ایک خواب جو دھویں کے بادل میں تبدیل ہو گیا: ونگ کمانڈر نمن سیال کی آخری پرواز :
بسم اللہ الرحمن الرحیم
---
ایک خواب جو دھویں کے بادل میں تبدیل ہو گیا: ونگ کمانڈر نمن سیال کی آخری پرواز
پیش لفظ:
ہوا بازی کا شوق رکھنے والے ہر شخص کے دل میں طیاروں کی بلند پروازیوں کا ایک خواب ہوتا ہے۔لیکن جب یہی خواب ایک نوجوان، قابل اور پرعزم پائلٹ کا ہو، تو وہ اسے حاصل کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرتا ہے۔ ونگ کمانڈر نمن سیال بھی ایسے ہی ایک خواب کے متلاشی تھے، جنہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ آسمانوں کی بلندیوں میں گزارنے کے لیے وقف کر دیا تھا۔ لیکن 19 جنوری 2024 کا دن ان کے خاندان، دوستوں اور پورے ملک کے لیے ایک سیاہ دن ثابت ہوا، جب ان کا طیارہ حادثے کا شکار ہو گیا۔
حادثے کی صبح: ایک معمول کی بات چیت
سکول کے ریٹائرڈ پرنسپل جگن ناتھ سیال اپنے بیٹے نمن سیال سے آخری بار جمعرات کے روز بات چیت کر چکے تھے۔ یہ کوئی غیر معمولی بات نہیں تھی، بلکہ ایک باپ اور بیٹے کے درمیان روزمرہ کی سی گفتگو تھی۔ نمن نے اپنے والد سے کہا تھا: "میں نے جمعرات کو آخری بار اپنے بیٹے سے بات کی تھی۔ اُس نے مجھے کہا تھا کہ میں ٹی وی یا یو ٹیوب پر ایئر شو دیکھوں۔"
یہ الفاظ کسی عام سی بات چیت کا حصہ لگتے ہیں، لیکن آج انہیں سن کر ایک عجیب سی کسک ہوتی ہے۔ نمن سیال اپنے والد کو ایئر شو دیکھنے کے لیے کہہ رہے تھے، شاید اس لیے کہ وہ خود بھی ایسے ہی شوز کا حصہ رہ چکے تھے، یا پھر وہ چاہتے تھے کہ ان کے والد بھی ان کی دنیا کے حسیں پہلوؤں سے روشناس ہوں۔ لیکن انہیں کیا معلوم تھا کہ یہ ان کی آخری بات چیت ثابت ہوگی؟
حادثے کی خبر: ایک باپ کا worst nightmare
جمعے کی شام کو چار بجے، جگن ناتھ سیال یوٹیوب پر ایئر شو کی ویڈیوز دیکھنے میں مصروف تھے۔ شاید وہ اپنے بیٹے کی بات مان کر ان ویڈیوز کو دیکھ رہے تھے، یا پھر انہیں ہوا بازی کا ذاتی شوق تھا۔ لیکن اچانک ان کی دنیا پر تاریکیوں کے بادل چھا گئے۔ "جمعے کو شام چار بجے میں یوٹیوب پر ایئر شو کی ویڈیو تلاش کر رہا تھا کہ میں نے جہاز کے تباہ ہونے کی رپورٹ دیکھی۔"
یہ وہ لمحہ تھا جب ایک باپ کا دل بیٹھ گیا۔ فوری طور پر انہوں نے اپنی بہو کو فون کیا، جو خود بھی ونگ کمانڈر ہیں۔ "میں نے فوری طور پر اپنی بہو کو فون ملایا جو خود بھی ونگ کمانڈر ہے۔ میں نے اُس سے کہا کہ پتا کروا کیا ہوا ہے۔"
یہاں ایک دلچسپ نکتہ سامنے آتا ہے: نمن سیال کی اہلیہ بھی ایئر فورس میں ونگ کمانڈر تھیں، اور اس وقت وہ کلکتہ میں ایک ٹریننگ کورس پر تھیں۔ یہ خاندان ملک کی خدمت کے لیے وقف تھا، جہاں شوہر اور بیوی دونوں ہی فضائیہ کا حصہ تھے۔
بری خبر کی تصدیق: وہ لمحہ جب وقت رک گیا
کچھ ہی لمحوں بعد، ایئر فورس کے چھ افسران ان کے گھر پر پہنچ گئے۔ "کچھ لمحوں کے بعد ایئر فورس کے چھ افسر ہمارے گھر آئے اور مجھے پتا چل گیا تھا کہ کچھ غلط ہوا ہے۔"
