پاکستان کا نیوکلیئر ٹرائیڈ اور بابر-3 کروز میزائل کا کامیاب تجربہ

پاکستان کا نیوکلیئر ٹرائیڈ اور بابر-3 کروز میزائل کا کامیاب تجربہ

ایک اسٹریٹجیک کامیابی جس نے علاقائی دفاعی توازن کو نئی شکل دی

تعارف

پاکستان نے 9 جنوری 2017 کو اپنی Agosta 90B کلاس آبدوز سے بابر-3 کروز میزائل کے کامیاب تجربے کا اعلان کیا۔ یہ تجربہ نہ صرف پاکستان کے دفاعی تاریخ کا ایک اہم سنگ میل تھا، بلکہ اس نے پاکستان کو دنیا کے ان چند ممالک کی فہرست میں شامل کر دیا جو زیر آب پلیٹ فارم سے نیوکلیئر میزائل داغ سکتے ہیں۔ یہ کامیابی پاکستان کے "مکمل نیوکلیئر ٹرائیڈ" کی تکمیل کی علامت بن گئی، جس کا مطلب ہے کہ اب پاکستان ہوا، زمین اور سمندر تینوں محاذوں سے نیوکلیئر حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

بابر-3 کروز میزائل — تصوراتی خاکہ

بابر-3 کروز میزائل جسے آبدوز سے داغا جا سکتا ہے

یہ کامیابی پاکستان کی قومی سلامتی کے لیے ایک انقلابی پیشرفت تھی، جس نے نہ صرف پاکستان کی دوسری ضرب کی صلاحیت کو مضبوط کیا بلکہ خطے میں اسٹریٹجیک توازن کو بھی نئی شکل دی۔ اس مضمون میں ہم بابر-3 کروز میزائل کی تکنیکی خصوصیات، نیوکلیئر ٹرائیڈ کے تصور، اور اس کامیابی کے علاقائی و بین الاقوامی اثرات کا تفصیلی جائزہ پیش کریں گے۔

بابر-3 کروز میزائل: تکنیکی خصوصیات اور صلاحیتیں

بنیادی خصوصیات

بابر-3 پاکستان کا پہلا زیر آب داغے جانے والا کروز میزائل ہے جو نیوکلیئر وارہیڈ لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ میزائل پاکستان کے بابر کروز میزائل خاندان کا حصہ ہے جس کی زمینی اور ہوائی ورژن پہلے ہی متعارف کروائے جا چکے ہیں۔

بابر-3 کی اہم تکنیکی خصوصیات:

  • رینج: 450 کلومیٹر (280 میل)
  • ہدف تک پہنچنے کی درستگی: 10 میٹر سے کم (CEP)
  • پروپلشن سسٹم: ٹربو جیٹ انجن
  • گائیڈنس سسٹم: GPS، GLONASS، TERCOM اور DSMAC کا مجموعہ
  • لانچ وزن: تقریباً 1500 کلوگرام
  • لانچ پلیٹ فارم: آبدوز سے عمودی لانچ سسٹم
  • وارہیڈ: روایتی یا نیوکلیئر (450 کلوگرام تک)
  • پرواز کی اونچائی: زمین سے قریب (سی-لیول پرواز)

جدید گائیڈنس اور نیویگیشن سسٹم

بابر-3 ایک جدید ترین گائیڈنس سسٹم سے لیس ہے جو اسے انتہائی درستگی کے ساتھ اپنے ہدف تک پہنچنے کی صلاحیت فراہم کرتا ہے۔ اس کے گائیڈنس سسٹم میں درج ذیل ٹیکنالوجیز شامل ہیں:

TERCOM (زمینی تعاقب ریڈار)

یہ سسٹم میزائل کو پرواز کے دوران زمین کی سطح کے خدوخال کا موازنہ پہلے سے محفوظ ڈیٹا سے کرکے اپنی پوزیشن کا تعین کرنے میں مدد دیتا ہے۔

