بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام
محکمہ سماجی تحفظ - حکومت پاکستان
بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام
پاکستان کے مستحق خاندانوں کو مالی معاونت فراہم کرنے کا حکومتی پروگرام
پروگرام کی سہولیات
ماہانہ مالی امداد
مستحق خاندانوں کو ماہانہ مالی امداد فراہم کی جاتی ہے تاکہ ان کی بنیادی ضروریات پوری ہو سکیں۔
صحت کی سہولیات
رجسٹرڈ خاندانوں کو مفت یا سبسڈی پر مبنی صحت کی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔
تعلیمی اسکالرشپ
غریب خاندانوں کے بچوں کو تعلیمی اسکالرشپ فراہم کی جاتی ہے تاکہ وہ اپنی تعلیم جاری رکھ سکیں۔
درخواست فارم
درخواست کی حیثیت چیک کریں
تجزیہ پروگرام کا تعارف اور تاریخی پس منظر بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا سماجی تحفظ کا نیٹ ورک ہے جو 2008 میں پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت نے شروع کیا۔ اس پروگرام کا نام پاکستان کی سابق وزیر اعظم محترمہ بے نظیر بھٹو کے نام پر رکھا گیا ہے اور اس کا بنیادی مقصد ملک کے غریب ترین خاندانوں کو مالی مدد فراہم کرکے غربت میں کمی لانا ہے۔ تاریخی تناظر · 2008 میں آغاز: عالمی مالیاتی بحران کے بعد · ابتدا: 1.7 ملین خاندانوں کے ساتھ آغاز · موجودہ حجم: 9 ملین سے زیادہ خاندان فائدہ اٹھا رہے ہیں · کل بجٹ: 400 ارب روپے سالانہ (2024) پروگرام کے اہداف اور مقاصد بنیادی اہداف 1. غربت میں کمی: انتہائی غریب خاندانوں کی مالی مدد 2. خواتین کی بااختیاری: خواتین کو براہ راست مالی مدد 3. سماجی تحفظ: معاشی بحران کے دوران حفاظتی جال 4. انسانی ترقی: صحت اور تعلیم پر مثبت اثرات خصوصی مقاصد · خواتین کو مالیاتی طور پر بااختیار بنانا · بچوں کی تعلیم اور صحت کو فروغ دینا · خاندانوں کی معاشی استحکام میں مدد کرنا · سماجی و اقتصادی ترقی میں شراکت پروگرام کا ڈھانچہ اور انتظامی نظام انتظامی ادارہ جات 1. BISP ہیڈ کوارٹر: اسلام آباد میں مرکزی دفتر 2. صوبائی دفاتر: تمام صوبوں میں علاقائی دفاتر 3. ضلعی سطح پر: ہر ضلع میں BISP آفس 4. ٹہسیل سطح: مقامی رابطہ دفاتر عمل درآمد کا طریقہ کار · ڈیٹا بیس: NADRA کے ساتھ مربوط نظام · سلیکشن پروسیس: PMT (Proxy Means Test) کے ذریعے · ادائیگی کا نظام: بینک اور مخصوص ادائیگی پوائنٹس · نگرانی: آزاد جائزہ اور آڈٹ سسٹم اہلیت کے معیار اور داخلہ کا طریقہ کار اہلیت کے پیمانے 1. غربت کا اسکور: PMT سسٹم کے تحت 32 پوائنٹس 2. آمدنی کی سطح: ماہانہ آمدنی 12,000 روپے سے کم 3. جائیداد کے معیار: بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی 4. معذوری کا