:
عنوان: راج ناتھ سنگھ کا بیان: سندھ کی “واپسی” کا
سیاسی اور تہذیبی تناظر
آج انڈین وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے نئی دہلی میں “سندھی سمایج سمّیلن” (Sindhi Samaj Sammelan) کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ایک متنازع لیکن گہرا بیان دیا ہے: “سرحدیں بدل سکتی ہیں اور کل سندھ دوبارہ بھارت کا حصہ بن سکتا ہے۔” اُن کا کہنا تھا کہ اگرچہ آج سندھ بھارت کا جغرافیائی حصہ نہیں ہے، مگر “تہذیبی اعتبار سے” یہ حصہ ہمیشہ سے بھارت کی تہذیبی وراثت کا حصہ رہا ہے۔ یہ بیان صرف دو ممالک کے سرحدی تنازعات کی سیاست نہیں ہے، بلکہ ایک سماجی، تاریخی اور تہذیبی ناطے کی بازگشت بھی ہے۔
۱. بیان کا پسِ منظر
راج ناتھ سنگھ نے اپنا یہ بیان سندھی سمایج کے ایک تقریب میں دیا، جہاں وہ سندھی برادری کے ساتھ جذباتی اور تہذیبی تعلق کو اجاگر کر رہے تھے۔
انہوں نے لال کرشن آڈوانی کا حوالہ دیا جو اپنی کتابوں میں لکھتے تھے کہ سندھی ہندو خصوصاً ان کی نسل نے تقسیمِ ہند کے بعد سندھ کا علیحدہ ہونا کبھی مکمل طور پر قبول نہ کیا۔
راج ناتھ سنگھ کا کہنا تھا کہ “آج سندھ بھارت کا حصہ نہیں ہو سکتا، مگر تہذیبی لحاظ سے یہ ہمیشہ ہمارا رہے گا۔”
۲. بیان کی وجوہات اور مفہوم
(الف) تہذیبی اور تاریخی روابط
راج ناتھ سنگھ کی گفتگو میں ایک واضح نکتہ ہے: تہذیبی تعلق — وہ دلائل کہ سندھ صرف زمین کا معاملہ نہیں بلکہ وہانی اور تہذیبی ورثہ ہے۔
انہوں نے دریائے سندھ (انڈس) کی اہمیت پر زور دیا، کہ ہندوؤں نے اسے مقدس سمجھا ہے، اور بعض مسلمانوں نے بھی سندھ کی ندیاں اتنی روحانی اہمیت کی حامل سمجھی ہیں جتنی کچھ مشہور اسلامی مقامات کی پانی کی مانا جاتا ہے۔
یہ نکتہ تاریخی اور مذہبی اعتبار سے سندھی برادری (چاہے وہ ہندو ہوں یا مسلمان) کے اندر ایک گہرے تعلق کو اجاگر کرتا ہے، اور انڈین قیادت کی نظر میں یہ تعلق صرف ماضی کی کہانی نہیں، بلکہ مستقبل کی ممکنہ سیاست کا ایک اہم حصہ ہے۔
(ب) جغرافیائی اور سیاسی نظریہ
راج ناتھ سنگھ نے واضح کیا ہے کہ سیاسی سرحدیں مستقل نہیں ہوتیں، اور تاریخ میں سرحدوں کے بدلنے کی مثالیں موجود ہیں۔
ان کا یہ بیان ایک طرح سے نظریاتی اور بعید اندیشانہ ہے: “کون جانتا ہے، کل سندھ واپس آ جائے۔”
یہ صرف ایک جذباتی بیان نہیں بلکہ ایک سیاسی اشارہ بھی ہے، خاص طور پر اس دور میں جب بھارت اور پاکستان کے تعلقات تناؤ کا شکار ہیں۔
(ج) شہریت اور انسانی حقوق
راج ناتھ سنگھ نے اپنے خطاب میں شہریت ترمیمی قانون (Citizenship Amendment Act, CAA) کا حوالہ بھی دیا۔
ان کا موقف ہے کہ یہ قانون بھارت میں رہائش پذیر پڑوسی ممالک (جیسے پاکستان) کے اقلیتوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے ضروری ہے، اور سندھی برادری بھی اس قانون کے تناظر میں ایک اہم ذات ہے۔
یہ بیان اس سیاسی ایجنڈے کو بھی اجاگر کرتا ہے جہاں سماجی اور تاریخی ربط کو استعمال کرکے نظریاتی اور قانونی بنیادیں فراہم کی جا رہی ہیں۔
۳. ممکنہ ردعمل اور نتائج
(الف) پاکستان کی جانب ممکنہ ردعمل
راج ناتھ سنگھ کا یہ بیان پاکستان کے لیے ایک شدید سیاسی چیلنج ہے۔ پاکستان اپنے سرحدی یک جہتی کو انتہائی حساسیت سے دیکھتا ہے، اور ان جیسے بیانات سفارتی سطح پر کشیدگی کو بڑھا سکتے ہیں۔
یہ بیان ممکن ہے کہ پاکستانی حکام کی طرف سے سخت ردعمل کا باعث بنے — نہ صرف سفارتی سطح پر، بلکہ عوامی سطح پر بھی، خاص طور پر سندھ کے اندر رہنے والی برادریوں میں۔
(ب) بین الاقوامی سطح پر اثرات
اس طرح کا بیان عالمی برادری کی توجہ بھی اپنی جانب کھینچے گا، خاص طور پر ان ممالک کی جو جنوبی ایشیاء میں استحکام اور امن کی ضرورت کو سمجھتے ہیں۔
