آغوش پروگرام - مکمل انفارمیشن

آغوش پروگرام

حاملہ خواتین کی مالی امداد اب 38,000 روپے ہو گئی ہے!

خوشخبری! رقم میں اضافہ

پنجاب حکومت نے آغوش پروگرام کے تحت حاملہ خواتین کے لیے مالی امداد 23,000 روپے سے بڑھا کر 38,000 روپے کر دی ہے۔ اگر آپ حاملہ ہیں اور آپ نے اپنا اندراج سرکاری ہسپتال یا بنیادی مرکز صحت میں کروایا ہے، تو اب آپ اپنی رقم چیک کر سکتی ہیں۔

رقم وصول کرنے کا طریقہ کار

1

سرکاری ویب سائٹ پر جائیں

اوپر دیے گئے بٹن پر کلک کریں یا خود ویب سائٹ اوپن کریں

2

موبائل نمبر درج کریں

وہی موبائل نمبر درج کریں جو آپ نے ہسپتال میں رجسٹر کروایا تھا

3

OTP حاصل کریں

درج نمبر پر ایک کوڈ (OTP) بھیجا جائے گا، اسے درج کر کے لاگ ان کریں

4

رقم چیک کریں

لاگ ان کے بعد آپ کو دکھائی دے گا کہ آپ کی کتنی رقم تیار ہے

5

رقم وصول کریں

قریبی جیز کیش ایجنٹ سے اپنی شناختی کارڈ پیش کر کے رقم وصول کریں

اہم معلومات

شرائط و ضوابط:

  • یہ رقم صرف ان حاملہ خواتین کے لیے ہے جنہوں نے سرکاری صحت مراکز میں رجسٹریشن کروائی ہے
  • حاملہ خواتین کو پہلے، دوسرے اور تیسرے ٹرائمسٹر میں الگ الگ ادائیگیاں کی جاتی ہیں
  • رقم وصول کرنے کے لیے بینک اکاؤنٹ کی ضرورت نہیں ہے
  • صرف پنجاب کی مستقل رہائشی خواتین اس سکیم سے مستفید ہو سکتی ہیں

ضروری دستاویزات:

  • قومی شناختی کارڈ (CNIC)
  • رجسٹرڈ موبائل نمبر
  • ہسپتال کی رجسٹریشن سلپ
  • حمل کی تصدیق کا سرٹیفکیٹ

رابطہ اور مدد

اگر آپ کو کوئی مسئلہ درپیش ہو تو درج ذیل طریقوں سے رابطہ کریں:

  • ہیلپ لائن: 0800-99000
  • اپنے مقامی سرکاری ہسپتال سے رابطہ کریں
  • بنیادی مرکز صحت میں اپنی انچارج نرس سے بات کریں
  • محکمہ صحت پنجاب کے دفتر سے رابطہ کریں

عمومی سوالات

س: کیا میں اپنا موبائل نمبر چیک کر سکتی ہوں؟

ج: جی ہاں! سرکاری ویب سائٹ پر موبائل نمبر درج کر کے چیک کریں۔

س: اگر میرا نمبر رجسٹرڈ نہیں ہے تو کیا کروں؟

ج: فوری اپنے ہسپتال یا مرکز صحت میں جا کر اپنا نمبر اپ ڈیٹ کروائیں۔

س: کیا یہ رقم پورے پنجاب میں ملے گی؟

ج: جی ہاں! یہ پروگرام پورے پنجاب میں چل رہا ہے۔

س: کیا میں اپنی رقم کسی بھی جیز کیش ایجنٹ سے وصول کر سکتی ہوں؟

ج: جی ہاں! آپ کسی بھی قریبی جیز کیش ایجنٹ سے اپنی شناختی کارڈ دکھا کر رقم وصول کر سکتی ہیں۔

