جنگل راج: بھارتی انتخابی سیاست، مذہبی تقسیم اور ووٹ بینکنگ کی سیاست کا ایک جامع جائزہ
مقدمہ: جمہوریت کے جنگل میں بقا کی کشمکش
بھارت، جسے دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کا اعزاز حاصل ہے، اپنے سیاسی عمل میں ایک پیچیدہ اور کبھی کبھار خطرناک "جنگل راج" کا نمونہ پیش کرتا ہے۔ یہاں جمہوری اقدار اور نسلی و مذہبی تعصبات کے درمیان ایک مسلسل کشمکش جاری رہتی ہے۔ 2024 کے عام انتخابات نے اس کشمکش کو مزید عیاں کر دیا ہے، جہا
ں ایک طرف تو جمہوری اداروں کی مضبوطی کی جھلک نظر آتی ہے تو دوسری طرف مذہبی اقلیتوں کے خلاف بیانیہ سازی اور ووٹ بینکنگ کے نئے طریقوں نے سیاسی عمل کی複雜یت کو بڑھا دیا ہے۔
حصہ اول: مودی کے بیانیے میں مسلم دشمنی اور سیاسی مقاصد
تقریر کا تناظر اور سیاسی محرکات
وزیراعظم نریندر مودی کی اس تقریر کا تناظر سمجھنا ضروری ہے جو انہوں نے بی جے پی کی انتخابی کامیابی کے فوراً بعد کی۔ انہوں نے کانگریس پارٹی اور اس کے اتحادیوں کو "لینڈ جوہاد" کے حامی قرار دیتے ہوئے ایک ایسے بیانیے کو ہوا دی جو براہ راست مسلم اقلیت کو نشانہ بناتا ہے۔ یہ بیانیہ محض ایک اتفاقی واقعہ نہیں تھا بلکہ ایک سوچی سمجھی سیاسی حکمت عملی کا حصہ تھا، جس کا مقصد ہندو ووٹ بینک کو متحد کرنا اور انتخابی بحث کو مذہبی خطوط پر استوار کرنا تھا۔
"لینڈ جوہاد" کا نظریہ دراصل ایک سازشی نظریہ ہے جس کے مطابق مسلمان مقامی آبادی کو اقلیت میں تبدیل کرنے کے لیے منظم طریقے سے زمینیں خرید رہے ہیں۔ یہ نظریہ حقیقت میں کوئی ثبوت نہ رکھنے کے باوجود، بی جے پی کے حامی میڈیا اور سیاستدانوں میں مقبول رہا ہے۔ مودی کی تقریر نے اس نظریے کو قومی سیاسی discourse کا حصہ بنا دیا، جس کے نتیجے میں مسلمانوں کے خلاف معاشرتی تعصب میں اضافہ ہوا۔
تاریخی اقدامات کے ذریعے مسلمانوں کو نشانہ بنانا
مودی حکومت کے دو اہم اقدامات—1971 کے قومی رجسٹر کی بحالی اور 2019 کے شہریت قانون—کو اسی بیانیے کی تسلسل میں دیکھا جا سکتا ہے۔
قومی رجسٹر (این آر سی) بنیادی طور پر غیرقانونی تارکین وطن کی شناخت کے لیے تیار کیا گیا تھا، لیکن اسے بنگلہ دیشی مسلمانوں کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کیا گیا۔ اس عمل کے نتیجے میں لاکھوں افراد، جن میں زیادہ تر مسلمان تھے، شہریت کے ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہے، جس کے نتیجے میں ان کے بنیادی حقوق خطرے میں پڑ گئے۔
شہریت ترمیمی ایکٹ 2019 نے پڑوسی ممالک کے مذہبی اقلیتوں کو شہریت دینے کا وعدہ کیا، لیکن اس میں مسلمانوں کو جان بوجھ کر خارج کر دیا گیا۔ اس قانون نے بھارت کے سیکولر آئین کے بنیادی اصولوں کو چیلنج کیا اور ملک بھر میں وسیع پیمانے پر احتجاج کو جنم دیا۔
یہ دونوں اقدامات بی جے پی کے "ہندوتوا" نظریے کے عکاس ہیں، جس کا مقصد بھارت کو ایک ہندو راشٹر کے طور پر پیش کرنا ہے۔
حصہ دوم: انتخابی نتائج کا تجزیہ—جمہوریت کی کامیابی یا اقلیتوں کے لیے خطرہ؟
عددی برتری کی سیاست
2024 کے انتخابی نتائج نے بی جے پی کو 243 نشستیں دلائیں، جو کہ 272 کی اکثریت سے کم ہیں، لیکن مودی اتحاد کے تحت 272 نشستوں کی اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔ یہ نتائج اہم ہیں کیونکہ انہوں نے یہ ظاہر کیا کہ بی جے پی کو پہلے سے کہیں زیادہ سیاسی چیلنجز کا سامنا ہے۔ تاہم، اس عددی کامیابی کے پیچھے جو بیانیہ کام کر رہا تھا، وہ جمہوری تناظر میں تشویشناک ہے۔
