بسم اللہ الرحمن الرحیم
افغانستان کے وزیر تجارت نورالدین عزیزی کی بھارت کے ساتھ تجارتی معاہدے کی خواہش اور موجودہ زمینی حقائق کے درمیان ایک بڑا تضاد نظر آتا ہے۔ یہ صورتحال محض دو ممالک کے درمیان تجارتی بات چیت کا معاملہ نہیں بلکہ خطے کی جغرافیائی سیاست، اقتصادی مجبوریوں اور تاریخی پیچیدگیوں کا ایک ایسا گٹھ ہے جسے سمجھے بغیر افغانستان کے موجودہ اور مستقبل کے تجارتی راستوں کا صحیح تعین ممکن نہیں۔ افغانستان کی جغرافیائی حبس اور اس کے اقتصادی اثرات افغانستان زمین بند ملک ہے۔ یہ اس کی سب سے بڑی جغرافیائی مجبوری ہے جس نے تاریخ کے ہر دور میں اس کی معیشت اور خارجہ پالیسی کو متاثر کیا ہے۔ زمین بند ممالک کے لیے ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات محض خارجہ پالیسی نہیں رہتے بلکہ بقا کے مسئلے بن جاتے ہیں۔ پاکستان افغانستان کا قریب ترین سمندری راستہ ہے اور تاریخی طور پر افغان تجارت کا سب سے بڑا راستہ بھی۔ پاکستان کے ساتھ تعلقات میں دراڑ نے افغانستان کو اس کے بنیادی تجارتی راستے سے محروم کر دیا ہے، جس کا خمیازہ افغان عوام کو مہنگائی اور قلت کے طور پر بھگتنا پڑ رہا ہے۔ نورالدین عزیزی کی بھارت سے اپیل کہ وہ تجارت کو فروغ دے اور کارگو ہب کھولے، اس مجبوری کا اظہار ہے۔ افغانستان اناج، ادویات اور صنعتی سامان تک رسائی چاہتا ہے جو پاکستان کے ساتھ سرحدی بندش کے بعد مشکل ہو گئی ہے۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا بھارت واقعی افغانستان کی اس مجبوری کا مستقل حل بن سکتا ہے؟ بھارت-افغانستان تجارت: امکانات اور رکاوٹیں بھارت کی صنعت یقیناً افغانستان کی بنیادی ضروریات پوری کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ غذائی اجناس، ادویات، صنعتی سامان — ان تمام شعبوں میں بھارت ایک مضبوط ملکی اور برآمدی بیس رکھتا ہے۔ اس نے ماضی میں افغانستان کو اناج امداد بھی فراہم کی ہے۔ لیکن امداد اور مستقل تجارتی تعلق دو الگ چیزیں ہیں۔ مستقل تجارت کے لیے راستوں کی ضرورت ہوتی ہے، اور یہیں پر مسئلہ پیدا ہوتا ہے۔ پاکستانی فضائی حدود کے بغیر بھارت سے افغانستان براہ راст فضائی یا زمینی رابطہ ممکن نہیں۔ نقشہ پر غور کریں تو بھارت سے افغانستان جانے کے لیے یا تو پاکستان کے اوپر سے ہو کر جانا ہوگا، یا پھر ایران یا وسطی ایشیا کے طویل اور پیچیدہ راستے اختیار کرنے ہوں گے۔ یہ دونوں ہی راستے افغانستان کے لیے انتہائی غیر معاشی ہیں۔ طویل تجارتی راستوں کے اقتصادی ریاضیات فرض کریں کہ ایک میڈیسن کا ڈبہ پاکستان سے افغانستان پہنچ کر اگر 1 روپے کا پڑتا ہے تو وہی ڈبہ بھارت سے منگوانے پر 8 روپے کا پڑے گا۔ اس اضافے کی وجہ صرف فاصلہ ہی نہیں بلکہ نقل و حمل کے اخراجات، ٹرانزٹ فیسز، اور وقت کا ضیاع ہے۔ یہی معاملہ افغانستان کی برآمدات کا ہے۔ افغانستان کے پھل اور خشک میوہ جات، جو اپنی تازگی اور معیار کے لیے مشہور ہیں، طویل سفر برداشت نہیں کر سکتے۔ کابل سے زاہدان (ایران) کا فاصلہ تقریباً 1,100 کلومیٹر ہے، جو لاہور سے واہگہ بارڈر کے فاصلے (تقریباً 30 کلومیٹر) سے کہیں زیادہ ہے۔ سامان لانے لے جانے میں جو سفر پہلے تین سے چار دن میں طے ہوتا تھا، وہ اب 20 سے 25 دن پر محیط ہو سکتا ہے۔ کون سا پھل ہے جو 25 دن تک بغیر خراب ہوئے منزل تک پہنچ سکتا ہے؟ اس طویل سفر میں نقل و حمل کے اخراجات اس قدر بڑھ جاتے ہیں کہ افغان مصنوعات کی مسابقت ختم ہو جاتی ہے۔ ایران کے راستے کی حدود اور پابندیاں ایران کے راستے کئی مسائل ہیں۔ ایران خود عالمی پابندیوں کا شکار ہے، جس کا مطلب ہے کہ بینکنگ لین دین میں شدید دشواریاں پیش آتی ہیں۔ بینک ٹرانسفر ممکن نہیں، نقدی کا بہاؤ مشکل ہے، اور تجارتی ضمانتیں ناممکن کے قریب ہیں۔ ایران کا انفراسٹرکچر بھی اس اضافی بوجھ کو اٹھانے کے لیے تیار نہیں۔ اس کے علاوہ، افغانستان اور ایران کے خشک میوہ جات ایک جیسے ہیں۔ اگر افغانستان کے خشک میوہ جات ایران کے راستے برآمد ہوں گے تو اس میں سے ایک بڑا حصہ ایرانی مارکیٹ میں ہی جذب ہو جائے گا یا پھر ایرانی تاجر اسے اپنے نام سے برآمد کر کے زیادہ منافع کما لیں گے۔ افغانستان کو اس کا پورا فائدہ نہیں مل پائے گا۔ بحری راستے: چاہ بہار کا معاملہ اگر بحری راستے کی بات کریں تو بھارت نے ایران کے ساتھ مل کر چاہ بہار بندرگاہ کو فروغ دینے کی کوششیں کی ہیں، جو نظریاتی طور پر افغانستان کے لیے ایک متبادل راستہ ہو سکتی ہے۔ لیکن یہ راستہ بھی انتہائی طویل اور لاگت کے اعتبار سے غیر موثر ہے۔ افغانستان کے سامان کو پہلے چاہ بہار پہنچانا، پھر وہاں سے بحری جہاز پر لادنا — یہ سارا عمل ڈبل خرچہ پیدا کرتا ہے۔ چاہ بہار کی ترقی بھی سیاسی عدم استحکام اور بین الاقوامی پابندیوں کی وجہ سے سست روی کا شکار ہے۔ اس راستے پر افغانستان کا انحصار اس وقت تک غیر محفوظ ہے جب تک کہ ایران اور بھارت کے درمیان گہرا اقتصادی اور سیاسی تعاون قائم نہ ہو۔ افغان تاجروں اور بھارتی تاجروں کے تحفظات دلچسپ بات یہ ہے کہ اس معاہدے کے خلاف صرف افغان تاجر ہی نہیں بلکہ بھارتی تاجر بھی ہیں۔ افغان تاجر پریشان ہیں کہ طویل راستہ ان کی مصنوعات کو غیر مسابقتی بنا دے گا۔ بھارتی تاجر اس لیے پریشان ہیں کہ وہ افغانستان سے اتنی دوری سے کوئی چیز خریدنا نہیں چاہتے، جس میں نقل و حمل کے اخراجات اصل مصنوعات کی قیمت سے بھی زیادہ ہو جائیں۔ دونوں اطراف کے تاجر حکومتوں پر زور دے رہے ہیں کہ ایسا کوئی غیر معاشی معاہدہ نہ کیا جائے۔ یہ صورتحال واضح کرتی ہے کہ افغان طالبان انتظامیہ کو صرف جغرافیائی راستوں ہی کا نہیں بلکہ اقتصادی ریاضی کا بھی درست ادراک ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ بھارت کے ساتھ براہ راست تجارت فی الحال غیر عملی ہے، لیکن وہ پاکستان کے ساتھ تعلقات کی موجودہ کشیدگی کی وجہ سے مجبور ہیں کہ وہ کسی بھی ممکنہ متبادل کو تلاش کریں۔ پاکستان کے ساتھ تعلقات: ناگزیر حقیقت افغانستان کی بقا اور خوشحالی کے لیے پاکستان کے ساتھ تعلقات کا درست ہونا ناگزیر ہے۔ جغرافیہ، تاریخ، ثقافت اور معیشت — ہر اعتبار سے دونوں ممالک ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ پاکستان نہ صرف افغانستان کا قریب ترین سمندری راستہ ہے بلکہ اس کا دوسرا سب سے بڑا تجارتی پارٹنر بھی ہے۔ پاکستان کو مارکیٹ بنانے کے لیے کسی طویل راستے کی ضرورت نہیں۔ یہ راستہ پہلے سے موجود ہے — ٹورخم اور چمن کے بارڈر کراسنگز۔ ان راستوں کے ذریعے تجارت سستا، تیز اور قابل اعتماد ہے۔ اگر افغانستان پاکستان کے بجائے مکمل طور پر ایران پر انحصار کرتا ہے تو کسی بھی ممکنہ تنازعے یا عالمی سیاسی تبدیلی کی صورت میں افغان عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ وا خان کوریڈور اور چین کا کردار کچھ حلقوں میں وا خان کوریڈور کے ذریعے چین سے رابطے کی بات کی جاتی ہے۔ یہ راستہ نظریاتی طور پر دلچسپ ہے لیکو عملی طور پر انتہائی مشکل ہے۔ وا خان کوریڈور کا علاقہ نہایت بلند، پہاڑی اور موسمی حالات کے اعتبار سے ناسازگار ہے۔ اس راستے پر بڑے پیمانے پر تجارت کے لیے جو انفراسٹرکچر درکار ہے، وہ موجود نہیں۔ چین افغانستان پر احسان کر رہا ہے کہ وہ پاکستان کے ذریعے سینٹرل ایشین مارکیٹ تک رسائی دلوا رہا ہے۔ چائنہ پاکستان اکنامک کوریڈور (CPEC) درحقیقت افغانستان کے لیے بھی ایک موقع ہے اگر وہ اس میں شامل ہونے کا راستہ تلاش کر سکے۔ چین کی وسطی ایشیا میں بڑھتی ہوئی اقتصادی دلچسپی افغانستان کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے، لیکن اس کے لیے پاکستان کے ساتھ تعاون ضروری ہے۔ طالبان کی پالیسیوں کا محاسبہ افغان طالبان کو اپنی خارجہ پالیسی، خاص طور پر پاکستان کے تعلقات کے حوالے سے سنجیدہ غور و فکر کی ضرورت ہے۔ خارجہ پالیسی محض نظریاتی موشگافیوں کا نام نہیں بلکہ عوامی بھلائی اور قومی مفاد کا تقاضا ہے۔ افغان عوام کی معاشی حالت پہلے ہی نازک ہے۔ تجارتی راستوں کے مسائل نے اسے مزید گمبھیر بنا دیا ہے۔ طالبان انتظامیہ کو درج ذیل باتوں پر غور کرنا ہوگا: 1. پاکستان کے ساتھ تعلقات کی بحالی: یہ کوئی انتخاب نہیں بلکہ ضرورت ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان سلامتی کے تحفظات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنا ہوگا۔ 2. مستحکم تجارتی معاہدے: دونوں ممالک کے درمیان مستحکم اور قابل اعتماد تجارتی معاہدے ہونے چاہئیں جو تاجروں کو تحفظ فراہم کریں۔ 3. ٹرانزٹ تجارت کو فروغ: افغانستان کو پاکستان کے راستے ٹرانزٹ تجارت کو فروغ دینا چاہیے، جس سے نہ صرف افغانستان بلکہ پورے خطے کی معیشت کو فائدہ پہنچے گا۔ 4. متوازن خارجہ پالیسی: افغانستان کو اپنے تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ متوازن تعلقات استوار کرنے چاہئیں۔ بھارت اور ایران کے ساتھ تعلقات ضرور ہوں، لیکن ان کی بنیاد پاکستان کے ساتھ تعلقات کی قیمت پر نہ ہو۔ نتیجہ افغانستان کے وزیر تجارت کی بھارت سے التجاء اس مجبوری کی عکاس ہے جس میں افغانستان فی الحال گھرا ہوا ہے۔ لیکن یہ مجبوری جغرافیائی حبس سے پیدا نہیں ہوئی بلکہ سیاسی اور خارجہ پالیسی کے انتخاب کا نتیجہ ہے۔ جغرافیائی حبس ایک ایسی حقیقت ہے جسے افغانستان نے تاریخ کے ہر دور میں قبول کیا ہے اور اسی کے مطابق اپنے تعلقات استوار کیے ہیں۔ بھارت کے ساتھ تجارت کا معاہدہ ایک خواب ہے جس کی تعبیر کے لیے زمینی حقائق کو بدلنا ہوگا۔ جب تک پاکستان کے ساتھ تعلقات معمول پر نہیں آتے، افغانستان کے پاس کوئی مستحکم، سستا اور قابل اعتماد تجارتی راستہ موجود نہیں ہے۔ ایران کا راستہ مشکلات سے بھرپور ہے، چین کا راستہ ابھی خواب ہے، اور بھارت کا راستہ محض ایک خواہش۔ افغان طالبان کو اپنی قومی مفاد کو ترجیح دیتے ہوئے پاکستان کے ساتھ تعلقات درست کرنے ہوں گے۔ یہ نہ صرف افغان عوام کی معاشی ضرورت ہے بلکہ خطے میں امن اور استحکام کے لیے بھی ناگزیر ہے۔ افغانستان کی خوشحالی کا راز اس کے جغرافیائی حبس میں نہیں بلکہ اس کے ہمسایہ ممالک، خاص طور پر پاکستان کے ساتھ ہم آہنگی میں پوشیدہ ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب افغانستان اور پاکستان کے تعلقات اچھے رہے ہیں، دونوں ممالک کے عوام نے اس کے اقتصادی اور سماجی فوائد دیکھے ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ دونوں ممالک اپنے اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے باہمی مفاد اور خطائی استحکام کے لیے کام کریں۔