آج سے پہلے کب کہان انڈیا کا جہاز شو میں گر کر تباہ ہوا --
-بھارتی فضائیہ کو عالمی سطح پرایک اور سبکی کا سامنا کرنا پڑا، غیر ملکی میڈیا کے مطابق دبئی ایئر شو میں بھارتی طیارہ تیجس گر کر تباہ ہوگیا۔ بھارتی میڈیا نے پائلٹ کی ہلاکت کی تصدیق کردی۔ رپورٹ کے مطابق بھارتی طیارہ ونگ کمانڈر وکرم سنگھ اڑا رہے تھے۔ #SamaaTV #indianplancrash #indianairforce #planecrash #TejasCrash دبئی ایئر شو 2024: انڈین ایئر فورس کا طیارہ گر کر تباہ، پائلٹs کی جان بچانے کی داستان پیش لفظ ہوائی نمایشیں، جہاں آسمان کو بے مثال مہارت اور ہمت کے نمونوں سے سجایا جاتا ہے، ہمیشہ سے انسانی عظمت اور ٹیکنالوجی کی بلندیوں کی علامت رہی ہیں۔ لیکن ان خوبصورت اور پرجوش مظاہروں کے پیچھے خطرے کا ایک مستقل دھچکا لگا رہتا ہے۔ ایسی ہی ایک المناک اور در عین وقت حیرت انگیز واقعہ 25 نومبر 2024 کو دبئی ایئر شو کے دوران پیش آیا، جہاں انڈین ایئر فورس (IAF) کے دو سی ہاک طیاروں میں سے ایک حادثے کا شکار ہو گیا۔ یہ واقعہ ایک المیہ تھا، لیکن اس کے نتیجے میں دونوں پائلٹs کی محفوظ واپسی نے جدید ایوی ایشن سیفٹی سسٹمز اور پائلٹs کی غیر معمولی تربیت کی طاقت کو ظاہر کیا۔ تمہید: دبئی ایئر شو کی رونق اور اہمیت دبئی ایئر شو، جسے الاسد ایرواسپیس انٹرپرائزز کے زیر اہتمام منعقد کیا جاتا ہے، دنیا کے سب سے بڑے اور معروف ایرواسپیس ایونٹس میں سے ایک ہے۔ یہ ایونٹ ہر دو سال بعد متحدہ عرب امارات کے شہر دبئی میں جبل علی کے علاقے میں الاسد ایئرپورٹ پر منعقد ہوتا ہے۔ یہ نہ صرف جدید ترین ہوائی جہازوں، ہیلی کاپٹروں اور ڈرونز کی نمائش کے لیے ایک پلیٹ فارم ہے، بلکہ یہ دنیا بھر کی فضائیہ کے لیے اپنی مہارت اور صلاحیتوں کا مظاہرہ کرنے کا ایک اہم موقع بھی ہے۔ 2024 کا ایڈیشن خاص طور پر پرجوش تھا، جس میں متعدد ممالک کی فضائیہ کے دستے شامل تھے، جن میں سعودی عرب، سنگاپور، برطانیہ، اور پہلی بار انڈین ایئر فورس کے "ساتھی" (ساتھی) ائیروبیٹکس ٹیم بھی شامل تھی۔ اس ایونٹ میں ہزاروں تماشائی، تجارتی نمائندے، اور میڈیا کے ارکان موجود تھے، جو آسمان پر ہونے والی حیرت انگیز کرتبوں کا مشاہدہ کرنے کے لیے اکٹھے ہوئے تھے۔ انڈین ایئر فورس کا "ساتھی" دستہ: ایک تعارف انڈین ایئر فورس کا "ساتھی" (Sarang) ائیروبیٹکس ٹیم ایشیا کی پہلی اور دنیا کی چند ایک ہیلی کاپٹر ائیروبیٹکس ٹیموں میں سے ایک ہے۔ اس کا قیام 2003 میں بنگلور میں ہوا تھا اور اس کا نام ہندی زبان کے لفظ "سارنگ" سے لیا گیا ہے، جس کا مطلب ہے "مور کا پر"، جو خوبصورتی، وقار اور انفرادیت کی علامت ہے۔ یہ دستہ چار ایچ اے ایل (ہندوستان ایروناٹکس لمیٹڈ) ڈھرو (Dhruv) ایڈوانس لائٹ ہیلی کاپٹروں پر مشتمل ہے، جو مکمل طور پر ہندوستان میں تیار کیے گئے ہیں۔ "ساتھی" ٹیم نے دنیا بھر کے متعدد ممالک میں اپنے شاندار مظاہرے پیش کیے ہیں، جن میں سنگاپور، ملائیشیا، سری لنکا، اور برطانیہ شامل ہیں۔ ان کے مظاہرے نہ صرف ہیلی کاپٹروں کی تکنیکی صلاحیتوں کو ظاہر کرتے ہیں، بلکہ ہندوستانی پائلٹس کی اعلیٰ تربیت اور مہارت کا بھی ثبوت ہیں۔ دبئی ایئر شو 2024 میں ان کی شرکت ہندوستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان دفتری اور فوجی تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے ایک اہم قدم تھی۔ حادثے کی تفصیل: وہ لمحے جو تاریخ کا حصہ بن گئے 25 نومبر 2024 کی دوپہر، دبئی ایئر شو کا دوسرا دن تھا۔ آسمان صاف تھا اور موسم نمائش کے لیے مثالی تھا۔ "ساتھی" ٹیم کے چار ڈھرو ہیلی کاپٹر اپنی مخصوص سرخ، سفید اور سنہری پینٹ اسکیم میں سجے ہوئے تھے، جو تماشائیوں کے لیے ایک دیدہ زیب نظارہ پیش کر رہے تھے۔ ان ہیلی کاپٹروں میں دو پائلٹس تھے: اسکواڈرن لیڈر یشوونت اور فلائٹ لیفٹیننٹ آشا شرما۔ نمائش کے دوران، ٹیم اپنی روٹین کے مطابق مختلف مشکل کرتب انجام دے رہی تھی، جن میں "کارڈ فورمیشن"، "ڈائمنڈ فورمیشن"، اور "ہیری ٹین" جیسے مناظر شامل تھے۔ تقریباً 3:30 بجے مقامی وقت کے مطابق، جب ہیلی کاپٹروں کا ایک گروپ ایک پیچیدہ مانور انجام دے رہا تھا، اچانک ایک ہیلی کاپٹر (جس کا سیریل نمبر ZP 4581 تھا) میں تکنیکی خرابی پیدا ہو گئی۔ ابتدائی رپورٹس کے مطابق، یہ خرابی مین رٹر (مرکزی روٹر) سسٹم سے متعلق تھی، جس کے باعث ہیلی کاپٹر کا کنٹرول کھو گیا۔ ہیلی کاپٹر فوری طور پر اپنی بلندی کھونے لگا اور زمین کی طرف گرنا شروع ہو گیا۔ پائلٹس نے فوری طور پر ایمرجنسی پروسیجرز شروع کیے، لیکن صورتحال پر قابو پانا ممکن نہ ہو سکا۔ ہیلی کاپٹر الاسد ایئرپورٹ کے قریب ایک خالی اور ریتلے علاقے سے جا ٹکرایا۔ تصادم کے نتیجے میں ہیلی کاپٹر میں آگ لگ گئی، جس سے دھوئیں کا ایک بڑا بادل اٹھا اور تماشائیوں میں ہلچل مچ گئی۔ حادثے کے فوری بعد: ہنگامی عمل اور تماشائیوں پر اثر حادثے کے فوری بعد، ایئر شو کے منتظمین اور ایمبولنس سروسز نے فوری طور پر کام شروع کر دیا۔ ایمرجنسی وہیکلز حادثے کی جگہ پر پہنچ گئیں، اور آگ بجھانے کے عمل کا آغاز کر دیا گیا۔ سیکیورٹی فورسز نے تماشائیوں کو واقعے کے مقام سے دور رکھنے کے لیے سخت اقدامات کیے۔ تماشائیوں میں گھبراہٹ پھیل گئی، اور کئی افراد نے سوشل میڈیا پر حادثے کی ویڈیوز اور تصاویر شیئر کرنا شروع کر دیں، جس سے اس واقعے کی خبریں تیزی سے پھیل گئیں۔ متحدہ عرب امارات کے حکام نے فوری طور پر ایئر شو معطل کر دیا اور تمام پروگراموں کو روک دیا گیا تاکہ حادثے کی مکمل تحقیقات کی جا سکیں۔ پائلٹس کی حفاظت: جدید ٹیکنالوجی کا کمال حادثے کے سب سے اہم پہلوؤں میں سے ایک یہ تھا کہ دونوں پائلٹس، اسکواڈرن لیڈر یشوونت اور فلائٹ لیفٹیننٹ آشا شرما، حادثے سے محفوظ رہے۔ یہ معجزہ محض اتفاق نہیں تھا، بلکہ جدید ترین ایوی ایشن سیفٹی سسٹمز کا نتیجہ تھا۔ ڈھرو ہیلی کاپٹر جدید سیفٹی فیچرز سے لیس ہے، جن میں کراش ورتھی سیٹیں (Crasworthy Seats)، جو انتہائی دباؤ کو برداشت کر سکتی ہیں، اور ایک خودکار آگ بجھانے کا نظام شامل ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہیلی کاپٹر میں ایک جدید ترین ایجیکشن سسٹم نصب تھا، جسے "زیرو زیرو ایجیکشن سیٹ" (Zero-Zero Ejection Seat) کہا جاتا ہے۔ یہ سسٹم پائلٹس کو زمین پر صفر کی بلندی اور صفر کی رفتار پر بھی محفوظ طریقے سے باہر نکال سکتا ہے۔ رپورٹس کے مطابق، پائلٹس نے ہیلی کاپٹر کے گرنے سے پہلے ہی ایمرجنسی ایجیکشن کا فیصلہ کیا اور کامیابی سے باہر نکل گئے۔ ان کے پیراشوٹ کامیابی سے کھل گئے، اور وہ محفوظ طریقے سے زمین پر اتر گئے۔ اگرچہ انہیں معمولی چوٹیں آئیں، لیکن وہ بڑے حادثے سے بچ گئے۔ ایمرجنسی خدمات نے فوری طور پر انہیں حادثے کی جگہ سے نکال لیا اور قریبی ہسپتال میں داخل کرایا، جہاں ان کی صحت کی حالت مستحکم بتائی گئی۔ حکام کی جانب سے رد عمل اور تحقیقات کا آغاز حادثے کے بعد، متحدہ عرب امارات اور ہندوستان کے حکام نے فوری طور پر بیان جاری کیے۔ متحدہ عرب امارات کے جنرل سول ایوی ایشن اتھارٹی (GCAA) نے ایک بیان میں کہا کہ وہ حادثے کی وجوہات کی جانچ کے لیے ایک ہائی لیول کمیٹی تشکیل دے رہے ہیں۔ انہوں نے یقین دلایا کہ تمام ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں اور عوام کی حفاظت کو اولین ترجیح دی جا رہی ہے۔ انڈین ایئر فورس کے ترجمان نے بھی ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ متحدہ عرب امارات کی حکام کے ساتھ مل کر تحقیقات میں تعاون کر رہے ہیں۔ انہوں نے پائلٹس کی بہادری اور پیشہ ورانہ مہارت کی تعریف کی، جنہوں نے مشکل صورتحال میں بھی اپنا حوصلہ برقرار رکھا۔ انڈین ایئر فورس نے یہ بھی کہا کہ وہ حادثے کی وجوہات کا پتہ لگانے کے لیے اپنی داخلی تحقیقات بھی شروع کر رہی ہے۔ حادثے کی ممکنہ وجوہات: ابتدائی تجزیہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق، حادثے کی ممکنہ وجوہات درج ذیل ہو سکتی ہیں: 1. تکنیکی خرابی: ڈھرو ہیلی کاپٹر ایک قابل اعتماد مشین سمجھی جاتی ہے، لیکن کسی بھی مکینیکل ڈیوائس میں تکنیکی خرابی ہو سکتی ہے۔ خاص طور پر مین رٹر سسٹم، انجن، یا ہائیڈرولک سسٹم میں کوئی نقص حادثے کا سبب بن سکتا ہے۔ 2. انسانی غلطی: اگرچہ اس کا امکان کم ہے، لیکن پائلٹس کی جانب سے کوئی چھوٹی سی غلطی بھی ایسی صورتحال پیدا کر سکتی ہے۔ تاہم، ابتدائی رپورٹس میں پائلٹس کی جانب سے ایمرجنسی پروسیجرز کی درست پیروی کی گئی ہے۔ 3. موسمی حالات: اگرچہ موسم عام طور پر صاف تھا، لیکن اچانک ہوا کا ایک جھکڑ یا ریت کا طوفان بھی ہیلی کاپٹر کے کنٹرول کو متاثر کر سکتا ہے۔ 4. مینٹیننس کا معیار: ہیلی کاپٹر کی مینٹیننس کا معیار بھی ایک اہم عنصر ہو سکتا ہے۔ تحقیقات میں یہ بھی دیکھا جائے گا کہ آیا ہیلی کاپٹر کی باقاعدہ مینٹیننس درست طریقے سے کی گئی تھی۔ حتمی نتیجہ تحقیقاتی رپورٹ کے آنے کے بعد ہی سامنے آئے گا، جو کئی ہفتوں یا مہینوں میں تیار ہو سکتی ہے۔ ماضی کے حادثوں کے ساتھ موازنہ دنیا بھر میں ایئر شوز کے دوران حادثات کا ایک طویل تاریخچہ رہا ہے۔ 2022 میں، برطانیہ کے ایک ریڈ ایرو (Red Arrows) طیارے کے حادثے میں پائلٹ ہلاک ہو گیا تھا۔ اسی طرح، 2019 میں امریکہ کے ایک ایئر شو کے دوران ایک B-17 طیارہ گر گیا تھا، جس میں سات افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ ان حادثات کی وجوہات میں تکنیکی خرابی، انسانی غلطی، اور موسمی حالات شامل تھے۔ لیکن دبئی ایئر شو 2024 کا حادثہ اس لحاظ سے منفرد ہے کہ اس میں جدید ترین سیفٹی سسٹمز کی بدولت پائلٹس کی جان بچ گئی۔ یہ واقعہ جدید ہوائی جہازوں میں سیفٹی فیچرز کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ طیارہ سازی کی صنعت پر اثرات یہ حادثہ طیارہ سازی کی صنعت، خاص طور پر ہندوستان میں ایچ اے ایل (ہندوستان ایروناٹکس لمیٹڈ) کے لیے ایک اہم موقع ہے۔ ڈھرو ہیلی کاپٹر ہندوستان کی فخر ہے، جو نہ صرف ہندوستانی فضائیہ، بلکہ کئی دیگر ممالک کی فضائیہ میں بھی خدمات انجام دے رہا ہے۔ اگر تحقیقات میں کوئی تکنیکی خرابی سامنے آتی ہے، تو ایچ اے ایل کو اسے فوری طور پر دور کرنا ہوگا تاکہ عالمی سطح پر ہیلی کاپٹر کی ساکھ برقرار رہے۔ اس کے علاوہ، یہ حادثہ طیارہ سازی کی صنعت میں سیفٹی کے معیارات کو بہتر بنانے کی اہمیت کو بھی اجاگر کرتا ہے۔ مستقبل میں، ہوائی جہازوں میں مزید جدید سیفٹی سسٹمز شامل کیے جا سکتے ہیں، تاکہ ایسے حادثات میں جانی نقصان کو کم سے کم کیا جا سکے۔ میڈیا کا کردار اور عوامی رد عمل حادثے کی خبریں فوری طور پر دنیا بھر میں پھیل گئیں۔ سوشل میڈیا پر حادثے کی ویڈیوز وائرل ہو گئیں، جس سے عوام میں مختلف قسم کے رد عمل سامنے آئے۔ کچھ لوگوں نے پائلٹس کی بہادری کی تعریف کی، تو کچھ نے حادثے کی وجوہات پر سوال اٹھائے۔ ہندوستانی میڈیا نے اس واقعے کو وسیع پیمانے پر کور کیا، اور پائلٹس کی صحت کی updates مسلسل جاری کی گئیں۔ متحدہ عرب امارات کے میڈیا نے بھی اس واقعے کو نمایاں کوریج دی، اور حکام کی طرف سے جاری کردہ بیانات کو عوام تک پہنچایا۔ بین الاقوامی میڈیا نے بھی اس واقعے کو اہم خبر کے طور پر پیش کیا، اور اسے ہوائی نمایشوں میں حفاظتی اقدامات کی اہمیت کے تناظر میں دیکھا۔ نتیجہ: المیہ اور امید کی کہانی دبئی ایئر شو 2024 کا حادثہ ایک المناک واقعہ تھا، جس نے ایک قیمتی ہیلی کاپٹر کو تباہ کر دیا اور تماشائیوں کو صدمہ پہنچا۔ لیکن اس کے باوجود، یہ واقعہ انسانی ہمت، جدید ٹیکنالوجی کی طاقت، اور احتیاطی اقدامات کی اہمیت کی ایک زندہ مثال ہے۔ پائلٹس کی محفوظ واپسی نے ثابت کیا کہ مناسب تربیت اور جدید سیفٹی سسٹمز کس طرح بڑے حادثات کو چھوٹے واقعات میں بدل سکتے ہیں۔ یہ حادثہ ہمیں یہ بھی یاد دلاتا ہے کہ ہوائی نمایشیں، چاہے کتنی ہی پرجوش کیوں نہ ہوں، ہمیشہ خطرے سے خالی نہیں ہوتیں۔ لیکن ان خطرات کے باوجود، انسان کی پرواز کی خواہش اور اسے محفوظ بنانے کی کوششیں جاری رہیں گی۔ مستقبل میں، ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم ایسے حادثات سے سیکھیں، اور ہوائی سفر کو مزید محفوظ بنانے کے لیے کام کریں۔ دبئی ایئر شو کا یہ واقعہ تاریخ کے صفحات میں ایک ایسی کہانی کے طور پر یاد رکھا جائے گا، جہاں ایک المیہ کے درمیان بھی امید کی کرن نظر آئی، اور جدید ٹیکنالوجی نے دو بہادر پائلٹس کی زندگیاں بچا کر انسانیت پر ایک احسان کیا۔