آخری اپ ڈیٹ: دسمبر 2024

اللہ آپ اور آپ کے ہونے والے بچے کی حفاظت فرمائے! 🤱💕

آغوش پروگرام: پاکستان میں یتیم بچوں اور نادار خواتین کا اجتماعی آسرا تعارف اور تاریخی پس منظر آغوش پروگرام پاکستان کی تاریخ کا ایک منفرد اور جامع سماجی بہبود کا پروگرام ہے جس کا آغاز 2020 میں وزیراعظم عمران خان کی سربراہی میں کیا گیا۔ اس پروگرام کا بنیادی مقصد معاشرے کے سب سے کمزور طبقے یعنی یتیم بچوں اور ان کی سرپرست خواتین (خاص طور پر بیوہ اور مطلقہ خواتین) کو مالی تحفظ اور معاشرتی تحفظ فراہم کرنا ہے۔ لفظ "آغوش" اردو کا ایسا خوبصورت لفظ ہے جس کا مطلب ہے "گود" یا "پناہ گاہ"، جو دراصل اس پروگرام کے مرکزی فلسفے کو ظاہر کرتا ہے کہ ریاست اپنے کمزور شہریوں کو گود میں لے کر ان کی کفالت کرے گی۔ یہ پروگرام دراصل **تحفظ" پروگرام کا توسیعی ورژن ہے جسے 2019 میں شروع کیا گیا تھا۔ آغوش کو ایک جامع پیکیج کے طور پر ڈیزائن کیا گیا ہے جو یتیم بچوں کی کفالت کے ساتھ ساتھ ان کی تعلیم، صحت اور نفسیاتی تربیت کا بھی احاطہ کرتا ہے۔ پروگرام کے اہم مقاصد 1. یتیم بچوں کی جامع کفالت: یتیم بچوں کو ماہانہ مالی امداد کے ساتھ ساتھ تعلیمی اور صحت کی سہولیات فراہم کرنا 2. خواتین سرپرستوں کی خودمختاری: بیوہ اور مطلقہ خواتین کو مالی طور پر خودمختار بنانا 3. بچوں کی تعلیم تک رسائی: ہر یتیم بچے کو معیاری تعلیم کی فراہمی کو یقینی بنانا 4. معاشرتی تحفظ: یتیم بچوں کو معاشرتی دباؤ اور استحصال سے بچانا 5. خاندانی نظام کی بحالی: خاندانی نظام کو مضبوط بنانا اور بچوں کو اداروں کی بجائے خاندانی ماحول میں پرورش پانے کا موقع فراہم کرنا اہلیت کے معیار (Eligibility Criteria) آغوش پروگرام کے لیے درج ذیل شرائط ضروری ہیں: بچوں کے لیے شرائط: · عمر 0-18 سال کے درمیان ہو · باپ کی وفات ثابت ہو (وفات سرٹیفیکیٹ) · پاکستانی شہریت · غربت کی سطح (غریب ترین 25% طبقے سے تعلق) · بچہ کسی سرکاری یتیم خانے میں نہ رہتا ہو · بچہ خاندان کے ساتھ رہ رہا ہو سرپرست خاتون کے لیے شرائط: · بیوہ یا مطلقہ ہو · شادی شدہ ہونے کی صورت میں شوہر معذور ہو · خاتون کسی اور سماجی بہبود کے پروگرام کا حصہ نہ ہو · خاتون کی ماہانہ آمدنی مقررہ حد سے کم ہو · خاتون کا CNIC درست ہو فنانشل امداد کی تفصیلات آغوش پروگرام کے تحت ہر اہل خاندان کو درج ذیل مالی معاونت فراہم کی جاتی ہے: ماہانہ وظیفہ: · بنیادی گرانٹ: ہر یتیم بچے کے لیے 2,000 روپے ماہانہ · تعلیمی گرانٹ: سکول میں داخل بچے کے لیے اضافی 1,500 روپے · خاتون سرپرست کے لیے: 2,000 روپے ماہانہ بطور معاون گرانٹ تعلیمی امداد: · سکول فیس کی ادائیگی · یونیفارم اور کتابوں کے لیے گرانٹ · اسٹیشنری کا سالانہ الاؤنس · اعلیٰ تعلیم کے لیے خصوصی اسکالرشپ صحت کی سہولیات: · ہیلتھ انشورنس کارڈ (Sehat Sahulat Program سے الحاق) · مفت طبی معائنہ · ضروری دوائیوں کی فراہمی · ماہانہ غذائی سپلیمنٹ رجسٹریشن کا عمل آغوش پروگرام میں رجسٹریشن کا عمل مندرجہ ذیل مراحل پر مشتمل ہے: مرحلہ 1: اپلیکیشن جمع کروانا · مقامی BISP (بینظیر انکم سپورٹ پروگرام) آفس سے فارم حاصل کریں · آن لائن پورٹل (https://bisp.gov.pk) پر آن لائن درخواست دے سکتے ہیں · درخواست کے ساتھ ضروری دستاویزات منسلک کریں ضروری دستاویزات: 1. بچے کا B-Form یا پیدائش سرٹیفیکیٹ 2. سرپرست خاتون کا CNIC 3. مرحوم باپ کا وفات سرٹیفیکیٹ 4. غربت سرٹیفیکیٹ (اگر دستیاب ہو) 5. رہائش کا ثبوت 6. پاسپورٹ سائز تصاویر مرحلہ 2: تصدیق اور تصدیق · BISP اہلکار گھر کا دورہ کرتے ہیں · معلومات کی تصدیق کی جاتی ہے · NSER (قومی معاشی سروے) کے ڈیٹا سے موازنہ کیا جاتا ہے مرحلہ 3: منظوری اور فنڈز جاری کرنا · کامیاب درخواستوں کی منظوری · بینک اکاؤنٹ کھلوانا · ماہانہ فنڈز کی منتقلی کا آغاز پروگرام کے انتظامی