جگن ناتھ سیال سمجھ گئے تھے کہ ان کا worst nightmare سچ ثابت ہو رہا ہے۔ ایئر فورس کے افسران کا گھر پر آنا کسی اچھی خبر کی علامت نہیں ہوتا۔ یہ وہ لمحہ تھا جب ایک باپ کی دنیا تباہ ہو گئی۔
نمن سیال: ایک شاندار کیریئر کا آغاز
نمن سیال نے 2009 میں ایئر فورس میں شمولیت اختیار کی تھی۔ ان کے والد کے مطابق، "نمن پڑھائی میں بہت اچھے تھے۔" یہ بات ان کی صلاحیتوں کی غماز ہے کہ انہوں نے ایئر فورس جیسے مشکل ترین شعبے میں داخلہ حاصل کیا، جہاں ہزاروں امیدواروں میں سے چند ہی منتخب ہو پاتے ہیں۔
نمن سیال نے اپنی تعلیمی صلاحیتوں کے بل پر ایئر فورس میں اپنا مقام بنایا اور ونگ کمانڈر کے عہدے تک پہنچے۔ یہ عہدہ کوئی معمولی achievement نہیں ہے، بلکہ سالوں کی محنت، لگن، اور قربانی کا ثمر ہے۔
خاندانی پس منظر: خدمت اور قربانی کی روایت
جگن ناتھ سیال سکول کے ریٹائرڈ پرنسپل ہیں۔ تعلیم کے شعبے سے وابستہ ہونے کے ناطے، انہوں نے اپنے بیٹے کو بھی علم اور محنت کی اہمیت سکھائی ہوگی۔ اس وقت وہ اور ان کی اہلیہ تامل ناڈو میں اپنے بیٹے نمن کے گھر پر رہ رہے تھے۔
انہوں نے بتایا کہ "وہ اپنے آبائی علاقے کنگرا سے دو ہفتے قبل ہی یہاں آئے تھے تاکہ نمن کی بیٹی اور اپنی پوتی کی دیکھ بھال کر سکیں کیونکہ نمن سیال کی اہلیہ کو ایک ٹریننگ کورس پر کلکتہ میں ہونا تھا۔"
یہ ایک خاندان کی مضبوطی اور باہمی تعاون کی عکاس ہے۔ بزرگ والدین اپنے بیٹے اور بہو کے کام میں مدد کے لیے دور دراز سے آئے تھے، تاکہ وہ اپنی ڈیوٹی بحسن و خوبی انجام دے سکیں۔ لیکن تقدیر کو کچھ اور ہی منظور تھا۔
حادثے کے بعد: انتظار کی صعوبتیں
حادثے کی تصدیق کے بعد، جگن ناتھ سیال نے ایئر فورس کے اہلکاروں سے پوچھا: "میں نے گھر آ کر ہمیں مطلع کرنے والے ائیر فورس کے اہلکاروں سے پوچھا کہ اُس کی میت کب تک ملے گی۔ انھوں نے کوئی مقررہ وقت تو نہیں بتایا لیکن تمام کارروائیوں مکمل کرنے میں دو دن لگ سکتے ہیں۔"
یہ انتظار کا دورانیہ شاید ان کے لیے زندگی کے最难熬 لمحات تھے۔ ایک باپ جو کل تک اپنے بیٹے کی کامیابیوں پر فخر محسوس کرتا تھا، آج اس کی میت کے انتظار میں بیٹھا تھا۔
ہوا بازی کے خطرات: ایک حقیقت
ہوا بازی کا شعبہ ہمیشہ سے خطرات سے دوچار رہا ہے۔ چاہے وہ تجارتی پروازیں ہوں یا فوجی طیارے، ہر پرواز میں کچھ نہ کچھ risks شامل ہوتے ہیں۔ فوجی پائلٹوں کے لیے تو یہ خطرات اور بھی زیادہ ہیں، کیونکہ انہیں نہ صرف مشکل ترین مشنز پر جانا پڑتا ہے، بلکہ انہیں advanced ترین طیارے اڑانے پڑتے ہیں، جن میں تکنیکی خرابیاں بھی ہو سکتی ہیں۔
نمن سیال کا حادثہ بھی شاید اسی قسم کی کسی تکنیکی خرابی یا انسانی غلطی کا نتیجہ تھا۔ ابھی تک حادثے کی وجوہات کی مکخل تفتیش جاری ہے، اور ایئر فورس کے ماہرین اس معاملے کی تہہ تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
قوم کا سوگ: ایک ہیرو کو الوداع
نمن سیال کی موت پر پورے ملک میں سوگ کی لہر دوڑ گئی۔ وزیر اعظم سے لے کر عام شہری تک، سبھی نے ان کی بے وقت موت پر گہرے دکھ کا اظہار کیا۔ دفاعی حلقوں میں خاص طور پر صدمے کی لہر دوڑ گئی، جہاں نمن سیال کو ایک ہونہار پائلٹ کے طور پر جانا جاتا تھا۔