معیار: معذور افراد والے خاندان نااہلی کے عوامل 1. سرکاری ملازمت: کوئی سرکاری ملازم نہ ہو 2. ٹیکس دےہندہ: آمدنی پر ٹیکس نہ دیتا ہو 3. بڑی جائیداد: 2 ایکڑ سے زیادہ زرعی زمین نہ ہو 4. شہری سہولیات: فریج، AC، گاڑی نہ ہو درخواست کا طریقہ کار 1. خود رجسٹریشن: مقامی BISP دفتر میں درخواست 2. سروے کے ذریعے: گھر گھر سروے ٹیموں کے ذریعے 3. NADRA رجسٹریشن: شناختی کارڈ سینٹرز کے ذریعے 4. آن لائن پورٹل: BISP کی ویب سائٹ پر رجسٹریشن ادائیگی کا نظام اور مالیاتی بندوبست ادائیگی کے طریقے 1. بینک اکاؤنٹس: خواتین کے بینک اکاؤنٹس میں براہ راست 2. حوالہ مانی: مخصوص ادائیگی پوائنٹس سے 3. بائیومیٹرک سسٹم: شناختی تصدیق کے ساتھ 4. موبائل والٹ: ڈیجیٹل ادائیگی کے نظام ادائیگی کی تفصیلات · ماہانہ امداد: 9,000 روپے فی خاندان (2024) · ادائیگی کا وقفہ: ہر تین ماہ بعد · کل سالانہ امداد: 27,000 روپے فی خاندان · خصوصی گرانٹس: عید اور سردیوں کے مواقع پر اضافی امداد بجٹ اور فنڈنگ 1. حکومتی بجٹ: وفاقی بجٹ سے مختص رقم 2. بین الاقوامی ادارے: عالمی بینک، ADB، DFID 3. قومی ٹرسٹ: BISP ٹرسٹ فنڈ 4. عطیات: قومی اور بین الاقوامی عطیات پروگرام کے مرکزی اجزاء اور توسیعی اسکیمیں مرکزی پروگرامز 1. انسانی ترقی کا پروگرام: تعلیم اور صحت پر مشروط نقد ادائیگی 2. وظیفہ پروگرام: طالب علموں کے لیے تعلیمی وظیفہ 3. مشروط نقد منتقلی: بچوں کی صحت اور تعلیم کے لیے 4. ٹیک سہولت پروگرام: غریب خاندانوں کو مفت راشن توسیعی اسکیمیں 1. BISP Taleemi Wazaif: بچوں کی تعلیم کے لیے · پرائمری طالب علم: 1,500 روپے ماہانہ · سیکنڈری طالب علم: 2,500 روپے ماہانہ · ہائر سیکنڈری: 3,500 روپے ماہانہ 2. نیشنل سوشل ریجسٹری: غربت کے ڈیٹا بیس کا قیام 3. کفالت پروگرام: بیواؤں اور معذوروں کے لیے 4. ہنر مندی پروگرام: نوجوانوں کے لیے پیشہ ورانہ تربیت خواتین پر اثرات اور بااختیاری خواتین کی مالیاتی شمولیت · 100% ادائیگیاں خواتین کے نام · بینک اکاؤنٹس کا اجراء · مالیاتی خواندگی میں اضافہ · فیصلہ سازی میں بہتری سماجی تبدیلیاں · خواتین کی سماجی حیثیت میں بہتری · گھریلو فیصلوں میں شرکت · بچوں کی تعلیم پر توجہ · خاندانی صحت میں بہتری پروگرام کے اثرات اور کامیابیاں غربت پر اثرات · غربت کی شرح: 5% تک کمی کا تخمینہ · آمدنی میں اضافہ: 20% تک آمدنی میں بہتری · غذائی تحفظ: خوراک کی عدم تحفظ میں کمی · معیار زندگی: بنیادی ضروریات تک رسائی تعلیمی اثرات · اسکول میں داخلے میں 10% اضافہ · اسکول چھوڑنے کی شرح میں کمی · خواتین خواندگی میں بہتری · تعلیمی سہولیات تک رسائی صحت کے شعبے پر اثرات · غذائی