پاکستان میں چوتھی فوج اور 'کمانڈر آف ڈیفنس فورسز' — تجزیہ اور تفصیلات

اب پاکستان کی چار افواج؟ — "راکٹ فورس" کا قیام اور 'کمانڈر آف ڈیفنس فورسز' کا تصور

مصنف: اخبار/تجزیہ | تاریخ: November 8, 2025
راکٹ فورس اور دفاعی تنظیم

حالیہ دنوں میں حکومتِ پاکستان نے آئینی ترامیم کے ایک بڑے پیکیج کی تیاری پر زور دیا ہے جس میں فوجی کمانڈ ڈھانچے میں تبدیلی، نئی 'آرمی راکٹ فورس' کے قیام اور 'کمانڈر آف ڈیفنس فورسز' کے عہدے کے تعارف جیسے متعدد نکات شامل ہیں۔ اس مضمون میں ہم اس مجوزہ تبدیلی کے پسِ منظر، قانونی نتائج، سیاسی و آئینی پہلو، اور اس کے ممکنہ قومی و بین الاقوامی اثرات کا تفصیلی جائزہ لیں گے۔

پس منظر اور مجوزہ ترامیم کا خلاصہ

وفاقی کابینہ اور متعلقہ سرکاری حلقوں کی اطلاعات کے مطابق مجوزہ 27ویں آئینی ترمیم میں آرٹیکل 243 اور متعلقہ شقوں میں پیمانہ وار تبدیلیاں تجویز کی گئی ہیں۔ بنیادی نکات میں اسٹرٹیجک پلاننگ اور راکٹ/اسٹریٹجک صلاحیتوں کی الگ تنظیم کے تحت 'آرمی راکٹ فورس' (یا آر ایف سی) کو آئینی حیثیت دینا، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے روایتی کردار میں تبدیلی، اور اس کی جگہ 'کمانڈر آف ڈیفنس فورسز' (CDF) کا عہدہ متعارف کروانا شامل ہے۔ اس مجوزہ نظام کے تحت بتایا جا رہا ہے کہ کمانڈر آف ڈیفنس فورسز کا اختیاراتی عہدہ چیف آف آرمی اسٹاف کے ساتھ مربوط ہوسکتا ہے، اور ابتدائی طور پر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو اس مشترکہ عہدے پر رہنمائی کے لیے نامزد کرنے کی خبروں نے عوامی توجہ حاصل کی ہے۔ 0

تاریخی اور آئینی حوالہ

آرٹیکل 243 پاکستان کے آئین میں تسلیم شدہ مضمون ہے جو مسلح افواج کے سربراہان اور کنٹرول کے قواعد وضع کرتا ہے۔ آئین میں ایسی بڑی ترامیم کے لیے پارلیمنٹ میں دو تہائی اکثریت وغیرہ جیسے آئینی تقاضے پورے کرنے پڑتے ہیں۔ تاریخ میں فوجی اور سیاسی اختیارات کے درمیان توازن ایک حساس موضوع رہا ہے، لہٰذا اس قسم کی تبدیلیاں نہ صرف دفاعی بلکہ آئینی اور جمہوری اصولوں کے حوالے سے بھی بحث طلب ہیں۔ 1

جدید دفاعی ضرورت یا سیاسی قوت میں اضافہ؟

حمایت کرنے والوں کا استدلال یہ ہے کہ بدلتے جنگی منظرناموں اور ہائبرڈ/اسٹریٹجک خطروں کے پیشِ نظر ایک مربوط کمانڈ بہتر ردعمل اور تیز فیصلے ممکن بنائے گی۔ راکٹ فورس کو آئینی حیثیت دینے سے حاکمیت اور کمانڈ لائن میں وضاحت آئے گی اور مختلف سروسز کے درمیان ہم آہنگی بڑھے گی۔ دوسری طرف ناقدین کا کہنا ہے کہ یہی ترامیم فوجی اثرورسوخ کو مزید مضبوط کریں گی اور ملکی سیاسی توازن پر اثرانداز ہوں گی؛ خاص طور پر جب عہدہ 'کمانڈر آف ڈیفنس فورسز' مبینہ طور پر آرمی چیف کے پاس رکھا جائے۔ 2