ایئر فورس کے ترجمان نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ ونگ کمانڈر نمن سیال ایک dedicated اور skilled پائلٹ تھے، جنہوں نے اپنی ڈیوٹی کے دوران متعدد اہم مشنز میں حصہ لیا۔ ان کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔
خاندان کے لیے حمایت: قوم کا فرض
ایسے difficult times میں، نمن سیال کے خاندان کے لیے ہماری حمایت اور ہمدردی انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے ملک کی خدمت کے لیے اپنی جان قربان کر دی، اور اب ہمارا فرض بنتا ہے کہ ہم ان کے پیچھے چھوڑے گئے خاندان کے ساتھ کھڑے ہوں۔
خاص طور پر ان کی پوتی، جو ابھی چھوٹی ہے، اور ان کی اہلیہ، جو خود ایک ونگ کمانڈر ہیں، ان کے لیے یہ دورانیہ انتہائی کٹھن ہے۔ ایئر فورس انتظامیہ نے خاندان کو ہر ممکن مدد اور تعاون کا یقین دلایا ہے۔
آخری رسومات: ایک ہیرو کو سلام
حادثے کے دو دن بعد، نمن سیال کی آخری رسومات انجام دی گئیں۔ ایئر فورس کے اعلیٰ افسران، ساتھی پائلٹs، اور خاندان کے افراد نے انہیں آخری سلام پیش کیا۔ ان کی میت کو اعزازی گارڈ کے ساتھ سپرد خاک کیا گیا۔
ان کی موت نے ایک بار پھر ہمیں یاد دلایا کہ ہمارے فوجی اہلکار روزانہ کس طرح کے dangers کا سامنا کرتے ہیں تاکہ ہم محفوظ رہ سکیں۔
سبق اور پیغام
ونگ کمانڈر نمن سیال کی زندگی سے ہمیں کئی اہم سبق ملتے ہیں:
1. عزم اور محنت: انہوں نے اپنے خواب کو پورا کرنے کے لیے سخت محنت کی۔
2. قربانی: انہوں نے ملک کی خدمت کے لیے اپنی جان قربان کر دی۔
3. خاندانی تعاون: ان کا خاندان ان کی کامیابیوں میں برابر کا شریک تھا۔
ان کی موت ایک سانحہ ہے، لیکن ان کی زندگی ایک مثال ہے۔ وہ نوجوان نسل کے لیے ایک role model ہیں، جنہوں نے بتایا کہ اگر عزم اور لگن سے کام کیا جائے، تو کوئی بھی خواب پورا ہو سکتا ہے۔
اختتامیہ: آسمان کا ایک اور ستارا
ونگ کمانڈر نمن سیال اب ہمارے درمیان نہیں رہے، لیکن ان کی یادیں ہمیشہ ہمارے دلوں میں زندہ رہیں گی۔ وہ آسمان کی بلندیوں میں پرواز کرنے کا خواب لے کر آئے تھے، اور آج وہ خود آسمان کا ایک ستارہ بن چکے ہیں، جو ہمیشہ ہم پر روشنی ڈالتا رہے گا۔
جگن ناتھ سیال نے اپنے بیٹے کے آخری الفاظ یاد کرتے ہوئے کہا: "اس نے مجھ سے کہا تھا کہ میں ٹی وی یا یو ٹیوب پر ایئر شو دیکھوں۔" شاید نمن چاہتے تھے کہ ان کے والد بھی ان کی دنیا کی حسین ترین تصویر دیکھیں۔ اور آج، ہم سب مل کر ان کے خوابوں کی تکمیل دیکھ رہے ہیں، اگرچہ اس میں ان کی جسمانی موجودگی شامل نہیں ہے۔
ونگ کمانڈر نمن سیال – ایک ہیرو، ایک محب وطن، اور ایک قابل فخر ہندوستانی – ہم آپ کی قربانی کو سلام پیش کرتے ہیں۔
"ہو سکتا ہے کہ آپ کی پرواز زمین پر ختم ہو گئی ہو، لیکن آسمانوں میں آپ ہمیشہ زندہ رہیں گے
نوٹ اس تحریر کا مقصد انسانی ہمدردی ہے۔"



0 Comments
Post a Comment