مئی 2025 پاک بھارت جنگ کی حقیقت ۔فرانسیسی جنرل کی زبانی
۔
یہ مضمون درج ذیل ڈھانچے پر مشتمل ہوگا:
1. فرانسیسی کمانڈر کے دعوؤں کا خلاصہ
2. ان دعوؤں کا تنقیدی جائزہ اور سیاق و سباق
3. رافیل بمقابلہ جے-10 سی: ایک تکنیکی موازنہ
4. ممکنہ محرکات اور بین الاقوامی ردعمل
5. خطے پر اثرات اور مستقبل کے مضمرات
---
فرانسیسی نیول کمانڈر کے بیانات: حقائق کی کسوٹی پر اور علاقائی سلامتی کے مضمرات
فرانس کے بحریہ کے ایک کمانڈر کیپٹن ژاک لاؤنی کے مبینہ بیانات نے جنوبی ایشیا کی دفاعی و سیاسی حلقوں میں ہلچل پیدا کر دی ہے۔ ان بیانات میں پاکستان اور بھارت کے درمیان فضائی صلاحیتوں کے توازن پر ایسے دعوے سامنے آئے ہیں جو عام طور پر سرکاری یا سفارتی چینلز پر بات چیت کا حصہ نہیں بنتے۔ اگر یہ بیانات درست ہیں، تو یہ نہ صرف 2019 کے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان سب سے زیادہ متنازعہ فضائی تصادم کی نئی تشریح پیش کرتے ہیں بلکہ خطے میں ہتھیاروں کی دوڑ، سفارتی تعلقات اور جدید ترین جنگجو طیاروں کی تاثیر کے بارے میں اہم سوالات بھی کھڑے کرتے ہیں۔
بیانات کا خلاصہ: کیا کہا گیا؟
میڈیا رپورٹس کے مطابق، کیپٹن لاؤنی نے انڈو پیسفک کانفرنس کے شرکاء سے بات چیت کے دوران کئی اہم نکات اٹھائے:
1. رافیل طیاروں کی ناکامی: انہوں نے نام لئے بغیر بھارت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ رافیل طیاروں میں کوئی فنی مسئلہ نہیں تھا، بلکہ انہیں "مناسب انداز سے نہیں اڑایا گیا۔" ان کا مؤقف تھا کہ رافیل کے ریڈار سسٹم کی ناکامی ایک "آپریشنل ایشو" تھی، نہ کہ تکنیکی۔
2. پاکستانی فضائیہ کی برتری کا اعتراف: انہوں نے زور دے کر کہا کہ "پاکستانی فضائیہ کی تیاری بھارت سے بہت بہتر تھی" اور یہ کہ یہ کامیابی چینی ساختہ J-10C طیاروں کی "تکنیکی برتری" کی بجائے "پاکستانی فضائیہ کی صلاحیتوں" کا نتیجہ تھی۔
3. رافیل کے گرائے جانے کی تصدیق: سب سے متنازعہ بات یہ تھی کہ انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ پاکستان نے مئی میں ہونے والے اس تصادم میں بھارت کے رافیل طیارے مار گرائے تھے۔
اگر ان رپورٹس کو درست مان لیا جائے، تو یہ پہلا موقع ہے جب ایک غیر ملکی فوجی افسر، جو ایک اہم یورپی طاقت کی نمائندگی کر رہا ہے، نے اس طرح کے دعوے کھلے عام کئے ہیں۔
تنقیدی تجزیہ: بیانات کی سچائی اور سیاق و سباق
فرانسیسی بحریہ کے ایک کمانڈر کے ایسے بیانات فوری طور پر متعدد سوالات کھڑے کرتے ہیں۔
· سرکاری تصدیق کا فقدان: فرانسیسی وزارت دفاع یا ایلزے پیلس کی طرف سے ان بیانات کی کوئی سرکاری تصدیق نہیں ہوئی ہے۔ یہ بات غیر معمولی ہے کہ ایک جونیئر کمانڈر (اگرچہ کیپٹن کا عہدہ اہم ہے) اتنے حساس معاملے پر اپنی ذاتی رائے کا اظہار کرے جو فرانس کی خارجہ پالیسی سے متصادم ہو۔ فرانس بھارت کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت دار ہے، خاص طور پر رافیل جیسی ڈیفنس ڈیلز کے بعد۔ ایسے میں ایک افسر کا بھارت کی صلاحیتوں پر سوال اٹھانا فرانس کے اپنے مفادات کے خلاف ہے۔
