پاکستان ایئر فورس کی اہم فضائی کارروائیاں (2014–2025): ایک جامع جائزہ

پاکستان کی فضائیہ (PAF) نہ صرف جنوبی ایشیا بلکہ






 خطے کی اہم ترین فضائی قوتوں میں شمار ہوتی ہے۔ ٹیکنالوجی، تربیت، حکمت عملی اور فیصلہ کن ردِعمل کے اعتبار سے اس کا کردار نہایت اہم رہا ہے۔ 2014 سے 2025 تک کے درمیان PAF نے مختلف نوعیت کی کارروائیاں انجام دیں جن میں انسدادِ دہشت گردی آپریشنز، سرحدی دفاع، جوابی کارروائیاں، اور تکنیکی برتری کے عملی مظاہرے شامل ہیں۔ ذیل میں ان اہم فضائی آپریشنز کی تاریخی ترتیب کے ساتھ تفصیلی وضاحت پیش کی جا رہی ہے۔


2014 تا 2016 – آپریشن ضربِ عضب اور فضائی کارروائیاں

جون 2014 میں پاکستان نے خیبر پختونخوا اور سابقہ فاٹا کے قبائلی علاقوں میں موجود دہشت گرد گروہوں کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی آپریشن شروع کیا جسے ’’ضربِ عضب‘‘ کا نام دیا گیا۔ اس کارروائی میں پاکستان ایئر فورس کا کردار سب سے زیادہ اہم تھا کیونکہ پہاڑی علاقوں میں زمینی فوجی کارروائیاں فضائی معاونت کے بغیر مؤثر نہیں ہو سکتیں۔

فضائی حکمت عملی

  1. انٹیلی جنس بیسڈ ٹارگٹنگ (IBO):
    دہشت گردوں کے کمپاؤنڈز، کمانڈ کنٹرول سینٹرز، اسلحہ ڈپو اور تربیتی مراکز کی نشاندہی کے بعد جے ایف-17 تھنڈر، ایف-16 اور میراث ٹائپ کے طیاروں نے بھرپور حملے کیے۔

  2. پریسیژن گائیڈڈ ایمونیشن کا استعمال:
    PAF نے اس دوران لیزر گائیڈڈ بموں اور جے ایف-17 سے فائر کیے جانے والے جدید ہتھیاروں کا استعمال کیا جس سے دہشت گردوں کو بھاری نقصان پہنچا اور ان کے ٹھکانوں کو مکمل طور پر تباہ کیا گیا۔

  3. رات کے وقت حملے:
    دہشت گرد اکثر رات کے وقت نقل و حرکت کرتے تھے۔ اس لیے PAF نے نائٹ ویژن اور جدید ٹارگٹنگ پوڈز کی مدد سے رات کے کھلے آپریشنز کامیابی سے انجام دیے۔

نتائج

2014 سے 2016 تک کے فضائی حملوں نے دہشت گردوں کی تنظیمی صلاحیتوں، نقل و حرکت اور مواصلاتی نظام کو شدید نقصان پہنچایا۔ اس مرحلے نے پاکستان کی عسکری تاریخ میں ایک نئے دور کا آغاز کیا جس میں ملکی دفاع کے ساتھ اندرونی امن و امان کی بحالی کے لیے فضائی قوت کا استعمال مؤثر اور فیصلہ کن ثابت ہوا۔


جون 2017 – پنجگور میں ایرانی ڈرون کو مار گرایا جانا

اس واقعے کو PAF کی تاریخ میں تکنیکی اور عملی دونوں اعتبار سے اہم سنگِ میل سمجھا جاتا ہے۔ جون 2017 میں ایرانی ساختہ جاسوس ڈرون پاکستانی حدود میں داخل ہوا جو بلوچستان کے علاقے پنجگور کے قریب پاکستانی فضائی حدود میں مبینہ طور پر انٹیلی جنس اکٹھی کر رہا تھا۔

آپریشنل تفصیل

  • PAF کے JF-17 تھنڈر نے اس ڈرون کی انٹرسیپشن کی۔
  • یہ پاکستانی طیارے سے پہلا "ہوا سے ہوا" ہدف مار گرانے کا کامیاب ریکارڈ تھا۔
  • اس کارروائی نے واضح پیغام دیا کہ پاکستان اپنی سرحدوں کی خلاف ورزی پر کسی بھی مشن، پلیٹ فارم یا ملک کے خلاف فوری ردِعمل دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

