افغانستان نے قطر اور ترکیہ کو پیغام دیا ہے کہ وہ دوبارہ






 کشیدگی کو کم کرنے کیلئے مداخلت کریں،مگر ان کی طرف سے کوئی جواب نہیں دیا گیا،کل افغان عبوری حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے افغانستان میں ہونے والے تین حملوں کا الزام پاکستان پر لگایا جس کی پاکستان نے تردید کی اور افغان ترجمان نے کہا کہ اس کا جواب ملے گا۔پاکستان نے افغان طالبان کو ایران کے ذریعے پیغام دیا ہے کہ اگر ذرا سی بھی حرکت ہوئی تو اس کا جواب بہت زیادہ برا ہوگا۔ 


پاکستان پریزنٹیشن میں ایسی کیا چیزیں دکھا رہا ہے کہ دوست ممالک افغانستان کی بات کو رد کرتے ہیں اور پیچھے ہٹنے پر مجبور ہو جاتے ہیں، ممکنہ طور پر ایران نے بھی افغانستان کو کہا ہے کہ اگر کوئی ایسی حرکت ہوئی تو وہ ثالثی سے دوری اختیار کرے گا،ایران کے پیغام کے بعد آج افغانستان نے قطر اور ترکیہ کو دوبارہ مداخلت کرنے کیلئے کہا ہے ۔ 


پاکستان کا ایک مدعا ہے کہ افغانستان کی زمین سے پاکستان میں دہشت گردی بند کی جائے،اس کے طریقہ کار پر بحث ہوئی پاکستان نے کہا کہ افغان طالبان کے سپریم لیڈر ملا ہیبت اللہ اخواندزادہ فتوی دیں۔کہ یہ لوگ جہاد نہیں کر رہے بلکہ فتنہ الخوارج ہیں۔پاکستان یہ فتوی شیخ عبد الحکیم حقانی سے نہیں چاہتا بلکہ افغان سپریم لیڈر کا چاہتا ہے۔ 


تحریک طالبان پاکستان،گل بہادر گروپ سمیت جتنے بھی دہشت گرد گروپ ہیں وہ افغان طالبان کے سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخواندزادہ کو مرشد تسلیم کرتے ہیں،اور ان کی بات ان کیلئے حرف آخر ہے شیخ عبد الحکیم حقانی پر اختلاف رائے ہے۔اب سوال یہ ہے کہ پاکستان ایسی کیا پریزنٹیشن دیتا ہے کہ ثالثی کا کردار ادا کرنے والے ممالک افغان طالبان سے معذرت کرتے ہیں۔ 


پاکستان نے جب سے تحریک طالبان پاکستان کیخلاف آپریشن شروع کیا،تو یہ تقسیم ہونا شروع ہو گئے،ان کے کمانڈرز نے اپنے نام سے نئے گروپ بنائے اور پاکستان میں دہشت گردی کرنا شروع کر دی،جب سیکیورٹی فورسز یا خود کش حملہ ہوتا ہے تو تحریک طالبان پاکستان اس کی ذمہ داری قبول نہیں کرتی بلکہ دوسرا گروہ اس حملے کو قبول کرتا ہے اور ٹی ٹی پی بری ذمہ ہو جاتی ہے۔ افغان طالبان کہتے ہیں ہم تو حملے نہیں کر رہے۔ 


مذاکرات میں بھی افغان طالبان کا یہی دعوی تھا پاکستان نے ان تمام گروپس کی موومنٹ، پہلے کہاں کام کرتے رہے، کس گروپ کا حصہ تھے کب نیا گروپ بنایا ہے کون کون سے لوگ شامل ہیں اسلحہ کس گروپ نے دیا ہے وہ تمام چیزیں جمع کیں اور ثالثی کا کردار ادا کرنے والوں کو دیکھا دیں۔ انھوں نے افغان طالبان کو کہا کہ یہ تو آپ کے ہی لوگ ہیں۔ان کو آپ کی ہی سپورٹ ہے۔ 


یہ نئے کوئی دس بارہ گروپ سامنے آئے ہیں۔یہ وہاں متحرک ہیں جہاں پہلے تحریکِ طالبان پاکستان اور اتحاد المجاہدین پاکستان تھے اب جو نئے گروپ سامنے آئے ہیں ان میں دفاعِ قدس، انصار الجہاد، تحریک لبیک پاکستان فورس اور اسلامی امارت پروٹیکشن فورس سامنے آئے ہیں، اب جو بھی نیا حملہ ہو رہا ہے یہی گروپ ذمہ داری قبول کر رہے ہیں۔ 


دفاعِ قدس گروپ کہتا ہے کہ پاکستان اسرائیل کو تسلیم کرنے جا رہا ہے تو ہم اس وجہ سے حملے کر رہے ہیں،یہ گروپ دیر، خیبر، لکی مروت، بنوں اور باجوڑ میں کارروائیاں کر رہا ہے، انصار الجہاد پاکستان باجوڑ، شمالی وزیرستان اور جنوبی وزیرستان میں حملوں کی ذمہ داریاں قبول کر رہا ہے، تحریکِ لبیک پاکستان فورس یہ پشاور میں جاسوسی نیٹ ورک چلا رہا ہے۔ 


پاکستان نے نومبر میں ان تمام گروپس کیخلاف کارروائیاں شروع کیں ان کارروائیوں کے نتیجے میں حملے بھی ہوئے، اب اگر فتنہ الخوارج کا فتوی شیخ عبد الحکیم حقانی دیتا ہے تو ان کی کارروائیاں جاری رہیں گی اگر فتوی افغان سپریم لیڈر کا آتا ہے تو ان کو خود کو بچانے کا کوئی جواز نہیں ملے گا۔ ترکیہ بھی اسی وجہ سے پیچھے ہٹا ہے اور پاکستان کیلئے جنگ کے سوا کوئی اور آپشن نہیں رکھا گیا۔ایران نے بھی فتوی پر زور دیا اور افغان طالبان کو کہا کہ اگر پیچھے نہیں ہٹتے تو ہم ثالثی نہیں کریں گے بلکہ پاکستان کا ساتھ دیں گے۔ 


تحریر:فرحان ملک 


#FarhanMalik #PakAfghanConflict #pakafghanrelations #iranafghan #PakistanNews