عالمی دفاعی خبریں - اپڈیٹس
اہم خبریں
امریکہ اور روس کے مابین تناؤ میں اضافہ، جبکہ یورپی ممالک اپنی دفاعی صلاحیتوں کو بڑھا رہے ہیں۔
بوئنگ F-15 ایگل 2
بوئنگ F-15 ایگل 2 میں تاخیر
رپورٹس کے مطابق امریکی کمپنی بوئنگ ایف 15 کے نئے ورژن ایگل 2 کو بنانے میں تاخیر کا شکار ہے۔ بوئنگ کو صرف امریکی ائیر فورس کے آرڈر کو پورا کرنے کے لیے کم از کم پانچ سال درکار ہیں۔
ECRS MK2 ریڈار سسٹم
برطانیہ کا یورو فائٹر فلیٹ اپ گریڈ
برطانوی منسٹری آف ڈیفینس کی جانب سے کنفرمیشن کی گئی ہے کہ وہ اپنی یورو فائٹر فلیٹ کو ECRS MK2 ریڈار سسٹم سے لیس کرنے کے لیے 2.35 ارب پاؤنڈ خرچ کرے گی۔
ہائپر سونک میزائل
یوکرین کا روسی ہائپر سونک میزائل تباہ کرنے کا دعویٰ
یوکرین کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس نے پچھلے سال ایک کوورٹ آپریشن میں روس کے ایک اوریشنک ہائپر سونک بیلسٹک میزائل کو گراؤنڈ پر تباہ کیا تھا۔
Tulpar IFV
برازیل ترکی کی Tulpar IFV پر غور کر رہا ہے
برازیل کی جانب سے ترک کمپنی Otokar کی بنائی ہوئی Tulpar انفنٹری فائٹنگ وہیکل کی خریداری کے بارے غور کیا جا رہا ہے۔
سویڈش ڈرون بوٹ
سویڈن کی ڈرون بوٹ کا ٹیسٹ
سویڈن کی جانب سے بحیرہ بالٹک میں ایک نئی ڈرون بوٹ کے ٹیسٹ منعقد کیے گئے ہیں۔
Su-35S جہاز
روس Su-35S جہازوں کا نیا بیچ ڈیلیور کر چکا ہے
روسی کمپنی Rostec کی جانب سے روسی ائیر فورس کو Su35S جہازوں کا ایک اور بیچ ڈیلیور کر دیا گیا ہے۔
Z-20 ہیلی کاپٹر
چین سٹیلتھ Z-20 ہیلی کاپٹر ٹیسٹ کر رہا ہے
لیک شدہ سیٹلائیٹ تصاویر کے مطابق چین اپنے Z20 ہیلی کاپٹر کے ایک سٹیلتھ ورژن کو ممکنہ طور پر ٹیسٹ کر رہا ہے۔
USS Gettysburg
وینزویلا کے قریب امریکی فوجی جمع
وینزویلا کے قریب موجود امریکی نیول فورسز کو USS Gettysburg نے جوائن کیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ امریکہ وینزویلا پر حملہ کرنے کا ارادہ رکھ سکتا ہے۔
J-10 جہاز
انڈونیشیا نے J-10 خریداری کا فیصلہ فائنل نہیں کیا
انڈونیشیا کی وزارت دفاع کی جانب سے کہا گیا ہے کہ انڈونیشیا نے ابھی چینی جے 10 جہاز کی خریداری کا فیصلہ فائنل نہیں کیا اور تمام دستیاب آپشنز کا جائزہ لے رہا ہے۔
9M729 Novator میزائل
روس کا 9M729 Novator میزائل پہلی بار استعمال
ممکنہ طور پر روس کی جانب سے اس کے 9M729 Novator سرفیس ٹو سرفیس کروز میزائل کو پہلی بار میدان جنگ میں استعمال کیا گیا ہے۔
SY400 میزائل سسٹم
بنگلہ دیش کا SY400 میزائل سسٹم کا آرڈر
بنگلہ دیش کی جانب سے چینی ساختہ SY400 سرفیس ٹو سرفیس شارٹ رینج بیلسٹک میزائل سسٹم کا آرڈر دے دیا گیا ہے۔
تصاویر
Tulpar انفنٹری فائٹنگ وہیکل
Tulpar انفنٹری فائٹنگ وہیکل
سویڈش ڈرون بوٹ