اہمیت

  1. جے ایف-17 کی انٹرسیپشن صلاحیت پر عالمی توجہ مبذول ہوئی۔
  2. یہ عملی ثبوت تھا کہ پاکستانی ساختہ لڑاکا طیارہ مکمل طور پر جنگی ماحول میں کامیاب رہنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
  3. پاکستان نے سفارتی سطح پر بھی مضبوط مؤقف پیش کیا کہ سرحدی سلامتی اس کی اولین ترجیح ہے۔

فروری 2019 – آپریشن سوئفٹ ریٹالی ایشن (Swift Retort)

27 فروری 2019 کا دن پاکستان ایئر فورس کی تاریخ کے نمایاں ترین دنوں میں شمار ہوتا ہے۔ 26 فروری کی رات بھارت نے بالاکوٹ کے قریب مبینہ فضائی کارروائی کی جسے پاکستان نے مؤثر انداز میں ناکام قرار دیا۔ اگلے ہی روز پاکستان نے ایک بھرپور اور منظم جوابی کارروائی کی جسے ’’سوئفٹ ریٹالی ایشن‘‘ کہا جاتا ہے۔

آپریشن کا مقصد

  • بھارت کو واضح پیغام دینا کہ PAF بھرپور ردِعمل کی صلاحیت اور ارادہ رکھتی ہے۔
  • پاکستان کی دفاعی حدود اور خطے میں طاقت کے توازن کو برقرار رکھنا۔

آپریشن کی تفصیلات

  1. مارک-83 REK بموں کا استعمال:
    جے ایف-17 اور ایف-16 طیاروں نے Range Extension Kit سے لیس مارک 83 بم بھارتی فوجی تنصیبات کے قریب فائر کیے، اس طرح کہ وہ کسی جانی نقصان کا سبب نہ بنیں بلکہ صرف اہدافی جگہ کو نشانہ بنانے کی صلاحیت کا عملی مظاہرہ کریں۔

  2. فضائی برتری اور ڈاگ فائٹ:
    بھارتی مگ-21، مگ-27 اور ایس یو-30 جنگی طیارے پاکستانی طیاروں کے مقابلے میں آئے مگر پاکستانی پائلٹس نے نہایت اعلیٰ سطح کی فضائی مہارت کا مظاہرہ کیا۔

  3. بھارتی مگ-21 کا مار گرایا جانا:
    ایک مگ-21 بائسن کو پاکستانی ایف-16 نے نشانہ بنایا، جو بین الاقوامی میڈیا کا مرکزِ توجہ بنا۔

نتائج

  • خطے میں طاقت کا توازن برقرار رہا۔
  • پاکستان نے سفارتی و عسکری لحاظ سے مضبوط پوزیشن قائم کی۔
  • PAF کی پیشہ ورانہ مہارت نے دنیا بھر میں تعریف حاصل کی۔

جنوری 2024 – آپریشن ’’مرگ بر سرمچار‘‘

2024 میں بلوچستان میں سرگرم کچھ علیحدگی پسند عناصر کے حملوں کے بعد پاکستان نے ایران کے اندر موجود بی ایل اے اور بی ایل ایف کے بعض مبینہ ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔ اس کارروائی کو بعد میں ’’مرگ بر سرمچار‘‘ کہا گیا۔

اہم پہلو

  1. PAF نے سرحد پار کارروائی کے لیے انتہائی درستگی سے اہداف منتخب کیے۔
  2. حملوں کا مقصد صرف دہشت گرد گروہوں کے انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانا تھا۔
  3. کارروائی میں کسی بھی شہری آبادی کو نقصان پہنچنے سے محفوظ رکھا گیا۔

جہاز اور اسلحہ

  • جے ایف-17 بلاک-II/III
  • پریسیژن گائیڈڈ میزائل
  • اسٹینڈ آف ویپن سسٹمز

حکمتِ عملی

یہ کارروائی بین الاقوامی سطح پر انتہائی حساس نوعیت کی تھی، کیونکہ دونوں ممالک مسلم اور ہمسایہ ریاستیں ہیں۔ آپریشن کا مقصد ایران کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں بلکہ پاکستان کی سرزمین اور عوام کے خلاف کارروائیاں کرنے والے گروہوں کی صلاحیت کمزور کرنا تھا۔ پاکستان نے سفارتی سطح پر بھی واضح کیا کہ یہ ایک انسدادِ دہشت گردی کارروائی تھی۔


