی تعاون · ماہرین کی تربیت: بیرون ملک تربیت · آلات کی فراہمی: جدید ترین آلات کی درآمد مستقبل کی منصوبہ بندی 9.1 توسیعی منصوبے مظفرگڑھ آرٹلری رینج کے توسیعی منصوبوں میں شامل ہیں: مرحلہ وار ترقی: · مرحلہ اول: بنیادی ڈھانچہ اور سہولیات · مرحلہ دوم: جدید تربیتی سہولیات · مرحلہ سوم: بین الاقوامی تربیتی مرکز نئی سہولیات: · فضائی دفاعی تربیتی مرکز · میزائل تربیتی سہولیات · سائبر جنگ کی تربیت 9.2 طویل مدتی اہداف رینج کے طویل مدتی اہداف میں شامل ہیں: · علاقائی تربیتی مرکز: جنوبی ایشیا کا اہم تربیتی مرکز · تحقیق و ترقی: آرٹلری ٹیکنالوجی میں تحقیق · بین الاقوامی مشقوں کا مرکز: مشترکہ فوجی مشقوں کا انعقاد چیلنجز اور حل 10.1 درپیش چیلنجز رینج کی فعال سازی کے دوران درپیش چیلنجز: تکنیکی چیلنجز: · جدید ٹیکنالوجی کا حصول · مقامی مہارت کی کمی · تکنیکی ماہرین کی تربیت منصوبہ بندی کے چیلنجز: · وقت پر تکمیل · بجٹ کے اندر کام · معیار کا تحفظ 10.2 حکمت عملی ان چیلنجز کے حل کے لیے اپنائی گئی حکمت عملی: · مرحلہ وار عمل: چھوٹے مراحل میں کام · مقامی مہارت: مقامی لوگوں کی تربیت · بین الاقوامی تعاون: تکنیکی مدد حاصل کرنا نتیجہ اور مستقبل کے امکانات مظفرگڑھ آرٹلری رینج کی فعال سازی پاکستان کی مسلح افواج کی جدید کاری کے سفر میں ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ نہ صرف آرٹلری فورسز کی تربیتی صلاحیتوں میں اضافہ کرے گی بلکہ مقامی معیشت اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کرے گی۔ 11.1 قومی دفاع میں کردار یہ رینگ پاکستان کے دفاعی ڈھانچے کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرے گی: · بہتر تربیت: بہتر تربیت یافتہ فوجی دستے · جدید ٹیکنالوجی: جدید ہتھیاروں کا مؤثر استعمال · تیاری: ہر قسم کے حالات کے لیے تیاری 11.2 علاقائی امن میں کردار مظفرگڑھ آرٹلری رینگ علاقائی امن کے لیے بھی اہم ہے: · تعلیمی مرکز: فوجی تعلیم کا مرکز · صلاحیت سازی: دفاعی صلاحیتوں میں اضافہ · علاقائی تعاون: علاقائی ممالک کے ساتھ مشترکہ تربیت آخری بات: مظفرگڑھ آرٹلری رینج کی فعال سازی پاکستان کی مسلح افواج کی ترقی کی ایک روشن مثال ہے جو نہ صرف قومی دفاع کو مضبوط بنائے گی بلکہ علاقے کی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کرے گی۔ اس منصوبے کی کامیابی پاکستان کی دفاعی خود انحصاری اور تکنیکی ترقی کی عکاس ہے۔ --- Nuclear Weapons: Pakistan is a nuclear-armed state, with an estimated 165-175 warheads. Its nuclear doctrine is centered on "credible minimum deterrence," with a declared policy of "first use" against a conventional or nuclear attack. The arsenal is delivered via a triad of land, air, and sea-based systems: · Land: Ballistic missiles like the short-range Ghaznavi (Hatf-III), medium-range Shaheen-I & II, and the long-range Shaheen-III. The Nasr (Hatf-IX) short-range system is a key tactical weapon. · Air: Modified fighter aircraft such as the F-16 and JF-17 Thunder. · Sea: The Babur-3 submarine-launched cruise missile, deployed on Agosta-class submarines, provides a secure second-strike capability. Conventional Forces: The Pakistan Army is the world's sixth-largest, equipped with a mix of imported and domestically produced armor, including Al-Khalid and VT-4 main battle tanks. Artillery is a key strength, featuring long-range systems like the SH-15 howitzer. It maintains a significant inventory of drones, including the armed Burraq. The Pakistan Air Force (PAF) operates over 700 aircraft. Its backbone comprises F-16 Fighting Falcons (primarily older A/B models) and the jointly developed Sino-Pakistani JF-17 Thunder, which serves as the workhorse multi-role fighter. Modernization efforts include acquiring J-10C Vigorous Dragon fighters from China and upgrading existing fleets. The Pakistan Navy, while smaller, is expanding its regional footprint. It operates Frigates (Type 054A/P), Submarines (French Agosta-class, with Chinese Hangor-class submarines under construction), and has inducted the F-22P Zulfiquar-class frigates. Its most significant strategic asset is the sea-based nuclear deterrent. Key Characteristics & Sources: · Domestic Production: Pakistan's defence industry, centered on organizations like Heavy Industries Taxila (HIT) and Pakistan Aeronautical Complex (PAC), focuses on manufacturing and upgrading tanks, the JF-17 fighter, drones, and various missiles (e.g., Babur, Ra'ad cruise missiles). · Primary Suppliers: Historically reliant on the US and Western Europe, Pakistan's primary partner is now China, which supplies everything from fighter jets and naval vessels to missile technology. Other suppliers include Turkey and Italy. · Focus on Asymmetric Capability: To counter India's larger conventional forces, Pakistan has historically supported asymmetric warfare, though officially denies current involvement. In summary, Pakistan's military strategy relies on a credible nuclear deterrent to offset its conventional disadvantage against India, backed by a large, combat-experienced army and an air force undergoing gradual modernization نوٹ: یہ معلومات عوامی طور پر دستیاب معلومات کی بنیاد پر تیار کی گئی ہیں۔ مزید تفصیلات پاکستان آرمی کے سرکاری ذرائع سے حاصل کی جا سکتی ہیں۔

Visit Home Page