مشرق وسطیٰ میں تازہ ترین کشیدگی: ایران-اسرائیل ہتھیاروں کی دوڑ کا گہرا تجزیہ


پس منظر اور تاریخی تناظر


مشرق وسطیٰ میں ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کوئی نئی بات نہیں ہے۔ یہ تنازع کئی دہائیوں پر محیط ہے، لیکن حالیہ برسوں میں یہ خاص طور پر شدت اختیار کر گیا ہے۔ جون میں ہونے والی 12 روزہ جنگ درحقیقت اس طویل المدت تنازع کا ایک عارضی اظہار تھی۔ دونوں ممالک کے درمیان یہ تصادم براہ راست جنگ کی شکل میں نہیں، بلکہ بالواسطہ تصادم، پراکسی جنگوں، اور سائبر جنگ کی شکل میں جاری رہا ہے۔


ایران کی فوجی تیاریاں: ایک جامع جائزہ


میزائل پروگرام کی بحالی اور توسیع


اسرائیلی چینل 13 کی رپورٹ کے مطابق ایران اپنے میزائل ذخیرے کو پہلے سے کہیں زیادہ تیزی سے بحال کر رہا ہے۔ یہ ایک قابل ذبات فوجی حکمت عملی کا حصہ ہے جس میں ایران نے درج ذیل اقدامات کئے ہیں:


1. تولید کی رفتار میں اضافہ: ایران نے اپنے میزائل پروڈکشن پلانٹس کی کارکردگی میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔ زمین سے زمین پر مار کرنے والے میزائل کی پیداوار خاص طور پر تیز کی گئی ہے۔

2. مقامی پیداوار پر انحصار: ایران نے پابندیوں کے باوجود اپنے دفاعی اڈوں کو مقامی طور پر میزائل اور دیگر اسلحہ تیار کرنے کی صلاحیت پیدا کر لی ہے۔

3. ٹیکنالوجی کی ترقی: ایران کے میزائل اب پہلے سے کہیں زیادہ جدید ہیں، جن میں رینج، وزن اور درستگی کے حوالے سے بہتری آئی ہے۔


زیر زمین سرنگوں کا نیٹ ورک


ایران نے پچھلی جنگوں سے اہم سبق سیکھا ہے۔ اب وہ اپنے بیشتر فوجی اڈوں اور میزائل ذخائر کو زیر زمین سرنگوں میں منتقل کر رہا ہے۔ یہ سرنگیں:


· گہری اور مضبوط: یہ سرنگیں اس قدر گہری ہیں کہ عام میزائل حملوں سے محفوظ رہ سکتی ہیں۔

· راستوں کا جال: یہ سرنگیں ملک کے مختلف حصوں میں پھیلی ہوئی ہیں، جس سے میزائلوں کی منتقلی آسان ہو گئی ہے۔

· پوشیدہ مقامات: ان سرنگوں کے داخلی دروازے انتہائی پوشیدہ ہیں، جس سے انہیں نشانہ بنانا مشکل ہو جاتا ہے۔


میزائل کی تعداد اور درستگی کا تناسب


ایران نے اپنی فوجی حکمت عملی میں اہم تبدیلی کی ہے۔ اب وہ میزائلوں کی درستگی کے بجائے ان کی تعداد اور خفیہ کاری پر زیادہ زور دے رہا ہے۔ اس کی وجوہات میں شامل ہیں:


1. تعداد کی برتری: ایران کا ماننا ہے کہ بڑی تعداد میں میزائل داغنے سے اسرائیلی میزائل ڈیفنس سسٹم (آئیرن ڈوم) کو ناکام بنایا جا سکتا ہے۔

2. لاگت کا تناسب: ایک میزائل کو روکنے والے دفاعی میزائل کی لاگت حملہ آور میزائل سے کہیں زیادہ ہوتی ہے۔

3. نفسیاتی اثر: بڑے پیمانے پر میزائل حملے آبادی میں خوف و ہراس پھیلا سکتے ہیں۔


اسرائیل کی تیاریاں اور ردعمل


مضبوط دفاعی پوزیشن


اسرائیل نے ایران کی ممکنہ جارحیت کے خلاف اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط کیا ہے:


1. آئیرن ڈوم سسٹم: اسرائیل کا میزائل ڈیفنس سسٹم دنیا کا سب سے جدید سسٹم سمجھا جاتا ہے۔

2. ہوائی برتری: اسرائیل کے پاس خطے کی سب سے جدید فضائیہ ہے، جس میں F-35 جیسے جدید ترین جنگی جہاز شامل ہیں۔

3. سائبر وارفیئر: اسرائیل سائبر جنگ میں بھی ماہر ہے اور ایران کے جوہری اور فوجی پروگراموں کو نشانہ بنا سکتا ہے۔


جارحانہ ردعمل کی دھمکی


اسرائیلی سکیورٹی اہلکاروں نے واضح کر دیا ہے کہ اگر ایران حملہ کرتا ہے تو اسرائیل "پچھلے ادوار کے مقابلے میں کہیں زیادہ بڑی قوت سے جواب دے گا۔" اس کا مطلب ہے:


· وسیع پیمانے پر فضائی حملے: اسرائیل ایران کے فوجی اڈوں، جوہری سہولیات اور حکومتی مراکز کو نشانہ بنا سکتا ہے۔

