بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
’’ہندوستان اور فرانس نے HAMMER میزائل کی تیاری کے لیے جوائنٹ وینچر بنایا‘‘ — یہ سرخی محض ایک دفاعی معاہدے کا اعلان نہیں، بلکہ ایک نئے جغرافیائی سیاسی دور کا پیش خیمہ ہے۔ یہ وینچر، جس کا رسمی نام ’’ہائی التییو ماڈیولر میونیشن ایکسٹینڈڈ رینج‘‘ (HAMMER) ہے، درحقیقت دو جمہوریتوں کے مابین ایک اسٹریٹجیک شراکت داری کو ظاہر کرتا ہے جو ایک متزلزل عالمی منظر نامے میں اپنی سالمیت اور سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہیں۔ اس معاہدے کے پیچھے جو کچھ کارفرما ہے، وہ محض ایک ہتھیار کا حصول نہیں، بلکہ ہندوستان کی بڑھتی ہوئی خود انحصاری (Atmanirbharta)، فرانس کی اسٹریٹجیک آزادی، اور دونوں ممالک کے درمیان ایک بڑھتے ہوئے اعتماد اور باہمی انحصار کا اظہار ہے۔ یہ مضمون اس جوائنٹ وینچر کے تاریخی، اسٹریٹجیک، تکنیکی اور اقتصادی پہلوؤں کا گہرائی سے جائزہ پیش کرے گا۔
ایک تاریخی تناظر: ہندوستان۔فرانس دفاعی تعلقات کا سفر
ہندوستان اور فرانس کے دفاعی تعلقات کی بنیاد ایک طویل اور پراعتماد تاریخ پر استوار ہے۔ سوویت یونین کے زوال کے بعد، جب ہندوستان کو اپنے دفاعی حلیفوں کے ایک اہم ستون سے محرومی کا سامنا کرنا پڑا، تو فرانس نے اس خلا کو پر کرنے کے لیے ایک قابل اعتماد شراکت دار کے طور پر خود کو پیش کیا۔ 1990 کی دہائی میں ہندوستان کے ساتھ میراژ 2000 طیاروں کی فروخت نے اس رجحان کا آغاز کیا۔ تاہم، حقیقی تبدیلی اس وقت آئی جب ہندوستان نے 1998 میں پوکھران-II ایٹمی دھماکوں کے بعد بین الاقوامی پابندیوں کا سامنا کیا۔ اس مشکل دور میں، فرانس نے ہندوستان کے خلاف سخت پابندیاں عائد کرنے کے بجائے، مذاکرات اور تعاون کا راستہ اختیار کیا، جس سے دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کی ایک مضبوط بنیاد رکھی گئی۔
یہ تعلقات وقت کے ساتھ ساتھ پروان چڑھتے رہے اور اس کی عمدہ مثال رافیل لڑاکا طیاروں کا معاہدہ ہے۔ 2016 میں 36 رافیل طیاروں کی 7.87 ارب یورو کی تاریخی ڈیل نے نہ صرف ہندوستانی فضائیہ کی طاقت میں اضافہ کیا، بلکہ یہ ہندوستان۔فرانس اسٹریٹجیک شراکت داری کا ایک سنگ میل ثابت ہوئی۔ HAMMER میزائل کا جوائنٹ وینچر اسی شراکت داری کا ایک منطقی تسلسل اور اسے مزید گہرا کرنے کی کوشش ہے۔
HAMMER میزائل: ایک تکنیکی شاہکار
HAMMER (ہائی التییو ماڈیولر میونیشن ایکسٹینڈڈ رینج) درحقیقت فرانسیسی کمپنی سافران کی تیار کردہ AASM (ایرمینٹ ایئر-سول ماڈیولر) میزائل کا ایک جدید ترین ورژن ہے۔ اسے ایک ’’اسمارٹ پریزژن گائیڈڈ ایئر ٹو گراؤنڈ ویپن سسٹم‘‘ کہا جاتا ہے، جس کی خصوصیات اسے جدید جنگ کے میدان میں ایک مہلک ہتھیار بناتی ہیں:
1. ماڈیولر ڈیزائن: HAMMER کا سب سے بڑا کمال اس کا ماڈیولر ڈیزائن ہے۔ یہ ایک بنیادی گائیڈنس ماڈیول پر مشتمل ہوتا ہے جسے مختلف قسم کے وارہیڈز (سرے پر لگنے والا دھماکا خیز مواد)، راکٹ انجنوں اور پرواز کے کنٹرول یونٹس کے ساتھ جوڑا جا سکتا ہے۔ اس طرح یہ ایک ہی میزائل کو مختلف فاصلے، مختلف اہداف (بمبار، بکتر بند، زیر زمین) اور مختلف موسمی حالات کے لیے ڈھال سکتا ہے۔