DSMAC ڈیجیٹل سین ٹیکنالوجی

ہدف کے قریب پہنچنے پر میزائل میں موجود کیمرے ہدف کا معائنہ کرتے ہیں اور اسے پہلے سے محفوظ تصویر سے ملا کر درستگی کو یقینی بناتے ہیں۔

سیٹلائیٹ نیویگیشن

GPS اور GLONASS سیٹلائیٹ سسٹمز کی مدد سے میزائل اپنی پوزیشن کا درست تعین کر سکتا ہے۔

سی-لیول پرواز کی صلاحیت

بابر-3 کی سب سے اہم خصوصیت اس کی سی-لیول پرواز کرنے کی صلاحیت ہے، جس کا مطلب ہے کہ یہ زمین سے انتہائی قریب اڑان بھر سکتا ہے۔ یہ صلاحیت دشمن کے ریڈار سسٹمز سے بچنے میں مدد دیتی ہے، کیونکہ زمین کی curvature اور قدرتی رکاوٹیں ریڈار کی لہروں کو روکتی ہیں۔ اس طرح بابر-3 کو پکڑنا اور تباہ کرنا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔

آبدوز سے میزائل لانچ — تصوراتی خاکہ

آبدوز سے کروز میزائل لانچ کا عمل

Agosta 90B کلاس آبدوز: ایک طاقتور پلیٹ فارم

بابر-3 میزائل کو لانچ کرنے کے لیے استعمال ہونے والی Agosta 90B کلاس آبدوزیں پاکستان بحریہ کا ایک اہم حصہ ہیں۔ یہ آبدوزیں فرانس کے ڈی سی این ایس گروپ کے تعاون سے تیار کی گئی ہیں اور انہیں پاکستان میں ہی کراچی شپ یارڈ میں تیار کیا گیا تھا۔

Agosta 90B کی اہم خصوصیات

خصوصیتتفصیل
طاقت کا نظامڈیزل الیکٹرک، ایئر انڈیپنڈنٹ پروپلشن (AIP) سسٹم سے لیس
لمبائی67.6 میٹر (221 فٹ)
عملہ36 افسران اور sailors
غوطہ کی زیادہ سے زیادہ گہرائی300 میٹر (980 فٹ)
آلات جنگ4 x 533 ملی میٹر ٹارپیڈو ٹیوبز، SM39 ایکزوکیٹ میزائل، sea mines
آبدوز مخالف صلاحیتجدید سونار سسٹم اور جنگی نظام

ایئر انڈیپنڈنٹ پروپلشن (AIP) سسٹم

Agosta 90B آبدوزیں جدید ترین AIP سسٹم سے لیس ہیں، جس کی بدولت یہ بغیر سانس لیے طویل عرصے تک پانی کے اندر رہ سکتی ہیں۔ روایتی ڈیزل الیکٹرک آبدوزیں ہر چند گھنٹے بعد سطح پر آکر اپنی بیٹریاں چارج کرنے پر مجبور ہوتی ہیں، جبکہ AIP سسٹم کی مدد سے Agosta 90B ہفتوں تک مسلسل پانی کے اندر رہ سکتی ہے۔ یہ صلاحیت اسے دشمن کے لیے پکڑے جانے سے بچانے میں مدد دیتی ہے۔

"آبدوز سے داغے جانے والے میزائل کسی بھی ملک کی دوسری ضرب کی صلاحیت میں اضافہ کرتے ہیں، کیونکہ آبدوزیں چھپی رہ سکتی ہیں اور ان کا پتہ لگانا مشکل ہوتا ہے۔ یہ صلاحیت دشمن کو یہ یقین دہانی فراہم کرتی ہے کہ اگر وہ پہلا حملہ کرتا ہے تو بھی وہ تلافی کارروائی سے بچ نہیں سکتا۔"