کئی ممالک، خاص طور پر وہ جو خطے میں ثالثی رول ادا کر سکتے ہیں، اپنی سفارتی کوششوں کو بڑھا سکتے ہیں تاکہ اس بیان کی بنیاد پر مستقبل میں کسی بھی قسم کی جارحیت یا واقعہ نہ ہو۔
علاوہ ازیں، یہ بیانیہ نئے نظریاتی اور جغرافیائی دعووں کی راہ ہموار کر سکتا ہے، جو علاقائی طاقت توازن کو تبدیل کرنے کی کوششیں لا سکتا ہے۔
(ج) بھارت میں سیاسی اور داخلی اثر
راج ناتھ سنگھ کا یہ بیان بھارت کے اندر بھی مختلف ردعمل پیدا کرے گا:
- سندھی برادری میں یہ جذبات کو بھڑکا سکتا ہے، اور ان کی شناخت اور تعلق کو سیاسی سطح پر مزید مضبوط بنا سکتا ہے۔
- مخالف سیاسی قوتیں، خاص طور پر وہ جو پاکستان کے ساتھ “پرامن پڑوسی” کی پالیسی کو ترجیح دیتی ہیں، اس بیان کو خطرناک قرار دے سکتی ہیں اور نکتہ چینی کر سکتی ہیں۔
- یہ بیان بھارتی قوم پرستی (نیشنلزم) کے کچھ پہلوؤں کو تقویت دے سکتا ہے، خاص طور پر وہ نظریے جو تاریخی اور تہذیبی وراثت کو سرحدی نظریات کے ساتھ ملا کر پیش کرتے ہیں۔
۴. تنقید اور سوالات
راج ناتھ سنگھ کے بیان پر چند منطقی اور اخلاقی سوالات بھی اٹھتے ہیں:
- عملی امکان: سرحد بدلنے کا نظریہ ایک بہت بڑی جغرافیائی تبدیلی کا مطالبہ ہے۔ کیا یہ صرف نظریاتی بیان ہے یا اس کے پیچھے کوئی عملی اور حکمتِ عملی بنیاد موجود ہے؟
- پرامن طریقہ کار: اگر واقعی بھارت اس امکان کو عملی بنانا چاہے، تو وہ کیا راستے اختیار کرے گا؟ فوجی طریقہ، سفارتی طریقہ، یا کوئی اور مکینزم؟
- اقلیتوں کی حفاظت: کیا سندھ کی برادری، اور خاص طور پر اس میں رہنے والے غیر ہندو گروہ، اس بیانیے کو خطرے یا جبر کے طور پر محسوس کریں گے؟
- عالمی قانونی حیثیت: بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے ضوابط کے تناظر میں، کیا ایسا دعویٰ قابل قبول یا ممکن ہے؟
- علاقائی امن: اس طرح کے بیانات سے خطے میں امن کی صورتِ حال پر کیا اثر پڑے گا؟ کیا یہ عسکری کشیدگی اور سرحدی تنازعات کو بڑھا سکتا ہے؟
۵. تاریخی اور تہذیبی پس منظر
تاریخی لحاظ سے، سندھ مہاجر تہذیب کا مرکز رہا ہے۔ انڈس وادِی (Indus Valley Civilization) کی تہذیب بھی یہاں پھلی-پھولی۔
تقسیمِ ہند (1947) کے بعد سندھ پاکستان کا حصہ بنا اور بہت سے سندھی ہندو بھارت ہجرت کر گئے۔ راج ناتھ سنگھ نے اپنے خطاب میں اسی تقسیم کے زخم اور اس کی یاد کو اجاگر کیا ہے۔
لال کرشن آڈوانی کے حوالے سے ان کی بات یہ بتاتی ہے کہ بھارت کی سیاسی قیادت میں ایسے نظریاتی ابواب ہیں جو تقسیم کو صرف ایک سیاسی عمل نہیں بلکہ ایک تہذیبی اور روحانی تقسیم کے طور پر دیکھتے ہیں۔
۶. نتیجہ اور پیشگوئی
راج ناتھ سنگھ کا یہ بیان بلاشبہ بھارت-پاکستان تعلقات میں ایک قابلِ غور تبدیلی کی علامت ہے۔ یہ بیان صرف ایک جذباتی اپیل نہیں بلکہ ایک سیاسی اور نظریاتی بیانیہ ہے جو تہذیبی ورثے اور سرحدی سیاست کو ملا کر پیش کیا گیا ہے۔
اگر یہ بیان محض تقریری اور کلماتی حد تک رہے، تو اس کے اثر محدود ہوں گے۔ لیکن اگر یہ کسی عملی حکمتِ عملی کی بنیاد بنتا ہے، تو یہ خطے کی سیاست، سلامتی اور مستقبل کی سرحدی تشکیل پر گہرا اثر ڈال سکتا ہے۔
مستقبل میں، یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ پاکستان اس بیان پر کیا ردعمل دیتا ہے، اور بین الاقوامی برادری خاص طور پر پڑوسی ممالک اور عالمی طاقتیں اس پر کیا موقف اختیار کرتی ہیں۔ نیز، بھارت کے اندر اس بیان کا سیاسی استعمال کس طرح کیا جائے گا — کیا اسے قومی یکجہتی اور شناخت کے ایجنڈے کے لیے ایک طاقتور رمز کے طور پر استعمال کیا جائے گا؟
اگر چاہیں، تو میں آپ کے لیے اس بیان کے بین الاقوامی ردعمل کا تجزیہ بھی پیش کر سکتا ہوں — چاہیں میں وہ تجزیہ لکھ دوں؟
.jpeg)

0 Comments
Post a Comment