بی جے پی کی انتخابی مہم کا مرکزی نکتہ "ہندو شناخت" کو اجاگر کرنا تھا، جبکہ مسلم اقلیت کو "دوسرا" قرار دینا تھا۔ اس تقسیم کی سیاست نے مختصر مدت میں تو سیاسی فوائد دیے، لیکن طویل مدت میں یہ معاشرتی ہم آہنگی کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔
معاشی مسائل کا استعمال
انتخابی مہم کے دوران معاشی مسائل—بالخصوص روزگار کی کمی اور معاشی عدم مساوات—کو نمایاں کیا گیا۔ تاہم، ان مسائل کے حل کے بجائے، حکومت نے "فری ریشن" جیسے پروگراموں کو انتخابی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا۔ یہ پروگرام دراصل عوامی خزانے سے براہ راست ووٹرز کو مالی فوائد پہنچانے کا ایک طریقہ تھے۔
حصہ سوم: ووٹ خریدنے کا نیا ڈیجیٹل ماڈل—جمہوریت کے لیے خطرہ
ڈیجیٹل ادائیگیوں کا انقلاب
بھارت میں ڈیجیٹل ادائیگیوں کے نظام نے ووٹ خریدنے کے عمل میں انقلاب برپا کر دیا ہے۔ یونیفائیڈ پےمنٹس انٹرفیس (UPI) جیسی سہولیات نے نقد رقم کی منتقلی کو آسان، تیز اور ناقابل شناخت بنا دیا ہے۔ اس کے نتیجے میں سیاسی جماعتوں کے لیے ووٹرز کو براہ راست مالی فوائد پہنچانا ممکن ہو گیا ہے۔
خواتین—سیاسی ہتھیار کے طور پر
خواتین ووٹرز خصوصی طور پر اس ڈیجیٹل ووٹ بینکنگ کا ہدف بن رہی ہیں۔ کیونکہ خواتین اکثر گھریلو معاشی ضروریات کے لیے زیادہ حساس ہوتی ہیں، انہیں نقد ادائیگیوں کے ذریعے متاثر کرنا相对 طور پر آسان ہوتا ہے۔ بہار کے انتخابات میں نتیش کمار کی کامیابی میں خواتین کے لیے امدادی اسکیموں کا اہم کردار رہا۔
ان اسکیموں میں گیس سلنڈر، سائیکل، یونیفارم اور براہ راست نقد ادائیگیاں شامل تھیں۔ یہ اقدامات ظاہری طور پر تو فلاحی تھے، لیکن درحقیقت ان کا مقصد ووٹرز کی سیاسی وابستگی کو خریدنا تھا۔
"سیاسی کاروباری چکر" کا نیا ماڈل
معاشی ماہرین اس عمل کو "سیاسی کاروباری چکر" کا نام دیتے ہیں، جہاں حکومتیں عوامی خزانے کے وسائل کو براہ راست ووٹرز تک پہنچا کر سیاسی حمایت حاصل کرتی ہیں۔ یہ عمل جمہوری عمل کو کمزور کرتا ہے کیونکہ:
1. یہ ووٹرز کے فیصلے کو مالی مفاد سے جوڑ دیتا ہے
2. اس سے سیاسی جماعتوں کی پالیسی کارکردگی کی جوابدہی ختم ہو جاتی ہے
3. یہ طویل مدتی معاشی پالیسیوں کے بجائے فوری فوائد پر توجہ مرکوز کرتا ہے
حصہ چہارم: پاکستان میں ووٹ بینکنگ کے طریقے—ایک تقابلی جائزہ
بینظیر انکم سپورٹ پروگرام—فلاح یا سیاسی ہتھیار؟
سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت نے "بینظیر انکم سپورٹ پروگرام" کے ذریعے غریب خاندانوں کو مالی امداد فراہم کی ہے۔ اگرچہ اس پروگرام کے مثبت پہلو بھی ہیں، لیکن یہ واضح ہے کہ یہ پیپلز پارٹی کے ووٹ بینک کو مضبوط کرنے کا ایک ذریعہ بھی ہے۔ انتخابات کے دوران اس پروgram کے تحت امداد میں اضافہ کرنا اس بات کی واضح علامت ہے کہ یہ محض فلاحی پروگرام نہیں بلکہ سیاسی ہتھیار ہے۔
پنجاب میں نقد امداد کے پروگرام
پی ایم ایل-این کی حکومت نے حالیہ سیلاب کے بعد متاثرین کو نقد امداد فراہم کرنے کا اعلان کیا۔ اگرچہ یہ انسانی ہمدردی کا تقاضا تھا، لیکن سیاسی حلقوں میں اسے ووٹ بینکنگ کی کوشش کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔
سیاسی جماعتوں کا دوہرا معیار
پاکستان کی تمام بڑی سیاسی جماعتیں—پیپلز پارٹی، پی ایم ایل-این، پی ٹی آئی—نقد امداد کے پروگرام چلاتی ہیں، لیکن ان کا بنیادی مقصد عوام کو خود مختار بنانا نہیں بلکہ انہیں سیاسی طور پر اپنے زیر اثر رکھنا ہوتا ہے۔ اس کے نتیجے میں:
· عوام کی پالیسیوں کے بارے میں جاننے کی دلچسپی ختم ہو جاتی ہے
· حکومتیں اپنی کارکردگی دکھانے کے بجائے نقد امداد کے ذریعے ووٹ حاصل کرتی ہیں
· جمہوری عمل کا مقصد صرف اقتدار حاصل کرنا رہ جاتا ہے، عوامی بہبود نہیں
حصہ پنجم: طویل المدتی اثرات—جمہوریت، معیشت اور معاشرے پر مرتب ہونے والے اثرات
جمہوری عمل کی کمزوری
ووٹ خریدنے کا یہ رجحان جمہوری عمل کو بنیادی طور پر کمزور کرتا ہے۔ جب ووٹرز اپنا ووٹ مالی فوائد کے عوض دینے لگتے ہیں تو:
· انتخابات عوامی مرضی کے بجائے مالی لین دین کا نتیجہ بن جاتے ہیں
· قابل اور اہل امیدواروں کے بجائے وہی امیدوار کامیاب ہوتے ہیں جن کے پاس مالی وسائل زیادہ ہوں
· جمہوری ادارے کمزور ہوتے ہیں اور عوام کا اعتماد ان سے اٹھ جاتا ہے
معاشی نقصانات
نقد امداد کے یہ پروگرام معیشت کے لیے بھی نقصان دہ ہیں:
· یہ عوامی خزانے پر بوجھ بڑھاتے ہیں
· پیداواری سرمایہ کاری کے بجائے غیر پیداواری اخراجات میں اضافہ ہوتا ہے
· معیشت کی بنیادی مشکلات—جیسے روزگار کے مواقعوں کی کمی—پر توجہ نہیں دی جاتی
معاشرتی تقسیم
بھارت میں مذہبی بنیادوں پر تقسیم کی سیاست اور پاکستان میں مالی امداد کے ذریعے ووٹ بینکنگ دونوں ہی معاشرتی ہم آہنگی کے لیے خطرہ ہیں۔ بھارت میں مسلم اقلیت کے خلاف بیانیہ سازی اور پاکستان میں قبائلی و لسانی تقسیم کی سیاست دونوں ہی ملک کی سالمیت کے لیے خطرہ ہیں۔
حصہ ششم: ممکنہ حل اور تجاویز
شفافیت اور احتساب کا نظام
· الیکشن کمیشن کو مزید اختیارات دیے جائیں
· سیاسی جماعتوں کے اخراجات پر مکمل نظر رکھی جائے
· ڈیجیٹل ادائیگیوں کے ریکارڈ کو الیکشن کمیشن کے ساتھ شیئر کیا جائے
عوامی شعور میں اضافہ
· ووٹرز میں سیاسی بیداری پیدا کی جائے
· میڈیا کو غیر جانبدارانہ رپورٹنگ کی ترغیب دی جائے
· سول سوسائٹی کی شرکت کو یقینی بنایا جائے
پالیسی پر مبنی سیاست
· سیاسی جماعتوں کو پالیسی مباحثے پر مجبور کیا جائے
· عوامی مسائل کے حقیقی حل پیش کیے جائیں
· طویل المدتی معاشی پالیسیوں پر توجہ مرکوز کی جائے
اختتامیہ: جمہوریت کی بقا کی جنگ
بھارت اور پاکستان دونوں ممالک میں سیاسی عمل ایک پیچیدہ "جنگل راج" کی شکل اختیار کر چکا ہے، جہاں طاقتور سیاسی قوتیں اپنے مفادات کے حصول کے لیے ہر حربہ استعمال کرتی ہیں۔ بھارت میں مذہبی تقسیم کی سیاست اور پاکستان میں مالی ووٹ بینکنگ دونوں ہی جمہوری اقدار کے لیے خطرہ ہیں۔
اس جنگل میں جمہوریت کی بقا کے لیے ضروری ہے کہ:
· عوامی شعور کو بیدار کیا جائے
· اداروں کو مضبوط بنایا جائے
· شفافیت اور احتساب کو یقینی بنایا جائے
· پالیسی پر مبنی سیاست کو فروغ دیا جائے
صرف اس صورت میں ہی ہم اس سیاسی "جنگل راج" سے نکل کر ایک حقیقی جمہوری معاشرہ تشکیل دے سکتے ہیں، جہاں ہر شہری کی آواز کی واقعی قدر ہو، خواہ وہ کسی بھی مذہب یا طبقے سے تعلق رکھتا ہو۔ یہ کوئی آسان کام نہیں، لیکن اگر ہم اپنی آنے والی نسلوں کے لیے بہتر مستقبل چاہتے ہیں تو یہ ضروری ہے۔
.webp)
.webp)

.jpeg)
0 Comments
Post a Comment