ڈھانچے آغوش پروگرام ایک مربوط نظام کے تحت چلتا ہے: مرکزی حکومت کی سطح پر: · BISP ہیڈ آفس: مرکزی انتظامیہ · پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ: پالیسی سازی · فنانس ڈویلپمنٹ: فنڈز کی فراہمی صوبائی سطح پر: · صوبائی BISP دفاتر · سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ · تعلیمی اداروں کے ساتھ تعاون ضلعی سطح پر: · ضلعی سماجی بہبود کے دفاتر · مقامی انتظامیہ · این جی اوز اور سول سوسائٹی کا کردار نگرانی اور تشخیص کا نظام پروگرام کی کامیابی کو یقینی بنانے کے لیے ایک موثر نگرانی کا نظام قائم کیا گیا ہے: ڈیٹا بیس مینجمنٹ: · ہر بچے کا الگ پروفائل · تعلیمی کارکردگی کا ریکارڈ · صحت کی تاریخ · فنڈز کے استعمال کا حساب جامع جانچ پڑتال: · ماہانہ گھریلو دورے · بچوں کی تعلیمی ترقی کا جائزہ · خاندانی حالات کا معائنہ · شکایات کا تدارک سرمایہ کاری کا حساب: · فنڈز کے صحیح استعمال کی یقین دہانی · بدعنوانی کے خلاف سخت اقدامات · شفافیت اور جوابدہی پروگرام کی توسیع اور ترقی 2020 سے اب تک آغوش پروگرام میں نمایاں توسیع ہوئی ہے: شمولیت میں اضافہ: · 2020: 50,000 خاندان · 2021: 150,000 خاندان · 2022: 300,000 خاندان · 2023: 500,000+ خاندان خدمات میں اضافہ: · نفسیاتی کاؤنسلنگ سروسز · ہنر مندی کی تربیت · روزگار کے مواقع · قانونی امداد جغرافیائی توسیع: · پورے پاکستان میں رسائی · دیہی اور دور دراز علاقوں تک رسائی · فاٹا اور گلگت بلتستان میں تعیناتی چیلنجز اور ان کا تدارک آغوش پروگرام کو درپیش اہم چیلنجز: انتظامی چیلنجز: · بڑے پیمانے پر ڈیٹا کا انتظام · فنڈز کی بروقت فراہمی · دور دراز علاقوں تک رسائی معاشرتی چیلنجز: · سماجی بدنامی · خاندانی مزاحمت · روایتی سوچ تدارک کے اقدامات: · جدید ٹیکنالوجی کا استعمال · کمیونٹی کی مشغولیت · آگاہی مہمات کامیابی کے اشاریے (Success Indicators) پروگرام کی کامیابی کو درج ذیل اشاریوں سے ناپا جاتا ہے: تعلیمی اشاریے: · اسکول داخلے کی شرح میں اضافہ · ڈراپ آؤٹ ریٹ میں کمی · تعلیمی کارکردگی میں بہتری معاشی اشاریے: · خاندانی آمدنی میں اضافہ · غربت کی شرح میں کمی · مالیاتی شمولیت صحت کے اشاریے: · غذائی قلت میں کمی · بیماریوں کی شرح میں کمی · صحت کی دیکھ بھال تک رسائی معاشرتی اشاریے: · بچوں کے حقوق کا تحفظ · خواتین کی بااختیاری · خاندانی استحکام آغوش پروگرام کا مستقبل مستقبل کے منصوبے: · ڈیجیٹل پلیٹ فارم: مکمل آن لائن سسٹم · ملی تعلیم: جدید تعلیمی سہولیات · روزگار کے مواقع: ہنر مندی کی تربیت · بین الاقوامی تعاون: عالمی اداروں کے ساتھ شراکت توسیعی حکمت عملی: · مزید خاندانوں کی شمولیت · خدمات میں تنوع · معیار میں بہتری نتیجہ اور سفارشات آغوش پروگرام پاکستان میں سماجی بہبود کا ایک انقلابی منصوبہ ہے جو نہ صرف یتیم بچوں کو تحفظ فراہم کرتا ہے بلکہ خواتین کو بااختیار بنانے کا بھی ذریعہ ہے۔ اس کی کامیابی کے لیے درج ذیل سفارشات ہیں: 1. عمل درآمد میں بہتری: انتظامی نظام کو مزید موثر بنانا 2. ٹیکنالوجی کا استعمال: ڈیجیٹل حل کو اپنانا 3. آگاہی میں اضافہ: عوامی شعور بیدار کرنا 4. شراکت داری: نجی شعبے اور سول سوسائٹی کے ساتھ تعاون 5. مسلسل تشخیص: پروگرام کا مستقل جائزہ اہم رابطہ معلومات · BISP ہیلپ لائن: 0800-26477 · ویب سائٹ: https://bisp.gov.pk · ای میل: info@bisp.gov.pk · ہیڈ آفس: ایف-بلاک، پاک سیکرٹریٹ، اسلام آباد آغوش پروگرام دراصل پاکستان کی وہ اجتماعی گود ہے جس نے لاکھوں یتیم بچوں اور مظلوم خواتین کو زندگی کی نئی امید دی ہے۔ یہ پروگرام نہ صرف مالی امداد فراہم کرتا ہے بلکہ انہیں معاشرے کا کارآمد شہری بنانے کی بنیاد بھی فراہم کرتا ہے۔ اس کی کامیابی پاکستان کی سماجی ترقی میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگی۔