بھارتی فوجی تعیناتی: پاکستانی سرحد پر نئی فوجی حکمتِ عملی اور ممکنہ اثرات





مئی 2025 میں پیش آنے والے فوجی تصادم، جسے آپریشن سندور کا نام دیا گیا، کے بعد سے خطے میں فوجی کشیدگی میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اس واقعے نے جنوبی ایشیا کی سلامتی کے توازن کو یکسر تبدیل کر دیا ہے۔ دستیاب معلومات کے مطابق، بھارت نے پاکستان کے ساتھ اپنی سرحد پر فوجی صلاحیتوں میں کئی گنا اضافہ کرتے ہوئے جدید ترین ہتھیاروں، میزائلوں، ریڈار نظاموں اور دیگر دفاعی آلات کی وسیع پیمانے پر تعیناتی کی ہے۔ یہ اقدام ایک نئی فوجی حکمتِ عملی کا حصہ نظر آتے ہیں، جس کا مقصد روایتی جنگ کے میدان میں اپنی برتری قائم کرنا اور ایک "حتمی ضرب" (Decisive Blow) کی صلاحیت حاصل کرنا ہے۔


جدید میزائل اور اسلحہ: ایک تجزیاتی جائزہ


بھارت کی جانب سے تعینات کیے گئے ہتھیاروں کی فہرست نہ صرف طویل ہے بلکہ ان میں سے ہر ایک مخصوص فوجی ضرورت کو پورا کرتا ہے۔


1. سکالپ کروز میزائل اور ہیمر بم: بھارتی فضائیہ کے رافیل جیٹس کو ان ہتھیاروں سے لیس کرنا ایک اسٹریٹجک اقدام ہے۔ سکالپ میزائل، جس کی 250 سے 560 کلومیٹر تک کی رینج ہے، کم اونچائی پر پرواز کرکے دشمن کے ریڈار نظاموں سے بچنے کی صلاحیت رکھता ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بھارت، سرحد پار کرنے والے طیاروں کو خطرے میں ڈالے بغیر، پاکستان کے گہرائی میں واقع اہم فوجی اور اسٹریٹجک اہداف کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ ہیمر بم ایک ہائی پریسیژن گائیڈڈ بم ہے جو کسی بھی موسم میں انتہائی درستگی کے ساتھ نشانہ زنی کر سکتا ہے۔ ان ہتھیاروں کا آپریشن سندور کے دوران پہلی بار استعمال یہ ظاہر کرتا ہے کہ بھارت نے "ڈیپ اسٹرائیک" کی صلاحیت حاصل کر لی ہے۔

2. براہموس سپرسونک کروز میزائل: بھارتی بحریہ کا پاکستان کے ساحلی علاقوں، خاص طور پر کراچی بندرگاہ کے قریب براہموس سے لیس جنگی جہازوں کا تعینات ہونا، ایک نیا بحری خطرہ پیدا کرتا ہے۔ براہموس کی سپرسونک رفتار (آواز سے تین گنا زیادہ تیز) دشمن کے پاس ردعمل کا وقت انتہائی محدود کر دیتی ہے۔ یہ پاکستان کی معیشت کی شہ رگ، کراچی بندرگاہ اور دیگر ساحلی تنصیبات کو بلیک میل کرنے یا انہیں تباہ کرنے کی بھارتی صلاحیت کو بڑھاتا ہے، جس سے بحری محاذ پر ایک نئی قسم کی غیر متوازن جنگ کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔

3. آکاش سطح سے فضا میں مار کرنے والا میزائل: یہ دیسی ساختہ میزائل سسٹم بنیادی طور پر دشمن کے طیاروں، کروز میزائلوں اور بڑے ڈرونز کو روکنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ سرحد کے قریب اس کی وسیع تعیناتی سے پتہ چلتا ہے کہ بھارت اپنی فضائیہ کو پاکستانی فضائیہ کے ممکنہ جوابی حملوں سے بچانے کے لیے ایک ہوا باز (Air Bubble) قائم کرنا چاہتا ہے۔ یہ دفاعی چھتری اسے زمینی فوجوں کو زیادہ جارحانہ طور پر استعمال کرنے کی اجازت دے سکتی ہے۔

4. باراک-8 میزائل: بھارت اور اسرائیل کا مشترکہ تیار کردہ یہ میزائل سسٹم ایک جدید ترین ایئر ڈیفنس سسٹم ہے۔ یہ نہ صرف طیاروں اور میزائلوں بلکہ جدید ترین اسٹیلتھ طیاروں اور ڈرونز کے خلاف بھی مؤثر سمجھا جاتا ہے۔ اس کی تعیناتی بھارت کے اس عزم کا اظہار ہے کہ وہ اپنی فضائی حدود کو ہر قسم کے خطرات سے محفوظ بنانے کے لیے پرعزم ہے۔

