پاکستان ڈرون ٹیکنالوجی
بسم اللہ الرحمن الرحیم
زوہائی ائیر شو 2024 کے موقع پر سعودی عرب اور چین کے درمیان ہونے والی ڈرون، بیلسٹک میزائل اور لیزر ہتھیاروں کی تاریخی ڈیل نے عالمی دفاعی منڈی میں ایک نئی بحث کا آغاز کر دیا ہے۔ یہ معاہدہ نہ صرف دونوں ممالک کے درمیان موجودہ دفاعی تعاون میں اضافے کا اظہار ہے بلکہ خطے میں طاقت کے توازن پر بھی گہرے اثرات مرتسم کرے گا۔ اس ڈیل کا ایک اہم پہلو چینی ساختہ TB001 "ٹوینڈریگن" (Twin Dragon) ڈرون کا سعودی عرب میں مقامی طور پر تیار کیا جانا ہے۔ TB001 ایک میڈیم الٹی ٹیوڈ لانگ اینڈیورنس (MALE) ڈرون ہے جو اپنی غیر معمولی رینج، بردباری اور بھاری payload اٹھانے کی صلاحیت کی بدولت جدید فضائی دفاعی نظاموں میں ایک اہم مقام رکھتا ہے۔ ذیل کے مضامین میں ہم TB001 ڈرون کی تکنیکی تفصیلات، اس کی تاریخی اور جغرافیائی سیاسی اہمیت، اور مستقبل کے دفاعی منظر نامے پر اس کے ممکنہ اثرات کا جائزہ لیں گے۔
TB001 ڈرون کی تکنیکی تفصیلات اور خصوصیات
TB001 ڈرون سیچوان ٹینگڈن اینڈرو space سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کمپنی کا تیار کردہ ہے۔ اسے پہلی بار 2017 میں پیش کیا گیا تھا اور اس کا ایک بہتر ورژن TB001A 2020 میں متعارف کرایا گیا۔ یہ ڈرون اپنی منفرد ڈیزائن اور تکنیکی صلاحیتوں کی بدولت جدید ڈرون ٹیکنالوجی کا شاہکار قرار دیا جا سکتا ہے۔
1. ڈیزائن اور ساخت:
TB001 ڈرون کی لمبائی 10 میٹر،پروں کا پھیلاؤ 20 میٹر، اور اونچائی 3.3 میٹر ہے۔ یہ ڈرون اپنی ساخت میں روایتی ڈرونز سے مختلف ہے کیونکہ اس کے دو ورژنز ہیں۔ پہلا ورژن TB001 ایک ڈوئل انجن ڈرون ہے جبکہ دوسرا ورژن TB001A تین انجنوں پر مشتمل ہے۔ TB001A کے دو انجن پروں پر جبکہ تیسرا انجن ٹیل پر نصب ہے۔ یہ انجن ٹربو چارجڈ پسٹن انجن ہیں جو تین بلیڈز والے پروپیلرز سے منسلک ہیں۔ یہ ڈیزائن ڈرون کو زیادہ طاقت اور ایندھن کی کارکردگی فراہم کرتا ہے۔
2. Payload کی صلاحیت:
TB001 کا بیس ورژن 1200 کلوگرام جبکہ TB001A ورژن 1500 کلوگرام تک payload اٹھانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ڈرون کے چار ہارڈ پوائنٹس ہیں جن پر مختلف قسم کے ہتھیار نصب کیے جا سکتے ہیں۔ یہ ہتھیاروں میں لیزر گائیڈڈ بم، اینٹی ٹینک میزائل، گلائیڈ بم، اور سیٹلائیٹ گائیڈڈ بم شامل ہیں۔ اس کے علاوہ، ڈرون میں جاسوسی اور نگرانی کے آلات جیسے ٹی وی کیمرہ، لیزر ٹارگٹ ڈیزگنیٹر، اور الیکٹرو آپٹیکل سینسرز بھی نصب ہوتے ہیں۔
3. رینج اور بردباری:
TB001 کے دونوں ورژنز 6000 کلومیٹر تک کی رینج رکھتے ہیں اور مسلسل 35 گھنٹے تک پرواز کر سکتے ہیں۔یہ رینج اسے طویل المدتی جاسوسی اور حملہ آور مشنز کے لیے موزوں بناتی ہے۔ ڈرون کی زیادہ سے زیادہ پرواز کی بلندی بیس ورژن میں 8000 میٹر جبکہ TB001A ورژن میں 9500 میٹر ہے۔ اس کی چڑھائی کی شرح 10 میٹر فی سیکنڈ ہے۔