2. ہائبرڈ گائیڈنس سسٹم: HAMMER ایک ہائبرڈ گائیڈنس سسٹم سے لیس ہے، جس میں GPS، انرشیل نیویگیشن سسٹم (INS)، اور انفرا ریڈ امیجنگ (IIR) شامل ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر دشمن GPS سگنلز کو جام کرنے (Jamming) کی کوشش کرے تو بھی میزائل اپنے INS اور IIR سسٹم کے ذریعے درست نشانہ بازی کر سکتا ہے۔ یہ صلاحیت اسے جدید ترین ایئر ڈیفنس سسٹمز کے خلاف انتہائی مؤثر بناتی ہے۔
3. آف ایکسز لانچ کی صلاحیت: HAMMER میزائل کو لانچ کرنے کے لیے طیارے کو نشانے کی سیدھ میں آنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ یہ ’’فائر اینڈ فورگٹ‘‘ (داغو اور بھولو) اصول پر کام کرتا ہے، جہاں پائلٹ میزائل کو داغنے کے بعد فوری طور پر محفوظ پوزیشن میں جا سکتا ہے۔
4. اعلیٰ درستگی: یہ میزائل 10 میٹر سے بھی کم کے دائرے میں نشانے کو تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جو اسے شہری آبادیوں کے قریب فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے بھی موزوں بناتا ہے، جہاں ضمنی نقصان کو کم سے کم کرنا انتہائی ضروری ہوتا ہے۔
5. طویل رینج: HAMMER کی رینج 70 کلومیٹر تک بتائی جاتی ہے، جو پائلٹ کو دشمن کے زمینی دفاعی نظام کی حد سے باہر رہ کر حملہ آور ہونے کا موقع دیتی ہے۔
جوائنٹ وینچر: شراکت داروں کا تعارف اور اس کے مقاصد
اس جوائنٹ وینچر میں ہندوستان کی جانب سے ’’بھارت الیکٹرانکس لمیٹڈ‘‘ (BEL) اور فرانس کی جانب سے ’’سیفران الیکٹرانکس اینڈ ڈیفنس‘‘ (SED) شامل ہیں۔
· بھارت الیکٹرانکس لمیٹڈ (BEL): یہ ہندوستان کی وزارت دفاع کے تحت ایک سرکاری دفاعی کمپنی ہے، جو ریڈار، الیکٹرانک وارفیئر سسٹم، اور مواصلاتی آلات کی تیاری میں مہارت رکھتی ہے۔ BEL کا اس وینچر میں شامل ہونا ہندوستان کی ’میک ان انڈیا‘ اور ’آتم نربھر بھارت‘ کی پالیسیوں کے عین مطابق ہے۔
· سیفران الیکٹرانکس اینڈ ڈیفنس (SED): یہ فرانسیسی ملٹی نیشنل سیفران گروپ کا ایک حصہ ہے، جو ایروسپیس، ڈیفنس اور سیکیورٹی کے شعبوں میں دنیا کی معروف کمپنیوں میں سے ایک ہے۔ SED ہائی انڈ تھرسٹ انجنز، ایویونکس، اور گائیڈڈ میزائل سسٹمز کی تیاری میں اپنی مہارت کے لیے جانی جاتی ہے۔
اس 50:50 شراکت داری کے اہم مقاصد درج ذیل ہیں:
1. مقامی پیداوار، سپلائی اور دیکھ بھال: اس جوائنٹ وینچر کا بنیادی مقصد HAMMER میزائلوں کی مکمل پیداوار، سپلائی چین اور بعد از فروخت دیکھ بھال و اپ گریڈیشن کو ہندوستان میں مقامی بنانا ہے۔ اس سے ہندوستان کو درآمدات پر انحصار کم کرنے، زرِمبادلہ بچانے، اور دفاعی شعبے میں خود کفالت حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔
2. رافیل طیاروں کے ساتھ انضمام: یہ میزائل خاص طور پر ہندوستانی فضائیہ اور بحریہ کے رافیل لڑاکا طیاروں کے ساتھ مربوط کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ رافیل کو ایک ’’اومنی رول‘‘ (ہر طرح کے کام کرنے والا) طیارہ سمجھا جاتا ہے، اور HAMMER جیسے جدید ہتھیاروں سے اسے لیس کرنے سے اس کی لڑائی کی صلاحیت میں زبردست اضافہ ہوگا۔
3. تکنیکی علم کی منتقلی (ٹرانسفر آف ٹیکنالوجی - ٹوٹ): یہ معاہدہ محض ہتھیاروں کی فروخت نہیں، بلکہ اس میں فرانس کی جانب سے ہندوستان کو اعلیٰ درجے کی گائیڈڈ میزائل ٹیکنالوجی کی منتقلی بھی شامل ہے۔ BEL کو یہ صلاحیت حاصل ہوگی کہ وہ میزائل کے کلیدی ذیلی اسمبلیوں، الیکٹرانک اور میکانیکی پرزوں کو خود تیار کر سکے۔ اس کا ہندوستان کی دفاعی تحقیق و ترقی (R&D) پر دور رس مثبت اثر پڑے گا۔
4. مقامییت (انڈیجینیئزیشن) کا ہدف: BEL نے اس ہتھیار کے نظام کی 60% تک مقامییت حاصل کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ میزائل کے کلیدی پرزے ہندوستان میں ہی تیار کیے جائیں گے، جو نہ صرف لاگت کو کم کریگا بلکہ سپلائی چین کے حوالے سے خود انحصاری بھی پیدا کرے گا۔
اسٹریٹجیک ضروریات اور جغرافیائی سیاسی محرکات
HAMMER میزائل کی تیاری کے لیے اس جوائنٹ وینچر کا فیصلہ کئی اسٹریٹجیک عوامل سے متاثر ہوا ہے:
1. چین کے ساتھ سرحدی تناؤ: گیلوان وادی میں 2020 کے تنازعے کے بعد سے، ہندوستان کو اپنی سرحدی افواج کو جدید ترین ہتھیاروں سے لیس کرنے کی اشد ضرورت محسوس ہوئی ہے۔ لداخ جیسے پہاڑی اور بلند میدانی علاقوں میں، دشمن کے محفوظ بنکرز، کمانڈ سنٹرز اور انفراسٹرکچر کو تباہ کرنے کے لیے HAMMER جیسے درست اور مختری فاصلے تک مار کرنے والے ہتھیار ناگزیر ہیں۔
2. پاکستان کے ساتھ مسلح تصادم کا خطرہ: ہندوستان کو اپنے مغربی محاذ پر بھی ایک مستقل خطرہ درپیش ہے۔ HAMMER میزائل کی درستگی اسے پاکستان کے اندر دہشت گرد کیمپوں یا دیگر حساس فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے مثالی بناتی ہے، جہاں ضمنی نقصان کو کم سے کم کرنا انتہائی ضروری ہو۔
3. ہند بحرالکاہل میں چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کا مقابلہ: ہندوستان اور فرانس دونوں ہی ہند بحرالکاہل خطے میں ایک آزاد اور کھلے نظم کے قیام کے خواہاں ہیں۔ چین کے بحریہ کے بڑھتے ہوئے جارحانہ رویے کے پیش نظر، ہندوستانی بحریہ کے رافیل طیاروں کو HAMMER میزائل سے لیس کرنا بحیرہ جنوبی چین سمیت بحری محاذ پر چین کی جارحیت کا مؤثر طریقے سے جواب دینے میں مددگار ثابت ہوگا۔
4. روس۔یوکرین جنگ سے حاصل ہونے والے سبق: روس یوکرین جنگ نے جدید جنگ میں درست ہتھیاروں (Precision Guided Munitions) کی اہمیت کو واضح کر دیا ہے۔ اس جنگ نے یہ بھی دکھایا ہے کہ ہتھیاروں کی درآمد پر انحصار ایک غیر مستحکم حکمت عملی ہو سکتی ہے، خاص طور پر جب عالمی سیاسی محاذ بندی تبدیل ہو رہی ہو۔ اس لیے ہندوستان کا مقامی پیداوار کی جانب رجحان ایک دانشمندانہ اسٹریٹجیک فیصلہ ہے۔