سویڈش ڈرون بوٹ
چینی Z20 سٹیلتھ ورژن
چینی Z20 سٹیلتھ ورژن
Novator میزائل لانچ
Novator میزائل لانچ
SY400 میزائل سسٹم
SY400 میزائل سسٹم
عالمی دفاعی خبریں - جامع اپڈیٹس
پیش نظر: عالمی دفاعی منظرنامے میں اہم ترین ترقیات
1. امریکہ-بھارت دفاعی شراکت داری میں نئی بلندیں
تازہ ترین پیشرفت:
امریکہ اور بھارت نے حال ہی میں"آپریشنل ڈویلپمنٹ سپورٹ" معاہدے پر دستخط کیے ہیں، جو 2018 کے COMCASA معاہدے کا توسیعی باب ہے۔ اس نئی شراکت کے تحت:
· پردیسی امداد سے تعاون (FMS): امریکہ نے بھارت کو 3.2 بلین ڈالر کے دفاعی سامان کی فروخت کی منظوری دی ہے، جس میں MQ-9B سیاہ رینجر آبدوز-مخالف ڈرونز بھی شامل ہیں۔
· مشترکہ تکنیکی ترقی: دونوں ممالک جنرل الیکٹرک F414 انجن کی بھارت میں مشترکہ پیداوار پر کام کر رہے ہیں، جو TEJAS MK-2 لڑاکا جہازوں میں استعمال ہوں گے۔
· ہند-پیسیفک تعاون: دونوں بحریہوں نے حال ہی میں مشترکہ بحری مشق "مالابار 2024" کا انعقاد کیا، جس میں جاپان اور آسٹریلیا بھی شریک تھے۔
2. روس-یوکرین جنگ: نئی جنگی صورت حال
فوجی اپڈیٹس:
· روسی افواج نے حال ہیں Kharkiv علاقے میں اپنی جارحیت تیز کی ہے، جس کے جواب میں:
· امریکہ نے 400 ملین ڈالر کا اضافی فوجی امداد پیکیج جاری کیا ہے، جس میں HIMARS راکٹ سسٹم، آرمرڈ وہیکلز اور ہوائی دفاعی نظام شامل ہیں۔
· یوکرین کو جرمنی سے Taurus میزائل سسٹم ملنے کی امید ہے، جو 500 کلومیٹر تک نشانہ بناسکتے ہیں۔
تکنیکی جنگ:
· ڈرون ٹیکنالوجی کا تنازعہ تیزی سے پیچیدہ ہو رہا ہے:
· یوکرین FPV (فرسٹ پرسن ویو) ڈرونز کی ماہانہ 50,000 سے زیادہ پیداوار کر رہا ہے۔
· روس نے ایرانی ساختہ Shahed-136 ڈرونز کی مقامی پیداوار شروع کر دی ہے۔
عالمی اثرات:
· نیٹو نے مشرقی یورپ میں اپنی فوجی موجودگی بڑھا دی ہے:
· پولینڈ میں 10,000 امریکی فوجیوں کی اضافی تعیناتی
· رومانیہ میں نیٹو کا نیا علاقائی کمانڈ سینٹر قائم
3. مشرق وسطیٰ: بڑھتی ہوئی کشیدگی
ایران-اسرائیل تناؤ:
· ایران نے حال ہیں اپنے خفیہ فوجی سیٹلائیٹ "نور-3" لانچ کیا ہے، جو اس کی فضائی نگرانی کی صلاحیت کو بڑھاتا ہے۔
· اسرائیل نے "آئیرن ڈوم" ہوائی دفاعی نظام کی جدید ترین پیداوار شروع کی ہے، جو ہائپرسونک میزائلز کو بھی روک سکتی ہے۔
خلیجی تعاون:
· سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے مشترکہ ایئر ڈیفنس نیٹ ورک قائم کرنے کا معاہدہ کیا ہے۔
· قطر نے امریکہ سے F-35 لڑاکا جہاز خریدنے کے معاہدے پر دوبارہ بات چیت شروع کی ہے۔
یمن تنازعہ:
· حوثی باغیوں نے حال ہیں بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر حملوں میں اضافہ کیا ہے، جس کے جواب میں:
· امریکہ اور برطانیہ نے حوثی فوجی اہداف پر حملے کیے ہیں۔
