پاکستان اور انڈیا کی سندھ سائیڈ پر فل سکیل وار ہونی ہے،انڈین کو اس حوالے سے بہت جلدی ہے مگر پاکستان بھی تیار ہے،سندھ کی اہمیت اب زیادہ بڑھ گئی ہے اور انڈین کو بھی سندھ والی سائیڈ پر فل لیوریج حاصل ہے مگر پاکستان کیلئے وہ علاقہ سونے سے زیادہ قیمتی ہوچکا ہے پاکستان کی فل تیاری سندھ والی سائیڈ سے آگے بڑھنے کی ہے  دونوں ممالک سندھ بارڈر کراس کر کے آگے بڑھنے کیلئے تیار ہیں مگر صدر ٹرمپ اس میں روکاوٹ بن رہا ہے وہ انڈین کو وارننگ دے رہا ہے کہ پاکستان کیساتھ جنگ نہیں کرنی اور اپنی پریس کانفرنس میں بھی بتا چکا ہے کہ میں نے انڈیا کو کہا ہے کہ پاکستان کیساتھ جنگ نہیں کرنی،امریکی صدر اتنی زیادہ دلچسپی کیوں لے رہا ہےاور سندھ والی سائیڈ پر فل سکیل وار کیوں ہونی ہے اسکو تفصیل سے سمجھتے ہیں۔ اور انڈین وزیر دفاع نے کیوں کہا ہے کہ وہ سندھ کے کچھ علاقوں کو انڈیا میں شامل کریں گے۔ 





نیچے دیا گیا میپ سرکریک کے علاقے کا ہے اس میں دو لائنیں ہیں ایک ریڈ اور دوسری گرین ہے،ریڈ والے حصے کا دعوی انڈیا کا ہے اور گرین کا پاکستان کا ہے۔ انٹرنیشل بارڈر جہاں سے شروع ہو رہا ہے یہاں پتھر لائن ہے اس معاملے کو حل کرنے کیلئے پاکستان اور انڈیا تقریبا 12 بار مذاکرات کر چکے ہیں مگر کامیاب نہیں ہو سکے۔برطانوی سامراج سے پہلے ریاست سندھ اور ریاست کچھہ کے درمیان یہاں جنگ ہوچکی ہے اور جنگ اسی پٹی کی تھی دونوں کا یہی دعوی تھا۔پھر دونوں ریاستوں کے درمیان سرکریک کا مسئلہ پتھر لگا کر حل کیا گیا،پتھر لائن کے مطابق مشرقی کنارہ سندھ ریاست کو ملااوردوسری پٹی سے نیچے کا حصہ ریاست کچچہ کو ملا،برطانوی کمپنی آئی توسب کچھ برابر ہوگیا۔ پاکستان اور انڈیا کی تقسیم کے وقت اسی پتھر لائن پر بارڈر کو ختم کر دیا گیا اور باقی حصے پر پہلے والا اصول نافذ کیا گیا۔ 


پاکستان اور انڈیا کی آزادی کےبعد 1958 میں قوام متحدہ میںLaw of the Sea کنونشن میں  اصول طے کیے گئے تو 1968 میں ایک بین الاقوامی ٹربیونل نے رن آف کچھہ کے تنازعے کو حل کیا، جس میں سرکریک بھی شامل تھا۔اس میں پاکستان کا مؤقف ہے کہ سرکریک کیونکہ پہلے سندھ کا حصہ تھا، اس لیے سرحد کریک کے مشرقی کنارے سے شروع ہےبرطانونیہ میں پڑے ڈاکومنٹس پاکستان نکال کر لایا ، جس کے مطابق سرکریک مکمل طور پر سندھ کا حصہ تھا۔بھارت کا موقف ہے 1908 میں مسئلہ پیدا ہوا تب سندھ نہیں تھاسندھ 1936 میں بنا اس سے پہلے سندھ اور راوی مہاراج کی ریاست  دونوں بمبئی کے ماتحت تھے۔1911 کے سروے اور 1914 کے فیصلے میں سرحد سرکریک کے مشرقی کنارے پر ہے۔اس وقت پانی  بھی فل تھا اب کم ہےاس لیے بین الاقوامی قانون میں تھالوَیگ اصول کے مطابق سرحد درمیانی گہرے حصے میں بنتی ہے۔


