بسم اللہ الرحمن الرحیم
آپ نے "تین مرلہ اسکیم" کے بارے میں مکمل تفصیل درکار کی ہے۔ یہ ایک انتہائی اہم اور وسیع پیمانے پر زیرِ بحث رہنے والی اسکیم ہے۔ ذیل میں اس کی مکمل تفصیل، اہم نکات، فوائد، تنقیدوں اور موجودہ صورتحال کو تقریباً 1500 الفاظ میں پیش کیا جا رہا ہے۔
تین مرلہ اسکیم: تعارف اور تاریخی پس منظر
تین مرلہ اسکیم دراصل حکومت پاکستان کی جانب سے دیہی اور شہری غریب طبقے کے لیے ایک رہائشی اسکیم ہے۔ اس کا بنیادی مقصد ان خاندانوں کو مکان کی ملکیت فراہم کرنا ہے جو اپنا گھر بنانے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ اس اسکیم کا نام "تین مرلہ" اس کے تحت بنائے جانے والے مکانات کے پلاٹ کے سائز (3 مرلے) پر رکھا گیا ہے۔ یاد رہے کہ ایک مرلہ تقریباً 225 مربع فٹ یا 25.29 مربع میٹر کے برابر ہوتا ہے، یعنی تین مرلہ کا پلاٹ تقریباً 675 مربع فٹ کا ہوگا۔
یہ اسکیم سب سے پہلے سابق وزیر اعظم پاکستان محترمہ بینظیر بھٹو کی حکومت (1988-1990) کے دوران متعارف کرائی گئی تھی۔ اس وقت اس کا مقصد ملک بھر میں غریب عوام کو سستی اور آسان شرائط پر رہائش فراہم کرنا تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مختلف حکومتوں نے اس اسکیم کے نام، دائرہ کار اور طریقہ کار میں تبدیلیاں کیں، لیکن عوامی سطح پر یہ "تین مرلہ اسکیم" کے نام ہی سے مشہور رہی۔ موجودہ دور میں یہ اسکیم "پاکستان ہاؤسنگ اسکیم" یا "صحت کارڈ" وغیرہ جیسے دیگر پروگراموں کے ساتھ بھی مربوط کی گئی ہے۔
---
اسکیم کے بنیادی مقاصد
تین مرلہ اسکیم کے چند اہم مقاصد درج ذیل ہیں:
1. غریب عوام کو رہائش فراہمی: اسکیم کا اولین مقصد ان لاکھوں خاندانوں کو چھت فراہم کرنا ہے جو کچی آبادیوں (Slums) میں رہ رہے ہیں یا پھر کرائے کے مکانوں میں مشکل سے گزارہ کر رہے ہیں۔
2. غیر قانونی آبادیوں (کچی آبادیوں) کا خاتمہ: شہروں میں پھیلتی ہوئی غیر قانونی بستیاں نہ صرف شہر کی خوبصورتی کو متاثر کرتی ہیں بلکہ ان میں رہنے والوں کو بنیادی سہولیات بھی میسر نہیں ہوتیں۔ اس اسکیم کے ذریعے ان بستیوں کے لوگوں کو منظم کالونیاں بنا کر آباد کیا جاتا ہے۔
3. ملکیتی حق کا احساس: اپنا گھر ہر انسان کا بنیادی خواب ہوتا ہے۔ جب ایک غریب شخص کے پاس اپنی چھت ہوتی ہے تو اس میں خود اعتمادی پیدا ہوتی ہے اور وہ معاشرے کا ایک باعزت شہری بن جاتا ہے۔
4. معاشی ترقی اور روزگار میں اضافہ: اس اسکیم کے نتیجے میں تعمیراتی صنعت کو فروغ ملتا ہے، جس سے مزدوروں، انجینئروں، آرکیٹیکٹس اور تعمیراتی مواد کی صنعت سے وابستہ لاکھوں لوگوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوتے ہیں۔
5. شہری منصوبہ بندی (Urban Planning): بے ہنگم پھیلاؤ کی بجائے منصوبہ بند طریقے سے نئی رہائشی کالونیاں آباد کر کے شہروں کے ڈھانچے کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔
---
اسکیم کی اہم خصوصیات اور شرائط
اگرچہ مختلف حکومتیں شرائط میں تبدیلی کرتی رہتی ہیں، لیکن اسکیم کی چند بنیادی خصوصیات یہ ہیں:
1. پلاٹ کا سائز: اسکیم کے تحت عام طور پر تین مرلہ (675 مربع فٹ) کا پلاٹ دیا جاتا ہے۔ تاہم، کچھ اسکیموں میں 5 مرلہ یا 10 مرلہ کے پلاٹس بھی شامل ہو سکتے ہیں۔
