27ویں آئینی ترمیمی بل 2025 — مسودہ کی اہم شقیں

27ویں آئینی ترمیمی بل 2025 — مسودہ کی اہم شقیں

نیچے 27ویں آئینی ترمیم کے مسودے میں شامل مرکزی نکات دیے گئے ہیں — اصل مسودہ کے مطابق ترتیب (متن بذریعہ قاری).

  • 01
    27ویں آئینی ترمیمی بل 2025 کا مسودہ سامنے آگیا
  • 02
    آئینی ترمیم کے مسودے میں 48 آرٹیکلز میں مختلف ترامیم تجویز
  • 03
    ترمیم کے ذریعے "فیڈرل کونسٹی ٹیوشنل کورٹ" کے قیام کی تجویز
  • 04
    سپریم کورٹ سے علیحدہ نئی "وفاقی آئینی عدالت" قائم کرنے کی شق
  • 05
    وفاقی آئینی عدالت کا صدر مقام اسلام آباد ہوگا
  • 06
    چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت کی مدتِ ملازمت تین سال مقرر
  • 07
    وفاقی آئینی عدالت کے جج 68 برس کی عمر میں ریٹائر ہوں گے
  • 08
    آئینی عدالت کو وفاق اور صوبوں کے درمیان تنازعات سننے کا اختیار
  • 09
    آئینی عدالت کو آئینی تشریح اور بنیادی حقوق سے متعلق مقدمات کا دائرہ اختیار
  • 10
    آئین کے آرٹیکل 184 کو ختم کرنے کی تجویز
  • 11
    آرٹیکل 175 میں وفاقی آئینی عدالت کے قیام کی ترمیم
  • 12
    سپریم کورٹ کی آئینی اختیارات محدود، نئی عدالت کو منتقل
  • 13
    آرٹیکل 175A میں ججز تقرری کے لیے نیا طریقہ کار تجویز
  • 14
    جوڈیشل کمیشن میں وفاقی آئینی عدالت اور سپریم کورٹ دونوں کے چیف جسٹس شامل
  • 15
    وفاقی آئینی عدالت اور سپریم کورٹ کے فیصلے ایک دوسرے پر لازم نہیں ہوں گے
  • 16
    آرٹیکل 189 میں ترامیم، آئینی عدالت کے فیصلے تمام عدالتوں پر لازم
  • 17
    سپریم جوڈیشل کونسل کی تشکیلِ نو، دونوں عدالتوں کے چیف جسٹس بطور ارکان
  • 18
    آرٹیکل 243 میں ترامیم — چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کا عہدہ ختم
  • 19
    آرمی چیف کو "چیف آف ڈیفنس فورسز" کا اضافی عہدہ دیا گیا
  • 20
    "فیلڈ مارشل" کو قومی ہیرو کا درجہ دینے اور تاحیات مراعات دینے کی تجویز
  • 21
    آرٹیکل 93 میں ترمیم، وزیرِاعظم کو سات مشیروں کی تقرری کا اختیار
  • 22
    آرٹیکل 130 میں ترمیم، وزرائے اعلیٰ کے مشیروں کی تعداد میں اضافہ
  • 23
    آرٹیکل 206 میں ترمیم، سپریم کورٹ یا آئینی عدالت میں تقرری سے انکار پر جج ریٹائر تصور
  • 24
    آرٹیکل 209 میں ترمیم، سپریم جوڈیشل کونسل کے نئے قواعد 60 دن میں بنانے کی شرط
  • 25
    آرٹیکل 175B سے 175L تک نیا باب شامل — وفاقی آئینی عدالت کے اختیارات و طریقہ کار
  • 26
    آرٹیکل 176 تا 183 میں ترامیم، سپریم کورٹ کے حوالے سے اصطلاحات کی تبدیلی
  • 27
    آرٹیکل 186 اور 191A حذف کرنے کی تجویز
  • 28
    آئینی عدالت کا ایڈوائزری دائرہ کار بھی متعین کیا جائے گا۔

نوٹ: یہ مسودہ آمدنی/سرکاری دستاویز کا خلاصہ ہے — اصل مسودہ یا سرکاری نوٹیفیکیشن کے لیے متعلقہ سرکاری ذرائع دیکھیں۔