4. مواصلاتی نظام:
TB001 میں لائن آف سائٹ(LOS) اور سیٹلائیٹ مواصلاتی نظام دونوں موجود ہیں۔ LOS مواصلات کے ذریعے یہ 280 کلومیٹر تک اپنی کمانڈ پوسٹ سے رابطہ برقرار رکھ سکتا ہے جبکہ سیٹلائیٹ مواصلات کی صورت میں اس کی مواصلاتی رینج 3000 کلومیٹر تک بڑھ جاتی ہے۔ یہ خصوصیت ڈرون کو طویل فاصلے پر مشنز کے لیے انتہائی موثر بناتی ہے۔
5. وزن اور کارکردگی:
بیس ورژن کا زیادہ سے زیادہ ٹیک آف وزن 2800 کلوگرام ہے جبکہ TB001A کا زیادہ سے زیادہ ٹیک آف وزن 3200 کلوگرام ہے۔اس وزن میں ڈرون کا اپنا وزن، ایندھن، اور payload شامل ہیں۔
تاریخی اور جغرافیائی سیاسی سیاق و سباق
سعودی عرب اور چین کے درمیان یہ ڈیل ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب مشرق وسطی میں طاقت کا توازن تبدیل ہو رہا ہے۔ سعودی عرب روایتی طور پر امریکہ اور مغربی ممالک پر اپنے دفاعی ضروریات کے لیے انحصار کرتا رہا ہے، لیکن حالیہ برسوں میں اس نے چین اور روس جیسے ممالک کے ساتھ تعلقات استوار کرنے کی کوشش کی ہے۔ یہ ڈیل اس نئی پالیسی کا ایک اہم حصہ ہے۔
1. سعودی عرب کی دفاعی خود انحصاری کی کوشش:
سعودی عرب نے"ویژن 2030" کے تحت دفاعی شعبے میں خود انحصاری حاصل کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ TB001 ڈرون کے مقامی طور پر تیار کیے جانے سے سعودی عرب کو نہ صرف جدید ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہو گی بلکہ وہ اپنی دفاعی صنعت کو بھی مضبوط بنا سکے گا۔ یہ قدم سعودی عرب کی علاقائی طاقت کے طور پر ابھرنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔
2. چین کا عالمی دفاعی منڈی میں توسیع:
چین نے حالیہ برسوں میں اپنی دفاعی مصنوعات کو عالمی منڈی میں متعارف کرانے کی کوششوں میں تیزی لائی ہے۔TB001 ڈرون کی سعودی عرب کو فروخت چین کی اس کوشش کا ایک اہم حصہ ہے۔ چین پہلے ہی متعدد ممالک کو ڈرونز فراہم کر چکا ہے، جن میں متحدہ عرب امارات، مصر، اور پاکستان شامل ہیں۔ سعودی عرب جیسے اہم ملک کے ساتھ ڈیل چین کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے۔
3. امریکہ اور چین کے درمیان کشیدگی:
یہ ڈیل امریکہ اور چین کے درمیان جاری تجارتی اور دفاعی کشیدگی کے پس منظر میں ہوئی ہے۔امریکہ نے ماضی میں سعودی عرب کو ڈرونز کی فروخت پر پابندیاں عائد کی تھیں، جس کے بعد سعودی عرب نے چین کا رخ کیا۔ یہ معاملہ عالمی سطح پر چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کا اظہار ہے۔
TB001 ڈرون کی دفاعی اہمیت