2. فنڈنگ اور ادائیگی: حکومت مکمل مکان کی تعمیر کی ذمہ دار نہیں ہوتی۔ عام طور پر، حکومت پلاٹ مہیا کرتی ہے اور کچھ صورتوں میں ایک بنیادی ڈھانچہ (جیسے کہ پکی اینٹوں کا ایک کمرہ، باتھ روم) بنا کر دیتی ہے۔ باقی مکان کی تعمیر کا خرچہ یا تو مکمل طور پر اپلیکینٹ پر ہوتا ہے یا پھر حکومت کسی بینک کے ساتھ شراکت داری میں سستے قرضے مہیا کرواتی ہے۔ ادائیگیاں عام طور پر قسطوں (ایزی انسٹالمنٹس) میں کی جاتی ہیں۔
3. اہلیت کے معیار (Eligibility Criteria):
· درخواست دہندہ کا پاکستان کا شہری ہونا ضروری ہے۔
· اس کے پاس ملکیت کے لیے کوئی گھر نہ ہو۔
· خاندان کی ماہانہ آمدنی ایک مقررہ حد (مثلاً 25,000 روپے سے 40,000 روپے) سے کم ہو۔
· درخواست دہندہ کا شناختی کارڈ (CNIC) درست ہو۔
4. درخواست دہندگان کے لیے ترجیح: عام طور پر بیواؤں، معذور افراد، بزرگ شہریوں، اور ان خاندانوں کو ترجیح دی جاتی ہے جن کے پاس اپنا کوئی گھر نہیں ہے۔
5. سہولیات: نئی آباد ہونے والی کالونیوں میں بنیادی سہولیات جیسے کہ پانی، بجلی، گیس، سڑکیں، نکاسی آب، اسکول، ہسپتال اور پارکس وغیرہ بنانے کا وعدہ کیا جاتا ہے۔
---
درخواست دینے کا طریقہ کار
تین مرلہ اسکیم کے لیے درخواست دینے کا عمل وقتاً فوقتاً بدلتا رہتا ہے، لیکن عمومی عمل درج ذیل ہے:
1. اعلان پر نظر رکھنا: حکومت جب بھی اس اسکیم کے نئے کوٹے کا اعلان کرتی ہے، اس کی تشہیر اخبارات، ٹی وی اور سرکاری ویب سائٹس پر کی جاتی ہے۔
2. آن لائن رجسٹریشن: موجودہ دور میں درخواستیں زیادہ تر آن لائن ہی وصول کی جاتی ہیں۔ درخواست دہندگان کو متعلقہ سرکاری ویب سائٹ، جیسے https://naphda.gov.pk/ (قومی ہاؤسنگ اتھارٹی) پر جا کر اپنی معلومات درج کرنی ہوتی ہیں۔
3. دستاویزات جمع کروانا: درخواست فارم کے ساتھ مندرجہ ذیل دستاویزات کی اسکین کاپیز اپ لوڈ کرنی ہوتی ہیں:
· قومی شناختی کارڈ (CNIC)
· بینک اسٹیٹمنٹ
· آمدنی کے حوالے سے حلف نامہ
· پاسپورٹ سائز تصاویر
4. قرعہ اندازی (Balloting): تمام درخواستیں جمع ہونے کے بعد اہل درخواست دہندگان کی فہرست تیار کی جاتی ہے۔ پھر ایک شفاف قرعہ اندازی کے ذریعے یہ فیصلہ کیا جاتا ہے کہ کون سا درخواست دہندہ اس اسکیم کا مستحق ہے۔ یہ قرعہ اندازی عام طور پر کسی معروف شخصیت کی موجودگی میں کی جاتی ہے تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔
5. الاٹمنٹ اور ادائیگی: قرعہ اندازی میں کامیاب ہونے والے افراد کو مخصوص وقت دیا جاتا ہے تاکہ وہ پہلی قسط ادا کر سکیں۔ تمام اقساط کی ادائیگی کے بعد انہیں پلاٹ کی الاٹمنٹ لیٹر جاری کیا جاتا ہے۔
---
اسکیم سے متعلق فوائد اور مثبت پہلو
1. غربت میں کمی: یہ اسکیم غربت کے خلاف ایک مؤثر ہتھیار ثابت ہو سکتی ہے۔ مستقل رہائش سے لوگوں کے معیار زندگی میں بہتری آتی ہے۔
2. سماجی انصاف: یہ اسکیم سماجی انصاف کے اصولوں پر مبنی ہے، جس کا مقصد معاشرے کے پسماندہ طبقے کو بنیادی ضرورت (رہائش) مہیا کرنا ہے۔
3. معیشت کو فروغ: تعمیراتی صنعت کا ہر شعبہ اس اسکیم سے فائدہ اٹھاتا ہے، جو ملکی معیشت کے لیے انتہائی فائدہ مند ہے۔
4. سیاسی مقبولیت: ایسی اسکیموں سے عوامی حمایت حاصل کرنے میں مدد ملتی ہے، کیونکہ یہ براہ راست عوام کے مسائل حل کرتی ہیں۔
---
تنقید اور چیلنجز
اگرچہ تین مرلہ اسکیم کے مقاصد نہایت عمدہ ہیں، لیکن عملی طور پر اسے کئی شدید چیلنجز اور تنقیدوں کا سامنا رہا ہے:
1. لاگت اور مالیاتی مسائل: اسکیم کی لاگت حکومتی خزانے پر بہت بھاری پڑتی ہے۔ زمین کی خریداری، بنیادی ڈھانچے کی تعمیر اور سبسڈی پر بہت زیادہ رقم درکار ہوتی ہے، جسے پورا کرنا مشکل ہوتا ہے۔
