بسم اللہ الرحمن الرحیم


سستی اور کاہلی: قوموں کے زوال کا خاموش قاتل






"سستی اور کاہلی کسی قوم کے لیے دیمک کی طرح ہوتی ہیں — آہستہ آہستہ سب کچھ اندر سے کھا جاتی ہیں۔"


یہ محض چند الفاظ نہیں، بلکہ وہ تلخ حقیقت ہے جو تاریخ کے ہر ورق پر درج ہے۔ جب ایک قوم محنت کی قدروں کو چھوڑ کر آرام طلبی اور سہل پسندی کو اپنا شعار بنا لیتی ہے، تو اس کا زوال یقینی ہو جاتا ہے۔ یہ زوال کبھی یکلخت نہیں آتا، بلکہ ایک خاموش دیمک کی طرح اندر ہی اندر اس قوم کی بنیادوں کو کھوکھلا کرتا رہتا ہے، یہاں تک کہ ایک دن وہ عظیم قوم جو تاریخ کی ساز بناتی تھی، تاریخ کا حصہ بن کر رہ جاتی ہے۔


سستی کی نفسیاتی بنیادیں: انسان کی فطری کششِ آرام


انسانی فطرت میں آرام اور آسانی کی ایک فطری کشش موجود ہے۔ یہ کشش درحقیقت ہمارے بقاء کا حصہ ہے — جب ہمارے آباؤ اجداد شکار کرتے تھے اور خوراک جمع کرتے تھے، تو توانائی بچانا ان کے لیے بقاء کی کلید تھا۔ لیکن آج کی جدید دنیا میں یہی فطری tendency ہمارے لیے سب سے بڑا خطرہ بن گئی ہے۔


سائیکالوجی میں اسے "پروکراسٹینیشن" کہا جاتا ہے — کاموں کو ملتوی کرنے کی عادت۔ یہ عادت فرد سے شروع ہوتی ہے، پھر خاندان کو اپنی لپیٹ میں لیتی ہے، اور آخر کار پورے معاشرے کو اپنا شکار بنا لیتی ہے۔ ایک فرد جب صبح دیر سے اٹھتا ہے، کاموں کو کل پر ٹالتا ہے، محنت سے جی چراتا ہے، تو یہی رویہ رفتہ رفتہ اس کی شخصیت کا حصہ بن جاتا ہے۔


تاریخ کے آئینے میں: عظیم سلطنتیں کیوں گرتی ہیں؟


تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ کوئی بھی قوم محض بیرونی حملوں سے نہیں گرتی، بلکہ پہلے وہ اندر سے کمزور ہوتی ہے۔ روم کی عظیم سلطنت جب عیش و عشرت میں ڈوب گئی، when its people abandoned the virtues of hard work and discipline, تو پھر بیرونی حملہ آوروں نے صرف اس کی باقیات کو ہی دفن کیا۔


اسی طرح اندلس کی اسلامی تہذیب جب علم و عمل کے بجائے عیش پرستی میں مبتلا ہو گئی، تو اس کا زوال شروع ہو گیا۔ مغلیہ سلطنت کے آخری دور میں بھی یہی دیکھنے میں آیا — جب حکمران طبقہ محنت اور جہد سے دور ہو گیا، تو سلطنت ٹکڑے ٹکڑے ہو گئی۔


سستی کے معاشی اثرات: ترقی کا دشمن


سستی اور کاہلی کسی بھی قوم کی معاشی ترقی کے لیے زہر قاتل ہیں۔ جب ایک قوم کے کارکن دیر سے کام پر آئیں، جلد جانے کی فکر کریں، کام میں دلچسپی نہ لیں، تو پیداواریت متاثر ہوتی ہے۔ صنعتیں پیچھے رہ جاتی ہیں، معیشت سست روی کا شکار ہو جاتی ہے، اور قوم ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہ جاتی ہے۔


جاپان اور جرمنی دوسری جنگ عظیم کے بعد مکمل تباہی کے بعد بھی ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کیسے شامل ہوئے؟ صرف محنت، نظم و ضبط، اور وقت کی پابندی کے بل پر۔ ان قوموں نے سستی کو قومی دشمن قرار دیا اور محنت کو قومی شعار بنایا۔


تعلیمی میدان میں سستی کے اثرات: علم کی موت


جب طلبہ میں سستی راہ پا لیتی ہے، تو پھر تعلیم کا مقصد فوت ہو جاتا ہے۔ رٹا لگا کر امتحان پاس کر لینا، نقل کر کے نمبر حاصل کر لینا — یہ سب سستی کی مختلف شکلیں ہیں۔ حقیقی علم کے حصول کے لیے محنت، تحقیق، اور جستجو درکار ہوتی ہے۔


سست طالب علم نہ صرف اپنا نقصان کرتا ہے، بلکہ وہ قوم کے مستقبل کے لیے بھی خطرہ بن جاتا ہے۔ کیونکہ آج کے طالب علم کل کے ڈاکٹر، انجینئر، سائنسدان، اور معلم ہوں گے۔ اگر ان کی بنیاد ہی کمزور ہو، تو قوم کی عمارت کب تک کھڑی رہ سکتی ہے؟


سستی اور اخلاقی زوال: برائیوں کی جڑ


سستی صرف معاشی یا تعلیمی میدان تک محدود نہیں رہتی، بلکہ یہ ایک اجتماعی اخلاقی زوال کا باعث بنتی ہے۔ ایک سست انسان جب محنت کرنے سے گریز کرتا ہے، تو وہ چوری، دھوکہ دہی، اور بددیانتی جیسے راستے اپنانے پر مجبور ہو جاتا ہے۔