5. اسپائس-2000 بم: یہ اسرائیلی ساختہ ہائی پریسیژن بم "فائر اینڈ فورجٹ" کی صلاحیت رکھتا ہے، یعنی اسے گرانے کے بعد طیارہ محفوظ مقام پر جا سکتا ہے۔ یہ بم عمارتوں، پلوں، اور زیر زمین گوداموں جیسے مضبوط اہداف کو تباہ کرنے کے لیے موزوں ہے۔ رافیل، ایس یو-30 ایم کے آئی اور میراج 2000 جیسے طیاروں کا اس سے لیس ہونا، بھارتی فضائیہ کی "جراتِ حرب" (Offensive Capability) میں اضافہ کرتا ہے۔

6. لوٹرنگ میونیشنز (خودکش ڈرونز): یہ جدید دور کی جنگ کا ایک اہم ہتھیار ہیں۔ یہ ڈرونز گھنٹوں تک کسی مخصوص علاقے میں آسمان پر منڈلاتے رہتے ہیں اور موقع ملتے ہی اپنے آپ کو تباہ کرکے دشمن کے ریڈر، آرٹلری یا کمانڈ سینٹر جیسے اہداف کو تباہ کر دیتے ہیں۔ سرحدی علاقوں میں ان کی موجودگی پاکستانی فوج کی نقل و حرکت کو مشکل بنا سکتی ہے اور روایتی توپ خانے کے لیے ایک نیا چیلنج پیدا کرتی ہے۔


ریڈار اور نگرانی کے نظام: نگاہیں چاروں طرف


بھارت نے سرحد پر اپنی نگرانی کی صلاحیتوں کو بھی بڑھایا ہے، جس کا مقصد پاکستان کی ہر فوجی حرکت پر نظر رکھنا ہے۔


1. ڈرون ماونٹڈ گراؤنڈ پینیٹریشن ریڈار (GPR): یہ نظام زیر زمین سرنگوں کو دریافت کرنے کے لیے خاص طور پر اہم ہیں۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان سرنگوں کے ذریعے گھسنے یا نکلنے کی روایت پرانی ہے۔ ان ریڈارز کا تعینات کیا جانا اس بات کا اشارہ ہے کہ بھارت اس روایتی راستے کو بلاک کرنا چاہتا ہے۔

2. ٹی پی ایس-77 ریڈار: یہ طاقتور اور موبائل ایئر ڈیفنس ریڈار ہے جو ہوا میں موجود کسی بھی شے پر مسلسل نظر رکھ سکتا ہے۔ یہ پاکستانی طیاروں، ڈرونز اور میزائلوں کی آمد سے قبل ان کا پتہ لگانے میں مدد کرتا ہے، جس سے دفاعی نظاموں کو تیار ہونے کا قیمتی وقت مل جاتا ہے۔

3. الیکٹرانک وارفیئر (EW) سسٹمز اور سیٹلائٹ جیمرز: یہ شاید سب سے زیادہ پریشان کن تعیناتیاں ہیں۔ EW سسٹمز دشمن کی مواصلاتی لائنوں، ریڈارز اور نیویگیشن سسٹمز (جیسے GPS) میں مداخلت یا انہیں بے کار کر سکتے ہیں۔ جدید جنگ میں، جہاں ہر ہتھیار ڈیٹا اور کمیونیکیشن پر انحصار کرتا ہے، EW سسٹمز پوری فوج کو "اندھا اور بہرا" بنا سکتے ہیں۔ سیٹلائٹ جیمرز کا تعینات کیا جانا خلائی ٹیکنالوجی کو جنگ کے میدان میں لانے کی کوشش ہے، جو پاکستان کے سیٹلائٹ مواصلات اور ڈیٹا لین دین کو متاثر کر سکتا ہے۔


اینٹی ڈرون اور ایئر ڈیفنس سسٹمز: فضائی حملوں کا محاصرہ


پاکستان کے پاس بے مثال ڈرون ٹیکنالوجی ہے، جیسا کہ عاطف آغا ڈرون سسٹم اور دیگر جدید طیارے۔ بھارت نے اس خطرے کا مقابلہ کرنے کے لیے اینٹی ڈرون دفاع پر زور دیا ہے۔