2. زمین کی دستیابی: بڑے شہروں جیسے کہ لاہور، کراچی اور اسلام آباد میں مناسب اور سستی زمین کا ملنا ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔ اکثر دی گئی زمینیں شہر سے دور ہوتی ہیں، جہاں روزگار کے مواقع نہ ہونے کے برابر ہوتے ہیں۔
3. سہولیات کی عدم دستیابی: اکثر کالونیاں تو بنا دی جاتی ہیں لیکن وعدہ کردہ بنیادی سہولیات (پانی، بجلی، گیس، اسکول، ہسپتال) برسوں تک میسر نہیں آتیں، جس کی وجہ سے لوگ وہاں رہائش اختیار نہیں کر پاتے۔
4. بدعنوانی اور رشوت ستانی: اس اسکیم میں بدعنوانی کا سب سے بڑا الزام ہے۔ یہ دعوے کیے جاتے ہیں کہ بااثر افراد اور اہلکار نااہل لوگوں کے نام پر پلاٹس حاصل کر لیتے ہیں یا پھر اصل مستحقین سے رشوت وصول کرتے ہیں۔
5. انتظامیہ کی نااہلی: اسکیم کے انتظام اور تعمیراتی کام میں تاخیر ایک عام بات ہے۔ بجٹ میں خرد برد، معیار تعمیر میں کمی اور نگرانی کے نظام کی کمزوری اس کے اہم مسائل ہیں۔
6. غیر حقیقی وعدے: بعض اوقات سیاسی جماعتیں انتخابات سے پہلے اس اسکیم کے ذریعے بہت بڑے بڑے وعدے کرتی ہیں، لیکن عملی طور پر وسائل کی کمی کی وجہ سے ان وعدوں کو پورا نہیں کر پاتیں۔
---
موجودہ صورتحال اور مستقبل
موجودہ حکومت نے اس اسکیم کو "نیا پاکستان ہاؤسنگ پروگرام" کے نام سے ازسرنو شروع کیا ہے۔ اس کے تحت لاکھوں مکانات بنانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ اس نئے پروگرام میں نجی شعبے کو بھی شریک کیا گیا ہے تاکہ مالی بوجھ کو کم کیا جا سکے۔ نیز، اس میں مزدور طبقے کے لیے مائیکرو فنانسنگ اسکیموں کا اہتمام بھی کیا گیا ہے۔
تاہم، کورونا وائرس کی عالمی وبا، معاشی بدحالی اور مہنگائی نے اس اسکیم کی رفتار کو متاثر کیا ہے۔ پھر بھی، حکومت کا دعویٰ ہے کہ ملک کے مختلف حصوں میں اس پروگرام پر کام جاری ہے۔
نتیجہ اور تجاویز
نتیجہ: تین مرلہ اسکیم ایک ایسا خواب ہے جو کروڑوں پاکستانیوں کی آنکھوں میں سجایا ہوا ہے۔ اگر یہ اسکیم شفافیت، دیانتداری اور مؤثر منصوبہ بندی کے ساتھ نافذ کی جائے تو یہ نہ صرف ملک میں غربت کے خاتمے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے بلکہ ملکی معیشت کو بھی مضبوط بنانے کا ذریعہ بن سکتی ہے۔
تجاویز:
1. شفافیت: الاٹمنٹ کا پورا عمل آن لائن اور کیمرے کی نگرانی میں ہونا چاہیے۔ تمام معلومات عوام کے لیے آن لائن دستیاب ہونی چاہئیں۔
2. نجی شعبے کی شمولیت: تعمیراتی کام اور فنڈنگ میں نجی شعبے کو زیادہ سے زیادہ شامل کیا جائے۔
3. مقامی حکومتوں کا کردار: اسکیم کے نفاذ میں مقامی حکومتوں کو مرکزی کردار دیا جائے کیونکہ وہ اپنے علاقے کے مستحقین کو بہتر جانتے ہیں۔
4. بنیادی سہولیات کو ترجیح: پہلے مرحلے میں ہی پانی، بجلی، گیس اور تعلیم و صحت کی سہولیات کو یقینی بنایا جائے۔
5. سختی سے نفاذ: بدعنوانی میں ملوث افراد کے خلاف سخت ترین کارروائی کی جائے۔
خلاصہ: تین مرلہ اسکیم ایک مثالی عوامی بہبود کا منصوبہ ہے جس کی کامیابی مکمل طور پر حکومتی عزم، شفاف انتظام اور موثر مالیاتی منصوبہ بندی پر منحصر ہے۔ اگر اسے درست طریقے سے نافذ کیا جائے تو یہ پاکستان کی ترقی اور خوشحالی میں ایک سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔
Cheak Your name in List
. Next page you select your City and see your name




0 Comments
Post a Comment