مئی 2025 – آپریشن ضربِ کرار / پاک-بھارت تنازع

2025 میں پاک بھارت کشیدگی بڑھنے کے بعد دونوں ملکوں کے مابین محدود نوعیت کی جھڑپیں ہوئیں۔ اس دوران پاکستان نے ’’آپریشن ضربِ کرار‘‘ کے نام سے فضائی اور دفاعی ردعمل ظاہر کیا۔

7 مئی 2025 – نمبر 8 اسکواڈرن ’’حیدرز‘‘ کا کردار

’’حیدرز‘‘ اسکواڈرن PAF کا تیز رفتار ردِعمل رکھنے والا یونٹ ہے۔ اس دن:

  • بھارتی فضائیہ کی جانب سے سرحدی خلاف ورزی پر پاکستانی طیارے بروقت فضا میں بلند ہوئے۔
  • دوطرفہ فضائی جھڑپ کے دوران پاکستانی پائلٹس نے بھارتی SU-30 اور رافیل طیاروں کے خلاف بھرپور دفاعی و جارحانہ حکمت عملی اپنائی۔
  • ایڈوانسڈ ریڈار، ڈیٹا لنک، اور انٹیلی جنس سپورٹ نے پاکستانی طیاروں کو برتری دی۔

10 مئی 2025 – نمبر 14 اسکواڈرن ’’ٹیل چوپرز‘‘ اور S-400 کے خلاف کارروائی

بھارت کے پاس دنیا کا جدید ترین فضائی دفاعی نظام S-400 موجود ہے، جو کئی سو کلومیٹر دور تک اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کے خلاف کارروائی تکنیکی طور پر نہایت پیچیدہ تھی۔

پاکستان ایئر فورس نے:

  1. اسٹینڈ آف ویپن استعمال کیے جو S-400 کے ریڈار کی حدود میں داخل ہوئے بغیر فائر کیے جا سکتے تھے۔
  2. الیکٹرانک وارفیئر اور ڈیجیٹل کوورٹیک سسٹمز کی مدد سے بھارتی ریڈار کو دھوکہ دیا۔
  3. ’’ٹیل چوپرز‘‘ اسکواڈرن نے انتہائی کم بلندی اور تیز رفتار پروفائل کے ساتھ آپریشن انجام دیا۔

یہ کارروائی اس لحاظ سے اہم تھی کہ دنیا میں چند ہی فضائی افواج اس نوعیت کے دفاعی نظام کے خلاف کامیاب حکمت عملی اپناتی ہیں۔


مجموعی تجزیہ

1. تکنیکی ترقی

2014 سے 2025 تک PAF نے جے ایف-17، ایف-16، ریموٹ ویپنز، اسمارٹ بموں، الیکٹرانک وارفیئر، ڈیٹا لنک سسٹمز اور انٹیگریٹڈ ایئر ڈیفنس میں نمایاں پیش رفت کی۔

2. پائلٹس کی مہارت

پاکستانی پائلٹس عالمی معیار کی تربیت رکھتے ہیں، جس کا ثبوت 2019 اور 2025 کی فضائی جھڑپوں میں واضح طور پر سامنے آیا۔

3. علاقائی توازن

پاکستان نے ہر بڑے واقعے میں ایسا ردِعمل دیا جس نے خطے میں طاقت کا توازن برقرار رکھا، جبکہ جنگ کو وسیع پیمانے پر پھیلنے سے روکا۔

4. انسدادِ دہشت گردی

ضربِ عضب اور مرگ بر سرمچار جیسے آپریشنز نے PAF کی اندرونی سکیورٹی میں کردار کی اہمیت ثابت کی۔


اختتامیہ

2014 سے 2025 تک کا عرصہ پاکستان ایئر فورس کی تاریخ میں نہایت اہمیت رکھتا ہے۔ اس دوران نہ صرف PAF نے دہشت گردوں کے خلاف مشکل کارروائیاں کیں بلکہ بین الاقوامی سطح پر اپنے دشمنوں کو بھی یہ واضح پیغام دیا کہ پاکستان کی فضائی حدود، قومی سلامتی اور عسکری خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

PAF نے جدید ٹیکنالوجی، اعلیٰ تربیت، اسٹریٹیجک بردباری اور پیشہ ورانہ مہارت کے ذریعے عالمی سطح پر اپنا ایک منفرد مقام بنایا اور ثابت کیا کہ وہ ہر طرح کے چیلنج کا مقابلہ کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے۔


اگر آپ چاہیں تو میں اسے PDF, HTML آرٹیکل, یا بلاگر پوسٹ فارمیٹ میں بھی تیار کر سکتا ہوں۔