TB001 ڈرون اپنی تکنیکی صلاحیتوں کی بدولت جدید جنگوں میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ یہ ڈرون جاسوسی، نگرانی، اور ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کی طویل رینج اور بردباری اسے طویل المدتی مشنز کے لیے موزوں بناتی ہے۔
1. ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت:
TB001 ڈرون مختلف قسم کے ہتھیار اٹھا سکتا ہے،جو اسے زمینی اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے موثر بناتا ہے۔ اس میں لیزر گائیڈڈ بم، اینٹی ٹینک میزائل، اور سیٹلائیٹ گائیڈڈ بم شامل ہیں۔ یہ ہتھیار جدید جنگوں میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
2. جاسوسی اور نگرانی:
ڈرون میں نصب جدید سینسرز اور کیمرے اسے جاسوسی اور نگرانی کے مشنز کے لیے موزوں بناتے ہیں۔یہ ڈرون دشمن کی حرکات و سکنات پر نظر رکھ سکتا ہے اور حقیقی وقت میں معلومات فراہم کر سکتا ہے۔
3. مواصلاتی نظام:
ڈرون کا سیٹلائیٹ مواصلاتی نظام اسے طویل فاصلے پر مشنز کے لیے موثر بناتا ہے۔یہ خصوصیت اسے علاقائی سطح پر اہم کردار ادا کرنے کے قابل بناتی ہے۔
مستقبل کے دفاعی منظر نامے پر اثرات
سعودی عرب اور چین کے درمیان یہ ڈیل مستقبل کے دفاعی منظر نامے پر گہرے اثرات مرتسم کر سکتی ہے۔ اس ڈیل کے نتیجے میں خطے میں طاقت کا توازن تبدیل ہو سکتا ہے اور نئی دفاعی شراکتیں وجود میں آ سکتی ہیں۔
1. خطے میں طاقت کا توازن:
سعودی عرب کا چین کے ساتھ دفاعی تعاون خطے میں امریکہ کے اثر و رسوخ میں کمی کا باعث بن سکتا ہے۔یہ معاملہ مشرق وسطی میں چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کا اظہار ہے۔
2. دفاعی صنعت میں تبدیلی:
سعودی عرب کا مقامی طور پر ڈرون تیار کرنا دیگر ممالک کے لیے بھی ایک مثال بن سکتا ہے۔یہ قدم دفاعی صنعت میں خود انحصاری کی طرف ایک اہم قدم ہے۔
3. نئی دفاعی شراکتیں:
اس ڈیل کے نتیجے میں دیگر ممالک بھی چین کے ساتھ دفاعی تعاون بڑھا سکتے ہیں۔یہ معاملہ عالمی سطح پر دفاعی اتحادات میں تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔
خلاصہ
زوہائی ائیر شو 2024 کے موقع پر سعودی عرب اور چین کے درمیان ہونے والی ڈرون، بیلسٹک میزائل اور لیزر ہتھیاروں کی ڈیل ایک تاریخی معاہدہ ہے جس کے اثرات نہ صرف خطے بلکہ عالمی سطح پر محسوس کیے جائیں گے۔ TB001 ڈرون کی تکنیکی صلاحیتیں اسے جدید دفاعی نظاموں کا اہم حصہ بناتی ہیں۔ سعودی عرب کا مقامی طور پر ڈرون تیار کرنا اس کی دفاعی خود انحصاری کی کوششوں کا اہم حصہ ہے جبکہ چین کے لیے یہ ڈیل اس کی عالمی دفاعی منڈی میں توسیع کا ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ ڈیل مستقبل کے دفاعی منظر نامے کو تشکیل دینے میں اہم کردار ادا کرے گی۔


0 Comments
Post a Comment