· بھارت کا ردعمل: بھارت نے ماضی میں ایسے کسی بھی واقعے کو سختی سے رد کیا ہے کہ اس کا کوئی رافیل طیارہ کھویا گیا ہو یا گرایا گیا ہو۔ بھارتی فضائیہ اور دفاعی تجزیہ کاروں کا اصرار ہے کہ رافیل طیارے ان کے بیڑے کا ایک قیمتی اور ناقابل تسخیر asset ہیں۔
· پاکستانی موقف: پاکستانی فوجی حلقوں میں ایسے بیانات کو اپنی فضائیہ کی صلاحیتوں کے حق میں ایک بڑی کامیابی کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ تاہم، پاکستانی فضائیہ کی سرکاری سطح پر ایسی کوئی تفصیلی رپورٹ جاری نہیں ہوئی جس میں رافیل کے گرائے جانے کا دعویٰ کیا گیا ہو۔
سیاق و سباق کا جائزہ: یہ بیانات اس وقت سامنے آئے ہیں جب بھارت اپنی فضائی صلاحیتوں کو مزید بڑھا رہا ہے اور رافیل طیاروں کی کھیپ مکمل کرنے کے قریب ہے۔ ایسے میں، یہ بیانات بھارت کے خلاف ایک اطلاعاتی جنگ (Information Warfare) کا حصہ بھی ہو سکتے ہیں، جس کا مقصد بھارت کی فضائیہ کی ساکھ کو مجروح کرنا اور پاکستانی عوام کے morals کو بلند کرنا ہو۔
رافیل بمقابلہ J-10C: ایک تکنیکی موازنہ
اگر صرف تکنیکی بنیادوں پر موازنہ کیا جائے تو دونوں طیارے اپنے اپنے دائرے میں اعلیٰ ہیں۔
· ڈاسالٹ رافیل (فرانس): رافیل ایک "اومنی رول" (ہر طرح کے کام کرنے والا) کثیر المقاصد لڑاکا طیارہ ہے۔ اس کی سب سے بڑی طاقت اس کا AESA (Active Electronically Scanned Array) ریڈار ہے، جو بیک وقت متعدد ہدفوں کو ٹریک کر سکتا ہے اور دشمن کے ریڈار سے بچنے کی غیر معمولی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ طیارہ انتہائی جدید الیکٹرانک وارفیئر سسٹمز سے لیس ہے اور میٹرنگ کے بغیر (Stealth) ٹیکنالوجی کے کچھ عناصر کا حامل ہے۔ اس کی سب سے مہلک میزائل MBDA کی "میٹیور" ہوا سے ہوا میں مار کرنے والا میزائل ہے، جس کی رینج 100+ کلومیٹر سے زیادہ بتائی جاتی ہے۔
· چینگیو J-10C (چین): J-10C ایک ایکنج لڑاکا طیارہ ہے جس میں جدید AESA ریڈار اور جدید ایویونکس سسٹم نصب ہیں۔ یہ PL-15 ہوا سے ہوا میں مار کرنے والے میزائل سے لیس ہے، جس کی رینج رافیل کے میٹیور میزائل کے مقابلے میں کہیں زیادہ (200 کلومیٹر سے تجاوز) بتائی جاتی ہے۔ یہ طیارہ بھی جدید الیکٹرانک وارفیئر کا حامل ہے۔
فیصلہ کن عنصر: جیسا کہ کیپٹن لاؤنی نے بھی اشارہ کیا، محض ہوائی جہاز کی تکنیکی خصوصیات ہی جنگ کا فیصلہ نہیں کرتیں۔ اس کے لیے درج ذیل عوامل کلیدی ہیں:
· پائلٹ کی تربیت اور ہنر: پاکستانی فضائیہ اپنے پائلٹوں کی سخت تربیت اور جنگ کے طریقوں (Tactics) کے لیے مشہور ہے۔
· کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم: کسی بھی فضائی جنگ میں زمینی ریڈار، AWACS (ہوائی چوکی) طیاروں اور لڑاکا طیاروں کے درمیان مربوط رابطہ انتہائی اہم ہوتا ہے۔
· حربی حکمت عملی: دشمن کو غلط فہمی میں ڈالنا، غیر متوقع حملہ کرنا اور اپنی کمزوریوں کو چھپانا۔
اگر پاکستانی فضائیہ واقعی کامیاب رہی، تو اس کی وجہ شاید J-10C کی تکنیکی برتری سے زیادہ، ان تمام عوامل کا بہتر استعمال تھا۔
فرانسیسی کمانڈر کے بیانات کے ممکنہ محرکات
ایک فرانسیسی افسر کے ایسے بیانات کیوں سامنے آئیں گے؟ اس کے چند محرکات ہو سکتے ہیں:
1. ذاتی رائے کا اظہار: یہ ممکن ہے کہ کیپٹن لاؤنی نے اپنی ذاتی فوجی رائے کا اظہار کیا ہو، جو فرانس کی سرکاری پالیسی سے ہم آہنگ نہیں ہے۔
2. تجارتی دباؤ: یہ بیانات فرانس کے لیے ایک تجارتی پیغام بھی ہو سکتے ہیں — "ہمارے طیارے بہترین ہیں، مسئلہ آپریٹر کا ہے۔" اس طرح وہ رافیل کی ساکھ بچاتے ہوئے بھارت کو مزید تربیت اور اپ گریڈ کی پیشکش کر سکتے ہیں۔
3. جیواسٹریٹجک اشارہ: فرانس چاہتا ہو سکتا ہے کہ وہ بحر ہند اور بحرالکاہل کے خطے میں اپنی موجودگی کو مضبوط کرے۔ پاکستان کے ساتھ تعلقات بہتر کرنے سے اسے چین کے ساتھ اپنی بات چیت میں بھی مضبوطی مل سکتی ہے۔
4. غلط معلومات کا امکان: یہ بھی ایک مضبوط امکان ہے کہ یہ رپورٹس غلط یا من گھڑت ہیں، جس کا مقصد پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی بڑھانا یا فرانس اور بھارت کے تعلقات میں دراڑ ڈالنا ہے۔
خطے پر اثرات اور مستقبل کے مضمرات
اگر ان بیانات کو کوئی حقیقت مان لیا جائے، تو اس کے دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں:
· بھارت-فرانس تعلقات پر دباؤ: بھارت فرانس سے اس معاملے پر وضاحت کا مطالبہ کرے گا، جس سے دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری میں کشیدگی پیدا ہو سکتی ہے۔
· ہتھیاروں کی دوڑ میں تیزی: بھارت اپنی فضائی صلاحیتوں کو مزید بڑھانے پر مجبور ہو گا، جس میں مزید رافیل طیاروں کی خریداری، مقامی TEDBF (Twin Engine Deck Based Fighter) منصوبے کو تیز کرنا، یا امریکی F-15EX جیسے متبادل کی تلاش شامل ہو سکتی ہے۔
· پاک-چین تعلقات میں مضبوطی: J-10C کی کامیابی پاکستان کو چین سے مزید جدید ترین ہتھیار خریدنے پر آمادہ کرے گی، جس سے خطے میں چین کی اثر رسوئی میں اضافہ ہوگا۔
· پاکستانی فضائیہ کے موریل میں اضافہ: اس طرح کے اعتراف سے پاکستانی فضائیہ کے حوصلے بلند ہوں گے اور ان کے اعتماد میں اضافہ ہوگا۔
خلاصہ
کیپٹن ژاک لاؤنی کے مبینہ بیانات ایک اہم سنگ میل ہیں، لیکن انہیں احتیاط کے ساتھ پرکھنے کی ضرورت ہے۔ جب تک فرانسیسی یا بھارتی حکومت کی طرف سے کوئی سرکاری وضاحت سامنے نہیں آجاتی، تب تک ان رپورٹس کو حتمی سچائی کے طور پر قبول نہیں کیا جا سکتا۔
تاہم، یہ واقعہ اس اہم سبق کی یاد دہانی کراتا ہے کہ جدید جنگوں کا انحصار محض ہتھیاروں کی تکنیکی تفصیلات پر نہیں، بلکہ انہیں استعمال کرنے والے انسانوں، ان کی تربیت، ان کی حکمت عملی اور ان کے کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹمز پر ہوتا ہے۔ پاکستانی فضائیہ کی تربیت اور صلاحیتوں کو عالمی سطح پر سراہا جاتا رہا ہے، اور اگر یہ بیانات درست ہیں تو یہ اس کی تصدیق ہوگی۔
بالآخر، یہ معاملہ جنوبی ایشیا میں ایک غیر مستحکم توازن کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ دونوں ممالک کے پاس جدید ترین ہتھیار ہیں، اور ایسے میں کسی بھی چنگاری سے بڑے تصادم کا خطرہ موجود رہتا ہے۔ ایسے متنازعہ بیانات اس کشیدگی کو بڑھانے کا کام کرتے ہیں۔ دونوں طرف کی قیادت کے لیے ضروری ہے کہ وہ پُرامن بات چیت کے ذریعے تنازعات کو حل کرنے پر توجہ مرکوز کریں، نہ کہ فضائی برتری کے دعوؤں کی دوڑ پر۔




0 Comments
Post a Comment