قلت میں کمی · بچوں کی صحت میں بہتری · حاملہ خواتین کی دیکھ بھال · ویکسینیشن میں اضافہ معاشی اثرات · مقامی معیشت کو تحریک · چھوٹے کاروباروں کی مدد · روزگار کے مواقع · زرعی پیداوار میں اضافہ چیلنجز اور تنقید انتظامی چیلنجز 1. شفافیت کے مسائل: رشوت اور بدعنوانی کے واقعات 2. اہلیت کا تعین: PMT سسٹم میں خامیاں 3. ادائیگی میں تاخیر: فنڈز کی بروقت ادائیگی نہ ہونا 4. ڈیٹا بیس کی درستگی: معلومات کی تازہ کاری نہ ہونا تکنیکی چیلنجز 1. بائیومیٹرک سسٹم: دیہی علاقوں میں مشکلات 2. بینکنگ سہولیات: دور دراز علاقوں میں بینک تک رسائی 3. ڈیجیٹل تقسیم: ٹیکنالوجی تک رسائی کی کمی 4. نگرانی کا نظام: مؤثر نگرانی کا فقدان سیاسی چیلنجز 1. سیاست بازی: سیاسی مقاصد کے لیے استعمال 2. انتخابی دباؤ: ووٹ بینک کے طور پر استعمال 3. پائیداری: حکومتی تبدیلی کے اثرات 4. بین الاقوامی دباؤ: ڈونرز کے مطالبات سماجی چیلنجز 1. منفی اثرات: کام کی ترغیب میں کمی 2. انحصاریت: پروگرام پر انحصار کی نفسیات 3. خاندانی تنازعات: رقم کے استعمال پر جھگڑے 4. معاشرتی بدنامی: پروگرام میں شامل ہونے والوں کے لیے نگرانی اور تشخیص کے نظام نگرانی کا ڈھانچہ 1. اندرونی آڈٹ: BISP کا اپنا آڈٹ ڈیپارٹمنٹ 2. بیرونی آڈٹ: آڈٹر جنرل آف پاکستان 3. سول سوسائٹی: آزاد نگرانی کے ادارے 4. بین الاقوامی ادارے: عالمی بینک اور دیگر ڈونرز تشخیص کے طریقے 1. اثر کا جائزہ: باقاعدہ اثرات کا مطالعہ 2. صارفین کا سروے: فائدہ اٹھانے والوں سے رابطہ 3. ڈیٹا اینالیسس: PMT سسٹم کا جائزہ 4. سماجی آڈٹ: سماجی اثرات کا تجزیہ بین الاقوامی تعاون اور شراکت داریاں بین الاقوامی اداروں کا تعاون 1. عالمی بینک: تکنیکی اور مالیاتی مدد 2. ایشیائی ترقیاتی بینک: پروگرام کی توسیع کے لیے 3. برطانوی محکمہ ترقی: DFID کی مالی مدد 4. اقوام متحدہ: UNDP کی تکنیکی معاونت بین الاقوامی تسلیم · ورلڈ بینک کی تعریف: بہترین سماجی تحفظ کے پروگرام کے طور پر · بین الاقوامی مطالعے: مثبت نتائج کی تصدیق · ماڈل پروگرام: دیگر ممالک کے لیے نمونہ · اعزازات: بین الاقوامی سطح پر پزیرائی مستقبل کے منصوبے اور جدت ڈیجیٹل تبدیلی 1. BISP 2.0: جدید ترین ڈیجیٹل پلیٹ فارم 2. بلاک چین ٹیکنالوجی: شفاف ادائیگی کا نظام 3. آرٹیفیشل انٹیلی جنس: بہتر انتخاب کا نظام 4. موبائل ایپلیکیشن: صارفین تک براہ راست رسائی توسیع کے منصوبے 1. Naya Pakistan ہاؤسنگ: رہائشی اسکیم سے رابطہ 2. صحت انشورنس: صحت کی سہولیات تک رسائی 3. مائیکرو فنانس: چھوٹے قرضوں کی فراہمی 4. ہنر مندی ترقی: روزگار کے مواقع پائیداری کے اقدامات 1. خود انحصاری پروگرام: روزگار کے