· یورپی یونین نے بحیرہ احمر میں بحری تحفظ مشن "EUNAVFOR ASPIDES" شروع کیا ہے۔
4. بحیرہ جنوبی چین: علاقائی کشیدگی
چین کی فوجی سرگرمیاں:
· چین نے مصنوعی جزائر پر مزید فوجی اڈے تعمیر کیے ہیں، جن میں:
· رن وے کی توسیع
· میزائل سسٹمز کی تنصیب
· الیکٹرانک وارفیئر یونٹس کا قیام شامل ہے۔
امریکی ردعمل:
· امریکی بحریہ نے FONOPs (فریڈم آف نیویگیشن آپریشنز) کی تعداد میں اضافہ کیا ہے۔
· فلپائن کے ساتھ مشترکہ بحری مشقوں میں توسیع، جس میں "بلمرنگ" میزائل سسٹم کی تعیناتی بھی شامل ہے۔
ASEAN ردعمل:
· انڈونیشیا نے ناتونا جزائر کے قریب اپنی بحریہ کی موجودگی بڑھا دی ہے۔
· ویتنام نے اسرائیل سے EL/M-2084 ایری ڈیفنس ریڈار سسٹم خریدا ہے۔
5. افریقہ: سیکیورٹی چیلنجز
ساحیل خطہ:
· فرانس کی واپسی کے بعد، روسی Wagner گروپ نے مالی، برکینا فاسو اور نائجر میں اپنی موجودگی مضبوط کی ہے۔
· امریکہ نے نائجر میں اپنا ڈرون اڈہ چھوڑنے پر مجبور ہو گیا ہے۔
مشرقی افریقہ:
· صومالیہ میں ATMIS امن مشن 2024 کے آخر میں ختم ہو رہا ہے، جس کے بعد صومالی فوج کو مکمل ذمہ داری سنبھالنی ہوگی۔
· کینیا ہیڈج ہاگ سے الشباب کے خلاف کارروائیوں میں مصروف ہے۔
6. دفاعی ٹیکنالوجی: نئی ترقیات
مصنوعی ذہانت کا استعمال:
· امریکی محکمہ دفاع نے "Replicator Initiative" شروع کیا ہے، جس کا مقصد 18-24 ماہ میں ہزاروں آٹونومس ڈیفنس سسٹمز تیار کرنا ہے۔
· چین نے AI سے چلنے والے ڈرون سوارمز کی ٹیسٹنگ شروع کر دی ہے۔
ہائپرسونک ہتھیار:
· روس نے Zircon ہائپرسونک میزائل آپریشنل طور پر تعینات کر دیے ہیں۔
· امریکہ نے "ڈارک ہارس" ہائپرسونک گلیڈر پروگرام کو تیز کیا ہے۔
خلائی فوجی کاری:
· امریکہ نے یو ایس اسپیس کمانڈ کے تحت نئی "اسپیس ریسیلینسی ایکٹویٹی" شروع کی ہے۔
· چین نے متعدد "شجیان" سیٹلائٹس لانچ کیے ہیں، جو اینٹی سیٹلائٹ صلاحیت رکھتے ہیں۔
7. نیٹو: توسیع اور جدید کاری
سویڈن اور فن لینڈ کا الحاق:
· سویڈن کی نیٹو میں شمولیت مکمل ہو گئی ہے، جس سے بالٹک علاقے میں نیٹو کی موجودگی مضبوط ہوئی ہے۔
· فن لینڈ نے امریکہ کے ساتھ دفاعی تعاون معاہدہ (DCA) پر دستخط کیے ہیں۔
نیٹو کے دفاعی بجٹ:
· 2024 میں نیٹو ممالک کا اوسط دفاعی بجٹ GDP کا 2.3% ہے، جس میں:
· پولینڈ: 4% (سب سے زیادہ)
· امریکہ: 3.5%
· جرمنی: 2.1%
8. کوریائی جزیرہ: بڑھتا ہوا تناؤ
شمالی کوریا کی فوجی ترقی:
· شمالی کوریا نے "ہواسانگ-31" ہائپر سونک میزائل کی کامیاب ٹیسٹنگ کی ہے۔
· روس سے ٹیکنالوجی کی منتقلی کے ثبوت ملے ہیں، جس میں بحری میزائل ٹیکنالوجی شامل ہے۔
جنوبی کوریا-جاپان تعاون:
· دونوں ممالک نے ایسٹ ایشیا میں میزائل ڈیفنس سسٹم شیئر کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