سستی انسان کے اندر کی ساری صلاحیتوں کو دفن کر دیتی ہے۔ وہ خواب دیکھنا چھوڑ دیتا ہے، جدوجہد سے کتراتا ہے، اور محض موجودہ حالات میں گزارا کرنے پر اکتفا کر لیتا ہے۔ ایسے individuals سے مل کر بننے والا معاشرہ کبھی ترقی نہیں کر سکتا۔


سستی کے خلاف جہاد: قومی بقاء کی جنگ


سستی اور کاہلی کے خلاف جنگ درحقیقت قومی بقاء کی جنگ ہے۔ یہ جنگ کسی میدان میں نہیں لڑی جاتی، بلکہ ہر فرد کے اپنے دل و دماغ میں لڑی جاتی ہے۔ ہر صبح جب ہم وقت پر اٹھنے کا فیصلہ کرتے ہیں، ہر کام کو بہترین طریقے سے انجام دینے کا عہد کرتے ہیں، تو درحقیقت ہم قومی ترقی کے لیے اپنا کردار ادا کر رہے ہوتے ہیں۔


اس جنگ کے لیے مندرجہ ذیل اقدامات نہایت ضروری ہیں:


فرد کی سطح پر:


· وقت کی قدر اور پابندی

· کاموں کو ملتوی کرنے کی عادت ترک کرنا

· روزانہ کے اہداف مقرر کرنا

· نظم و ضبط کی عادت ڈالنا


خاندانی سطح پر:


· بچوں میں محنت کی عادات پروان چڑھانا

· وقت کی پابندی کی تربیت دینا

· کامیابیوں کے لیے محنت کی اہمیت اجاگر کرنا

· ٹی وی اور موبائل کے بے جا استعمال پر پابندی


معاشرتی سطح پر:


· محنت اور محنت کشوں کی قدر و منزلت

· سست اور کاہل افراد کی مذمت

· محنت کے فروغ کے لیے اداروں کا قیام

· تعلیمی نظام میں محنت کی اہمیت پر زور


قومی سطح پر:


· محنت کو قومی قدر قرار دینا

· سستی کے خلاف آگاہی مہم

· محنت کشوں کے لیے انعامات و اعزازات

· ترقی کے لیے محنت کی اہمیت پر قومی مکالمہ


اسلامی تعلیمات میں محنت کی اہمیت


اسلام میں محنت اور کوشش کو نہایت اہمیت حاصل ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اللہ تعالیٰ اس شخص کو پسند کرتا ہے جو کام کرتا ہوا ماہر ہو۔" آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود سخت محنت کرتے تھے اور صحابہ کرام کو بھی محنت کی ترغیب دیتے تھے۔


حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا قول ہے: "کبھی تم میں سے کوئی یہ نہ کہے کہ میرا رزق مجھے مل کر رہے گا، بلکہ محنت اور کوشش کرے، کیونکہ آسمان سے سونا چاندی نہیں برستا۔"


سستی پر قابو پانے کے عملی طریقے


سستی پر قابو پانے کے لیے مندرجہ ذیل عملی اقدامات مفید ثابت ہو سکتے ہیں:


1. صبح جلد اٹھنا: صبح کی شروعات ہی دن بھر کی کارکردگی کا تعین کرتی ہے۔

2. منصوبہ بندی: روزانہ کے کاموں کی فہرست بنانا اور اس پر عمل کرنا۔

3. وقت کی تقسیم: ہر کام کے لیے مخصوص وقت مقرر کرنا۔

4. چھوٹی شروعات: بڑے کاموں کو چھوٹے حصوں میں تقسیم کرنا۔

5. نفسانی جہاد: ہر دن اپنے آپ سے ایک چھوٹی سی جنگ لڑنا۔


قومی ترقی میں ہماری ذمہ داری


ہر فرد کو یہ احساس ہونا چاہیے کہ قومی ترقی صرف حکومت کی ذمہ داری نہیں ہے۔ بلکہ ہر شہر کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے کام میں ایماندار، محنتی اور مستعد ہو۔ استاد اگر محنت سے پڑھائے، طالب علم اگر محنت سے پڑھے، ڈاکٹر اگر محنت سے مریض دیکھے، مزدور اگر محنت سے کام کرے، تو پھر قوم ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہو سکتی ہے۔


نتیجہ: انتخاب ہمارے ہاتھ میں


آخر میں، یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ سستی اور محنت کے درمیان انتخاب ہمارے اپنے ہاتھ میں ہے۔ ہم چاہیں تو سستی کو اپنا کر اپنی قوم کو زوال کی طرف لے جائیں، یا محنت اور جدوجہد کو اپنا کر اسے ترقی کی بلندیوں پر لے جائیں۔


تاریخ ان ہی قوموں کو یاد رکھتی ہے جو محنت اور جہد سے اپنا مقام بناتی ہیں۔ سست قومیں تاریخ کے صفحات پر دھول بن کر رہ جاتی ہیں۔


"قوموں کی تقدیر ان کے اپنے ہاتھوں میں ہوتی ہے — محنت سے عظمت کے ایوان تعمیر ہوتے ہیں، اور سستی سے زوال کے گڑھے کھودے جاتے ہیں۔"


ہمیں اپنے اندر کی سستی کے خلاف اعلانِ جنگ کرنا ہوگا، اپنی کاہلی کو قومی دشمن قرار دینا ہوگا، اور محنت کو اپنا نصب العین بنانا ہوگا۔ only then can we hope to build a prosperous nation that stands tall among the nations of the world.


یہ تبدیلی آج سے، اب سے، اور ہم سے شروع ہوتی ہے۔