5. امریکہ پر انحصار میں کمی: اگرچہ ہندوستان امریکہ کا ایک اہم دفاعی شراکت دار ہے، لیکن وہ اپنی دفاعی ضروریات کے لیے صرف ایک ہی ملک پر انحصار نہیں کرنا چاہتا۔ فرانس، اپنی اسٹریٹجیک آزادی کی وجہ سے، ہندوستان کے لیے ایک بہترین متبادل اور توازن قائم کرنے والا شراکت دار ہے۔
معاشی اور صنعتی فوائد
اس جوائنٹ وینچر کے ہندوستان کے لیے متعدد معاشی فوائد ہیں:
· دفاعی صنعت کو فروغ: BEL اور دیگر ہندوستانی دفاعی کمپنیوں کو جدید ترین میزائل ٹیکنالوجی کی تیاری کا موقع ملے گا، جس سے ملک کی دفاعی صنعت کو فروغ حاصل ہوگا۔
· مہارت کی ترقی: ہندوستانی انجینئرز اور تکنیکی ماہرین کو جدید ترین ٹیکنالوجی میں تربیت اور تجربہ حاصل ہوگا، جس سے ملک میں انسانی سرمائے کی ترقی ہوگی۔
· برآمدات کے مواقع: مستقبل میں، ہندوستان نہ صرف اپنی فوج کی ضروریات پوری کرے گا، بلکہ وہ HAMMER میزائل یا اس کے پرزے دیگر دوست ممالک کو برآمد بھی کر سکے گا، جس سے زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہوگا۔
· ملازمتوں کے مواقع: اس وینچر سے ہندوستان میں ہائی ٹیک مینوفیکچرنگ کے شعبے میں ہزاروں نئے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔
مستقبل کے امکانات اور چیلنجز
یہ جوائنٹ وینچر ہندوستان۔فرانس دفاعی تعاون کے ایک نئے دور کا آغاز ہے۔ مستقبل میں ہم دونوں ممالک کے درمیان ہائیپرسانک ہتھیاروں، آبدوزوں سے چلنے والے میزائلوں، اسپیس ڈیفنس، اور سائبر وارفیئر کے شعبوں میں مزید تعاون دیکھ سکتے ہیں۔
تاہم، کچھ چیلنجز بھی ہیں:
· تکنیکی پیچیدگی: HAMMER میزائل ایک انتہائی پیچیدہ ٹیکنالوجی ہے۔ اس کی مقامی سطح پر تیاری کے عمل میں تاخیر یا تکنیکی رکاوٹیں پیش آ سکتی ہیں۔
· لاگت کا دباؤ: جدید ترین ہتھیاروں کی تیاری پر بہت زیادہ سرمایہ کاری درکار ہوتی ہے۔ حکومت ہند اور BEL کو یہ یقینی بنانا ہوگا کہ اس منصوبے کی مالیاتی صحت برقرار رہے۔
· جیو پولیٹیکل دباؤ: چین اور پاکستان اس معاہدے پر تنقید کر سکتے ہیں اور اسے خطے میں ہتھیاروں کی دوڑ کو ہوا دینے کا ذمہ دار ٹھہرا سکتے ہیں۔ ہندوستان کو ان تنقیدوں کا دانشمندی سے جواب دینا ہوگا۔
خلاصہ
ہندوستان اور فرانس کا HAMMER میزائل کے لیے جوائنٹ وینچر ایک کامیاب اسٹریٹجیک شراکت داری کی علامت ہے۔ یہ صرف ایک ہتھیار کا معاہدہ نہیں، بلکہ ہندوستان کی بڑھتی ہوئی عالمی حیثیت، اسٹریٹجیک خود مختاری کے حصول کے عزم، اور فرانس کے ساتھ گہرے اعتماد کا اظہار ہے۔ یہ وینچر ہندوستان کو اپنے حریفوں کے خلاف ایک مضبوط فوجی طاقت کے طور پر کھڑا کرتا ہے، اس کی دفاعی صنعت کو جدید ترین ٹیکنالوجی سے ہمکنار کرتا ہے، اور ایک ایسے عالمی منظر نامے میں اسٹریٹجیک توازن برقرار رکھنے میں مدد کرتا ہے جہاں طاقت کے مراکز تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں۔ اگر یہ شراکت داری کامیاب رہی، تو یہ نہ صرف ہندوستان کی سلامتی کو مضبوط بنائے گی بلکہ آنے والی دہائیوں کے لیے ہند بحرالکاہل اور عالمی دفاعی منظر نامے پر گہرا اثر ڈالے گی۔



0 Comments
Post a Comment