· بحری محاصرہ: اسرائیل ایران کی تجارت کو بحیرہ عرب اور خلیج فارس میں روک سکتا ہے۔

· پراکسی گروپس کو نشانہ بنانا: اسرائیل ایران کے اتحادی گروپس جیسے حزب اللہ کو بھی نشانہ بنا سکتا ہے۔


خطے میں دیگر اہم کھلاڑی


حوثی جنگجو


یمن میں حوثی جنگجو ایران کے اہم اتحادی ہیں۔ اسرائیل کو خدشہ ہے کہ:


1. مشترکہ محاذ: حوثی کسی بھی جنگ میں ایران کی طرف سے لڑ سکتے ہیں۔

2. میزائل حملے: حوثی اسرائیل کے جنوبی حصوں پر میزائل حملے کر سکتے ہیں۔

3. بحری جہازوں کو نشانہ بنانا: حوثی بحیرہ احمر میں اسرائیلی بحری جہازوں کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔


دیگر علاقائی طاقتیں


سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، اور دیگر خلیجی ممالک اس تنازع میں غیر جانبدار رہنے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن وہ ایران کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ سے پریشان ہیں۔


جوہری پروگرام کا مسئلہ


ایران کا جوہری پروگرام اس تنازع کا ایک اہم پہلو ہے:


1. ساخت کی بحالی: ایران اپنے جوہری پروگرام کی بنیادی ڈھانچے کو بحال کر رہا ہے۔

2. یورینیم کی افزودگی: اگرچہ فی الحال یورینیم کی افزودگی کے آثار نظر نہیں آ رہے، لیکن ایران کے پاس اسے دوبارہ شروع کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔

3. بین الاقوامی ردعمل: اگر ایران جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش کرتا ہے تو اسرائیل اور امریکہ فوجی کارروائی کر سکتے ہیں۔


ممکنہ جنگ کے اثرات


اگر جنگ چھڑ جاتی ہے تو اس کے وسیع اثرات ہوں گے:


علاقائی اثرات


1. تیل کی قیمتوں میں اضافہ: جنگ سے خلیجی خطے میں تیل کی ترسیل متاثر ہو گی، جس سے عالمی معیشت کو نقصان پہنچے گا۔

2. مزید عدم استحکام: پورا مشرق وسطیٰ عدم استحکام کا شکار ہو جائے گا۔

3. انسانی بحران: جنگ سے بڑے پیمانے پر نقل مکانی اور انسانی المیہ پیدا ہو گا۔


عالمی اثرات


1. طاقتوں کی مداخلت: امریکہ، روس اور چین اس تنازع میں مداخلت کر سکتے ہیں۔

2. معاشی بحران: عالمی معیشت کو شدید دھچکا لگ سکتا ہے۔

3. بین الاقوامی تعلقات میں کشیدگی: مختلف ممالک کے درمیان تعلقات کشیدہ ہو سکتے ہیں۔


جنگ سے بچاؤ کے امکانات


اگرچہ صورت حال سنگین ہے، لیکن جنگ سے بچاؤ کے کچھ امکانات بھی ہیں:


1. بین الاقوامی ثالثی: یورپی یونین اور دیگر طاقتیں ثالثی کر سکتی ہیں۔

2. خفیہ مذاکرات: ایران اور اسرائیل کے درمیان خفیہ مذاکرات ہو سکتے ہیں۔

3. دباؤ کا توازن: دونوں طرف سے تباہی کا خوف جنگ کو روک سکتا ہے۔


مستقبل کے ممکنہ منظر نامے


آنے والے مہینوں میں درج ذیل منظر نامے سامنے آ سکتے ہیں:


1. محدود جھڑپیں


دونوں طرف سے محدود جھڑپیں ہو سکتی ہیں، لیکن بڑی جنگ سے گریز کیا جا سکتا ہے۔


2. پراکسی جنگ


ایران اور اسرائیل اپنے اتحادی گروپوں کے ذریعے لڑتے رہیں گے۔


3. بڑی جنگ


اگر کوئی بڑا واقعہ ہوتا ہے تو براہ راست جنگ چھڑ سکتی ہے۔


4. سفارتی حل


بین الاقوامی دباؤ کے تحت دونوں ممالک مذاکرات کی میز پر آ سکتے ہیں۔


نتیجہ


مشرق وسطیٰ میں موجودہ صورت حال انتہائی نازک ہے۔ ایران اور اسرائیل دونوں ہی جنگ کے لیے تیار ہیں، لیکن دونوں ہی اس کے نتائج سے آگاہ ہیں۔ آنے والے مہینے اس بات کا تعیین کریں گے کہ خطہ امن کی طرف بڑھے گا یا جنگ کی طرف۔ بین الاقوامی برادری کی ذمہ داری ہے کہ وہ دونوں فریقوں میں مفاہمت کے لیے کام کرے اور ایک تباہ کن جنگ کو روکے۔


اس وقت سب سے اہم بات یہ ہے کہ دونوں طرف کے رہنما عقل و حکمت سے کام لیں اور اپنے عوام کی بہتری کے لیے فیصلے کریں۔ تاریخ گواہ ہے کہ جنگوں کا کوئی فاتح نہیں ہوتا، صرف مفتوح ہوتے ہیں۔