· امریکہ-جنوبی کوریا مشترکہ مشقوں کا دائرہ بڑھایا گیا ہے۔
9. لاطینی امریکہ: سیکیورٹی تبدیلیاں
وینزویلا-ایران تعاون:
· ایران نے وینزویلا میں ڈرون فیکٹری قائم کی ہے۔
· روس نے وینزویلا میں Tu-160 بمبار جہازوں کی تعیناتی کی ہے۔
کولمبیا کی کردار تبدیلی:
· کولمبیا اب علاقائی سیکیورٹی میں فعال کردار ادا کر رہا ہے، ہیٹی میں امن مشن میں حصہ لے رہا ہے۔
10. پاکستان: علاقائی دفاعی تعاون
پاکستان-چین تعاون:
· مشترکہ فضائی مشق "شاہین-10" کا انعقاد کیا گیا۔
· جے ایف-17 تھنڈر لڑاکا جہازوں کی نئی کھیپ کی ترسیل۔
پاکستان-ترکی دفاعی تعلقات:
· MILGEM کلاس کورویٹس کی مشترکہ تعمیر جاری ہے۔
· T129 ATAK ہیلی کاپٹرز کی فراہمی کا معاہدہ۔
تجزیہ اور رجحانات
اہم رجحانات:
1. ملٹی ڈومین جنگ کی تیاری: تمام بڑی فوجی طاقتیں فضائی، زمینی، بحری، خلائی اور سائبر ڈومین میں یکساں صلاحیت پیدا کرنے پر توجہ دے رہی ہیں۔
2. غیر روایتی جنگ: ڈرونز، سائبر وارفیئر، اور الیکٹرانک وارفیئر کی اہمیت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
3. اتحادی نظام کی تبدیلی: نئے دفاعی اتحاد بن رہے ہیں، جبکہ روایتی اتحادوں میں تبدیلیاں آرہی ہیں۔
4. دفاعی خود کفالت: ممالک اپنی دفاعی پیداواری صلاحیت بڑھانے پر توجہ دے رہے ہیں، خاص طور پر ہندوستان، ترکی، اور جنوبی کوریا۔
مستقبل کے امکانات:
1. AI کی مرکزی کردار: مصنوعی ذہانت مستقبل کی جنگوں کا تعین کرے گی، جس میں آٹونومس ہتھیار نظام اور AI سے چلنے والی کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹمز شامل ہیں۔
2. خلائی فوجی کاری: خلائی جنگ کی تیاریاں تیز ہو رہی ہیں، جس میں اینٹی سیٹلائٹ ہتھیار اور خلائی نگرانی نظام شامل ہیں۔
3. ماحولیاتی جنگ: موسمی تبدیلی کے دفاعی اثرات پر توجہ بڑھ رہی ہے، جس میں آرکٹک خطے میں رسائی کے تنازعات شامل ہیں۔
نتیجہ
عالمی دفاعی منظرنامہ تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے، جہاں روایتی جنگ کے ساتھ ساتھ نئی قسم کی جنگوں کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔ ٹیکنالوجی کی ترقی نے جنگ کی نوعیت بدل دی ہے، جبکہ جغرافیائی سیاسی تبدیلیوں نے نئے اتحاد اور محاذ آرائیاں پیدا کی ہیں۔
دفاعی حکمت عملیوں میں لچک، تیاری، اور جدید ٹیکنالوجی کی اہمیت دن بدن بڑھتی جا رہی ہے۔ آنے والے برسوں میں دفاعی صلاحیتوں کے حوالے سے خود کفالت اور اتحادی نظام میں تبدیلی کے رجحانات مزید مضبوط ہونے کی توقع ہے۔
بین الاقوامی برادری کے لیے ضروری ہے کہ وہ ان چیلنجوں کا جواب دینے کے لیے اجتماعی حفاظتی اقدامات ترتیب دے، تاکہ عالمی استحکام اور سلامتی کو برقرار رکھا جا سکے۔
0 Comments
Post a Comment