— دفاعی تجزیہ کار ڈاکٹر اسلام عباس

نیوکلیئر ٹرائیڈ: ایک اسٹریٹجیک تصور

نیوکلیئر ٹرائیڈ سے مراد کسی ملک کی تین مختلف پلیٹ فارمز سے نیوکلیئر ہتھیار استعمال کرنے کی صلاحیت ہے۔ یہ تین پلیٹ فارمز ہیں: زمینی بیسڈ (لانچرز)، ہوائی بیسڈ (بمبار طیارے)، اور بحری بیسڈ (آبدوزیں)۔ پاکستان کے پاس یہ تینوں صلاحیتیں موجود ہیں، جو اسے دنیا کے ان چند ممالک میں شامل کرتی ہیں جو مکمل نیوکلیئر ٹرائیڈ رکھتے ہیں۔

زمینی پلیٹ فارم

پاکستان کے پاس مختلف رینج کے بیلسٹک میزائل ہیں جن میں غوری، شہین، اور عابد شامل ہیں۔ یہ میزائل ہر قسم کے ہدف کو نشانہ بنا سکتے ہیں اور نیوکلیئر وارہیڈ لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

ہوائی پلیٹ فارم

پاک فضائیہ کے طیارے جیسے F-16 اور JF-17 تھنڈر نیوکلیئر ہتھیار لے جانے اور استعمال کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہ طیارے دشمن کے دفاعی نظام میں گھس کر ہدف کو تباہ کر سکتے ہیں۔

بحری پلیٹ فارم

بابر-3 کروز میزائل کی مدد سے پاکستان کی آبدوزیں اب نیوکلیئر ہتھیار داغ سکتی ہیں۔ یہ صلاحیت نیوکلیئر ٹرائیڈ کا سب سے اہم حصہ ہے، کیونکہ آبدوزوں کا پتہ لگانا سب سے مشکل ہوتا ہے۔

نیوکلیئر ٹرائیڈ: زمین، ہوا اور سمندر

نیوکلیئر ٹرائیڈ کے تینوں پلیٹ فارمز: زمین، ہوا اور سمندر

علاقائی اسٹریٹجیک اثرات

ہندوستان کے لیے چیلنج

بابر-3 کی کامیابی نے ہندوستان کے لیے ایک نئی قسم کی دفاعی چیلنج پیدا کی ہے۔ ہندوستان کے پاس بھی آبدوز سے داغے جانے والے میزائل ہیں، لیکن پاکستان کی یہ صلاحیت خطے میں اسٹریٹجیک توازن کو متاثر کرتی ہے۔ بابر-3 کی سی-لیول پرواز کی صلاحیت ہندوستان کے میزائل ڈیفنس سسٹمز کے لیے ایک چیلنج ہے، جنہیں اب نئی ٹیکنالوجیز سے لیس کرنے کی ضرورت ہے۔

خطے میں اسٹریٹجیک استحکام

دفاعی ماہرین کے مطابق، نیوکلیئر ٹرائیڈ کی تکمیل خطے میں اسٹریٹجیک استحکام کو بڑھا سکتی ہے۔ جب دونوں ممالک کے پاس دوسری ضرب کی صلاحیت ہوتی ہے تو وہ پہلے حملے کے امکان کو کم سمجھتے ہیں، کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ کوئی بھی پہلا حملہ تباہ کن جوابی کارروائی کو جنم دے سکتا ہے۔ یہ صورت حال دونوں طرف سے احتیاط کو بڑھاوا دیتی ہے۔

بین الاقوامی ردعمل

بابر-3 کے کامیاب تجربے پر بین الاقوامی ردعمل مختلف رہا۔ جہاں کچھ ممالک نے اسے خطے میں ہتھیاروں کی دوڑ کو بڑھانے والا قدم قرار دیا، وہیں کچھ تجزیہ کاروں نے اسے اسٹریٹجیک استحکام کے لیے مفید قرار دیا۔

نتیجہ

بابر-3 اور Agosta 90B جیسے پلیٹ فارمز نے پاکستان کی دوسری ضرب کی صلاحیت کو مضبوط کیا ہے۔ اس طرح کی صلاحیتیں خطے کے دفاعی توازن اور عالمی سلامتی کے تناظر میں اہمیت رکھتی ہیں۔

© تمام حقوق محفوظ ہیں