مواقع 2. معاشی شمولیت: مالیاتی اداروں سے رابطہ 3. مقامی صنعتوں کو فروغ: چھوٹے کاروباروں کی مدد 4. تربیتی پروگرام: ہنر کی ترقی صوبائی سطح پر عملدرآمد پنجاب · فائدہ اٹھانے والے: 4 ملین خاندان · خصوصی پروگرام: پنجاب بہار بانو پروگرام · مشترکہ اقدامات: صوبائی حکومت کے ساتھ تعاون سندھ · فائدہ اٹھانے والے: 2.5 ملین خاندان · خصوصی پروگرام: سندھ حکومت کی اضافی امداد · مشترکہ اقدامات: سیلاب متاثرین کے لیے خصوصی پروگرام خیبر پختونخوا · فائدہ اٹھانے والے: 1.5 ملین خاندان · خصوصی پروگرام: قبائلی علاقوں کے لیے مخصوص پروگرام · مشترکہ اقدامات: صوبائی سماجی تحفظ کے پروگرامز بلوچستان · فائدہ اٹھانے والے: 1 ملین خاندان · خصوصی پروگرام: دور دراز علاقوں کے لیے خصوصی اقدامات · مشترکہ اقدامات: قبائلی نظام کے ساتھ ہم آہنگی پروگرام کی افادیت پر تجزیہ طویل مدتی اثرات 1. نسل در نسل تبدیلی: بچوں کی تعلیم اور صحت پر مثبت اثرات 2. خواتین کی قیادت: خواتین کی سماجی حیثیت میں بہتری 3. معاشی ترقی: مقامی معیشت کو تحریک 4. سماجی ہم آہنگی: طبقاتی فرق میں کمی اقتصادی تجزیہ · غربت پر اثر: فیصد میں مسلسل کمی · منافع کا تناسب: ہر روپے کا معاشی اثر · لیبر مارکیٹ: روزگار پر اثرات · قومی معیشت: GDP پر مثبت اثرات نتیجہ اور سفارشات کامیابیوں کا خلاصہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام پاکستان کی سماجی تحفظ کی پالیسی کا ایک اہم ستون ہے۔ اس نے لاکھوں خاندانوں کی زندگیوں میں مثبت تبدیلی لائی ہے، خاص طور پر خواتین اور بچوں کی زندگیوں میں۔ پروگرام کی کامیابی کے اہم پہلووں میں شامل ہیں: 1. وسیع پہنچ: 9 ملین خاندانوں تک رسائی 2. خواتین کی بااختیاری: مالیاتی شمولیت 3. تعلیم اور صحت: مثبت اثرات 4. معاشی تحفظ: غربت میں کمی بہتری کے لیے سفارشات 1. شفافیت میں اضافہ: بلاک چین ٹیکنالوجی کا استعمال 2. اہلیت کے نظام کی بہتری: PMT میں ترمیم 3. ادائیگی کے نظام کو بہتر بنانا: براہ راست بینک ٹرانسفر 4. نگرانی کا مؤثر نظام: آزاد نگرانی کا قیام 5. پائیداری کے اقدامات: روزگار کے مواقع آخری بات بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام ایک زندہ مثال ہے کہ کیسے ایک منظم سماجی تحفظ کا پروگرام قوم کی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ یہ پروگرام نہ صرف مالی امداد فراہم کرتا ہے بلکہ امید کی کرن بن کر ابھرا ہے جس نے لاکھوں پاکستانیوں کی زندگیاں بدل دی ہیں۔ مستقبل میں اس پروگرام کی مزید بہتری اور توسیع سے پاکستان میں غربت کے خاتمے کا خواب شرمندہ تعبیر ہو سکتا ہے۔



.jpeg)
.jpeg)
.jpeg)
0 Comments
Post a Comment