اقوام متحدہ کے1982 کے کنویشن میں باقاعدہ طور پرتمام سمندر ی حدود کو قانونی شکل دی گئی، تمام سمندری ممالک کو Territorial Waters12 ناٹیکل میل دیا گیا اور  Exclusive Economic Zone میں 200 ناٹیکل میل دیا گیا، پاکستان کو اقوام متحدہ  کے اصول کے مطابق سرکریک کے مشرقی کنارے کی حدود سے سمندر دیا گیا۔ اب پاکستان کہتا ہے کہ اس کو عالمی فورم پر لے جاتے ہیں انڈیا نہیں مان رہا ہے پھر دونوں ممالک نے مشترکہ سروے کیا،مسئلہ حل نہیں ہوا اسکی وجہ بھارت کہتا ہے کہ تھالوَیگ اصول لاگو کیا جائے یہ اصول  دریاؤں پر لگتا ہے اگر یہ اصول سرکریک میں لگتا ہےتو پاکستان کو سمندر میں ای ای زیڈ سے ہزاروں مربع کلومیٹر علاقہ دینا پڑے گا، سمندر کا بھی نقصان ہوگا اورزمین کا بھی نقصان ہوگا۔ 


اب اصل سوال یہ ہے کہ سرکریک کا علاقہ دلدل زدہ ہے ملٹری اہمیت بھی نہیں رکھتا اس علاقے میں وار نہیں ہوسکتی، یہاں نیوی نہیں ٹک سکتی، نہ بری ملٹری جنگ لڑسکتی ہے پاکستان اور انڈیا کیلئے اتنی اہمیت کیوں اختیار کرچکا ہے اور امریکہ کیوں شامل ہو رہا ہے، سرکریک سے 150 کلو میٹر دور سندھ کاسجاول علاقے میں آئل و گیس کے ذخائر موجود ہیں۔( انڈیا کا علاقہ اونچائی پر ہے پاکستانی علاقہ گہرائی میں ہے جیسے ایران گہرائی میں ہے بلوچستان کا تیل وہاں موومنٹ کر جاتا ہے یہاں یہی صورتحال ہے۔ان دو لائنوں پر ماہرین کا اختلاف ہے کہ ائل وگیس کے ذخائر دائیں بائیں موومنٹ کرتے ہیں)اب تیل نکالنے کی صلاحیت صرف امریکی کمپنیوں میں ہے چائنہ کی کمپنیاں یہاں سے تیل نکالنے کی صلاحیت نہیں رکھتیں پاکستان نے امریکی کمپنیوں سے معاہدہ کیا ہے کہ آپ یہاں آئل و گیس کے ذخائر نکالیں۔امریکی صدرکو امریکی کمپنیوں نے بریفنگ دی تھی اورصدر ٹرمپ نےکانفرنس میں کہا تھا کہ پاکستان کے پاس تیل کے ذخائر بہت زیادہ ہیں شایدآنے والے وقت میں انڈیا بھی پاکستان سے تیل خریدے۔وہ انہیں ذخائر کی بات کر رہا تھا۔ انہیں ذخائر کو حاصل کرنے کیلئے انڈیا سندھ کو اپنا حصہ بنانے کی بات کر رہا ہے۔ 


تحریر:فرحان ملک 


#FarhanMalik #PakIndiaConflict #SirCreekDispute #pakoilgas #PakistanNews


نوٹ: تحریر کاپی کر لگانے کی اجازت ہے مگر جس نے نام کے بغیر لگائی وہ۔۔۔۔۔ ہوگا۔۔