سلطنت عثمانیہ کا خاتمہ اور جمہوریہ ترکی کا قیام
آج یعنی یکم نومبر 1922ء کو باضابطہ طور پر سلطنت عثمانیہ کے خاتمے کا اعلان کیا گیا۔ اس کے ساتھ ہی ترکی میں سلطان محمد ششم کی حکومت ختم کر دی گئی اور سلطان کا عہدہ ختم کر دیا گیا۔
خلافت کا خاتمہ
سلطنت کے خاتمے کے بعد بھی خلافت عثمانیہ کا ادارہ باقی رہا۔ اسے ترک قومی اسمبلی نے 3 مارچ 1924ء کو باضابطہ طور پر ختم کیا۔
جمہوریہ ترکی کا قیام
اس کے بعد 29 اکتوبر 1923ء کو مصطفیٰ کمال اتاترک کی قیادت میں جمہوریہ ترکی کے قیام کا اعلان ہوا۔ انہوں نے عثمانی خاندان (آلِ عثمان) کے ساتھ سخت اور فیصلہ کن سلوک کیا تاکہ بادشاہت اور خلافت کا نظام ختم کیا جا سکے۔
🇹🇷 عثمانی خاندان کی جلاوطنی اور خاتمہِ اقتدار
مصطفیٰ کمال اتاترک کا مقصد ترکی کو ایک جدید، سیکولر اور قوم پرست ریاست بنانا تھا، اور ان کے نزدیک عثمانی خاندان اس راستے میں رکاوٹ تھا۔
1. سلطان کا خاتمہ اور ملک بدری (1922ء)
یکم نومبر 1922ء کو ترک قومی اسمبلی نے سلطنت عثمانیہ کے خاتمے کا اعلان کیا۔ آخری عثمانی سلطان محمد ششم (محمد وحید الدین) کو تخت سے ہٹا دیا گیا اور انہیں 17 نومبر 1922ء کو ایک برطانوی بحری جہاز کے ذریعے ملک بدر کر دیا گیا۔
2. خلافت کا خاتمہ اور خاندان کی جلاوطنی (1924ء)
عبدالمجید ثانی کو خلیفہ مقرر کیا گیا مگر ان کے سیاسی اختیارات ختم کر دیے گئے۔ 3 مارچ 1924ء کو خلافت مکمل طور پر ختم کر دی گئی اور پورے عثمانی خاندان کو جلاوطن کر دیا گیا۔
3. جائیداد کی ضبطی
عثمانی خاندان کی تمام جائیداد قومی تحویل میں لے لی گئی۔ جلاوطنی کے بعد خاندان کو شدید غربت کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ اقدام ترکی کی نئی قومی اور سیکولر شناخت کو مستحکم کرنے کے لیے تھا۔
کمال اتاترک کون تھے؟
- پیدائش و وفات: 1881ء – 1938ء
- لقب: "اتاترک" یعنی "ترکوں کا باپ"
- کردار: جنگِ آزادی کے قائد، جدید ترکی کے بانی اور پہلے صدر۔
- اصلاحات: عربی رسم الخط ختم کر کے لاطینی حروف نافذ کیے، خواتین کو حقوق دیے، اور یورپی قوانین اپنائے۔
📜 اتاترک کا "100 سالہ معاہدہ" کیا تھا؟
معاہدہ لوزان (Treaty of Lausanne) — 24 جولائی 1923ء
یہ معاہدہ ترکی اور اتحادی طاقتوں (برطانیہ، فرانس، اٹلی، جاپان) کے درمیان ہوا۔ اس کے تحت ترکی کو ایک آزاد ریاست کے طور پر تسلیم کیا گیا اور سلطنت عثمانیہ کا خاتمہ باضابطہ طور پر ہوا۔
100 سالہ معاہدے کا تصور
عوامی سطح پر یہ بات مشہور ہے کہ یہ معاہدہ 100 سال کے لیے تھا اور 2023ء میں ختم ہو گیا، مگر حقیقت یہ ہے کہ اس معاہدے میں کسی مدت کا ذکر نہیں۔ یہ آج بھی قانونی طور پر نافذ ہے۔
یہ افواہ عام ہے کہ معاہدے نے ترکی پر معدنیات نکالنے اور آبنائے باسفورس پر ٹیکس لینے کی پابندیاں عائد کیں، مگر دستاویزات میں ایسی کوئی شق نہیں پائی جاتی۔



0 Comments
Post a Comment