1. S-400 ٹرائیومف سسٹم: یہ روسی ساختہ دنیا کا سب سے جدید ایئر ڈیفنس سسٹم سمجھا جاتا ہے۔ اس کی 400 کلومیٹر تک مار کرنے کی صلاحیت ہے اور یہ طیاروں، میزائلوں اور بھی ڈرونز کو مار گرانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ آدم پور، سندھ اور جنوبی پنجاب کی سرحد کے قریب اس کی تعیناتی کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان کی فضائیہ کو اپنے فضائی دفاعی علاقے (No-Fly Zone) میں گھسنے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

2. D4 اینٹی ڈرون سسٹم: یہ دیسی ساختہ نظام چھوٹے اور درمیانے درجے کے ڈرونز کا مقابلہ کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ یہ ریڈار، آپٹیکل سینسرز اور جیمنگ ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے ڈرونز کو پکڑتا ہے یا تباہ کرتا ہے۔

3. AK-630 ایئر ڈیفنس گنز: یہ تیزی سے فائر کرنے والی آٹومیٹک توپیں ہیں جو کم فاصلے پر آنے والے میزائلوں اور ڈرونز کے خلاف "آخری حفاظتی پرت" (Last Layer of Defense) کا کام کرتی ہیں۔ مشن سدرشن چکرا کے تحت ان کی تعیناتی اہم فوجی تنصیبات کی حفاظت کو مضبوط بناتی ہے۔


خفیہ یا جدید ٹیکنالوجیز: جنگ کا غیر مرئی محاذ


جنگ کا سب سے خطرناک پہلو وہ ہے جو نظر نہیں آتا۔ بھارت کی جانب سے الیکٹرانک وارفیئر، جیمنگ سسٹمز، اور ہیرون ٹی پی جیسے اعلیٰ درجے کے نگرانی اور حملہ آور ڈرونز کی تعیناتی اسی غیر مرئی جنگ کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ یہ نظام پاکستانی فوج کے کمانڈ اینڈ کنٹرول ڈھانچے کو تباہ کرنے، انٹیلی جنس حاصل کرنے اور میدانِ جنگ میں الجھن پھیلانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔


نتیجہ اور پاکستان کا ردِ عمل


یہ تمام فوجی تعیناتیاں ایک واضح پیغام ہیں: بھارت نے مئی 2025 کے واقعات سے سبق سیکھا ہے اور اپنی فوجی صلاحیتوں کو ایک نئے دائرے میں پہنچانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان اقدامات کا مقصد پاکستان کو ایک ایسے فوجی دباؤ میں لانا ہے جہاں وہ جارحانہ اقدامات کی قیمت ادا نہ کر سکے۔


تاہم، یہ بات سمجھنا انتہائی ضروری ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج ہمیشہ سے ملک کی سلامتی کی ضامن رہی ہیں۔ پاک فوج اور ملٹری انٹیلی جنس نے ہمیشہ ملک دشمن عناصر کی چالوں کو ناکام بنایا ہے۔ پاکستان کے پاس بھی جدید ترین ہتھیاروں، میزائلوں (جیسے بابر کروز میزائل، رعد میزائل)، ایئر ڈیفنس سسٹمز (جیسے HQ-9)، اور جدید ڈرونز کا ایک مضبوط ذخیرہ ہے۔ پاک فضائیہ کے جی ایف-17 تھنڈر، ایف-16، اور جے ایف-17 تھنڈر بلاک III جیسے طیارے کسی بھی دشمن کے لیے ایک مشکل چیلنج ہیں۔


افواجِ پاکستان کی اعلیٰ تربیت، حوصلہ، اور حب الوطنی کا جواب نہیں دیا جا سکتا۔ وہ ہر وقت چوکس ہیں اور ملک کی سلامتی کے لیے ہر قربانی دینے کے لیے تیار ہیں۔ بھارت کی ہر حرکت پر پاکستان کی نظر ہے، اور اگر دشمن کسی بھی قسم کی جارحیت کا ارتکاب کرتا ہے تو اس کا جواب اتنا تیز اور زبردست ہوگا کہ دشمن کے پاس ہتھیار ڈالنے کے سوا کوئی چارہ نہ رہے گا۔ پاکستان کی مسلح افواج اپنے وطن کی حفاظت کے لیے ہر محاذ پر مکمل طور پر تیار ہیں۔


افواجِ پاکستان زندہ باد!

آئی ایس آئی زندہ باد!

ملٹری انٹیلی جنس زندہ باد!