اہم نوٹ: جو حقائق اور خبریں حکومت کے فیصلوں اور ذرائع ابلاغ کی رپورٹوں پر مبنی ہیں — تفصیلی حوالہ جات صفحے کے آخر میں دئیے گئے ہیں۔

ممکنہ عملی سجاوٹ (Operational Structure)

مجوزہ ڈھانچے کے تحت راکٹ فورس میں اسٹریٹجک پلان ڈویژن (SPD) جیسی یونٹس شامل کی جا سکتی ہیں جو پہلے چیئرمین جوائنٹ آف اسٹاف کے ماتحت تھیں۔ اس سے واضح طور پر جوائنٹ اسٹاف کے کردار میں کمی یا تبدیلی متوقع ہے۔ ایک متحدہ کمانڈ کے فوائد میں ہنگامی صورتِ حال میں تیز فیصلے، مرکزیتِ پالیسی، اور لاجسٹکس میں ہم آہنگی شامل ہو سکتے ہیں۔ مگر یہ بھی قابلِ غور ہے کہ مرکزیت کے ساتھ احتساب کے مضبوط طریقے اور پارلیمانی نگرانی بھی لازم ہیں ورنہ طاقت کے یکطرفہ ارتکاز سے جمہوری اصول خطرے میں پڑ سکتے ہیں۔

سیاست، پارلیمنٹ اور آئینی عمل

آئینی ترامیم پارلیمانی عمل سے گزرتی ہیں۔ 27ویں ترمیم جیسی بڑی تبدیلی کے لیے حکومت کو پارلیمنٹ میں اکثریت اور سیاسی مفاہمت درکار ہوگی۔ اپوزیشن، سول سوسائٹی، قانون دان اور انسانی حقوق کے گروپ اس پر تبصرہ کریں گے — خاص طور پر اس نکتے پر کہ آئین میں فوج کی طاقت کو مضبوط کرنا شہری بالادستی اور آئینی توازن کے لیے کس حد تک موزوں ہے۔

قومی و بین الاقوامی اثرات

دفاعی ڈھانچے میں ایسی تبدیلیاں خطائی محاذ پر پڑنے والے اثرات محفوظ رکھتی ہیں۔ پڑوسی ملکوں اور بین الاقوامی شراکت داروں کو بھی اس کی وجہ اور مقاصد جاننے کی ضرورت ہوگی۔ اس کے علاوہ ملکی معاشی اور سیاسی استحکام پر بھی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں — سرمایہ کاری کے لیے سیاسی استحکام کو اہم سمجھا جاتا ہے، اور آئینی و سیاسی اختلافات غیر یقینی کی صورت پیدا کر سکتے ہیں۔

متبادل راستے اور سفارشات

اگر مؤکداً مقصد دفاع کو مضبوط بنانا ہے تو متبادل راستوں میں شامل ہو سکتے ہیں:

  • جوائنٹ اسٹاف کے کردار کو بہتر بناتے ہوئے اس کی شفافیت اور احتسابی میکانزم مضبوط کرنا۔
  • پارلیمانی کمیٹیوں کو مضبوط کرنا تاکہ دفاعی پالیسی پر سول کنٹرول برقرار رہے۔
  • قومی دفاعی حکمتِ عملی کو عوام کے سامنے شفاف کرنا اور مخصوص حدود و ضوابط آئین میں شامل کرنا۔

خلاصہ (Summary)

آئینی سطح پر 'راکٹ فورس' کو چوتھی فوج بنانا اور 'کمانڈر آف ڈیفنس فورسز' کا عہدہ متعارف کروانا دفاعی تنظیم میں ایک نمایاں تبدیلی ہے۔ اس کے ممکنہ فوائد اور خطرات دونوں ہیں۔ آخر کار فیصلہ پارلیمانی عمل، آئینی تقاضوں اور ملک کے طویل المدتی مفاد کے مطابق ہونا چاہیے۔ شفافیت، احتساب اور سول کنٹرول جیسے اصول برقرار رکھا جانا ناگزیر ہے تاکہ دفاعی طاقت کا استعمال ملکی مفاد اور جمہوری اقدار کے تحت رہے۔