
Sudan Issue complete story

سوڈان کا مسئلہ — مکمل تفصیل
تحریر: ضیاء چترالی | منبع: روزنامہ اسلام
سوڈان، جو کبھی افریقہ کا اناج گھر کہلاتا تھا، آج بھوک، خانہ جنگی اور تباہی کا شکار ہے۔ قدرتی وسائل سے مالامال اس ملک میں آج انسانیت تڑپ رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر وہ ملک جو دریائے نیل کے پانی سے سیراب اور سونا، مویشیوں، اور زراعت میں خود کفیل تھا، وہ آج تباہی کا منظر کیوں پیش کر رہا ہے؟
خانہ جنگی کا آغاز
سوڈان کی موجودہ خانہ جنگی اپریل 2023 میں شروع ہوئی جب دو طاقتور عسکری قوتیں، سوڈانی افواج (SAF) اور ریپڈ سپورٹ فورسز (RSF)، اقتدار کی جنگ میں آمنے سامنے آگئیں۔ یہ لڑائی دراصل فوجی بالادستی اور وسائل کے کنٹرول کی جنگ ہے۔
پس منظر
2019 میں عوامی احتجاج کے نتیجے میں صدر عمر البشیر کی حکومت کا خاتمہ ہوا اور ایک عبوری حکومت قائم ہوئی۔ لیکن جلد ہی جنرل عبدالفتاح البرہان (فوج) اور محمد حمدان دقلو المعروف "حمیدتی" (RSF) کے درمیان اختلافات بڑھ گئے۔ ان اختلافات نے بالآخر پورے ملک کو جنگ کی آگ میں دھکیل دیا۔
دارفور میں تباہی
دارفور کا علاقہ اس جنگ کا سب سے بڑا میدان بن گیا ہے۔ شہر الفاشر میں RSF کے جنگجوؤں نے خوفناک قتل عام کیا۔ لوگ بھوک سے مر رہے ہیں اور اسپتال لاشوں سے بھر چکے ہیں۔
بیرونی مداخلت
سوڈان کی جنگ صرف اندرونی نہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی مداخلت سے اور پیچیدہ ہو گئی ہے:
- متحدہ عرب امارات RSF کو اسلحہ اور فنڈ فراہم کر رہا ہے تاکہ سونے کی کانوں اور زمینوں پر کنٹرول حاصل کرے۔
- مصر سوڈانی فوج کی پشت پر ہے تاکہ نیل کے پانی پر اپنے مفادات کا تحفظ کرے۔
- روس ریڈ سی پر بحری اڈہ قائم کرنا چاہتا ہے، جبکہ ویگنر گروپ سونے کی تجارت میں سرگرم ہے۔
- امریکہ اور اسرائیل بھی اپنے سیاسی مفادات کے لیے پسِ پردہ کردار ادا کر رہے ہیں۔
ملک کی ممکنہ تقسیم
اگر جنگ جاری رہی تو سوڈان دو یا تین حصوں میں تقسیم ہوسکتا ہے: شمالی حصہ فوج کے زیرِ اثر، مغربی حصہ RSF کے قبضے میں، اور مشرقی بندرگاہی علاقہ ممکنہ طور پر عالمی نگرانی میں۔
انسانی المیہ
اقوام متحدہ کے مطابق اب تک 12,000 سے زائد افراد ہلاک اور 14 لاکھ سے زیادہ بے گھر ہو چکے ہیں۔ اسپتال تباہ، خوراک ختم، اور پینے کا پانی نایاب ہے۔ عوام بھوک، بیماری اور قحط کے دہانے پر ہیں۔
“جب ان سے کہا جاتا ہے زمین میں فساد نہ پھیلاؤ، تو وہ کہتے ہیں ہم تو اصلاح کرنے والے ہیں” (سورۃ البقرہ: 11)
نتیجہ
سوڈان کا مسئلہ صرف اقتدار کی جنگ نہیں بلکہ بقا کی جنگ ہے۔ ہر فریق امن کا دعویٰ کرتا ہے مگر زمین پر صرف خون کے دھبے ہیں۔ سوڈان کی کہانی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ جب طاقت، لالچ اور مفاد انسانیت پر غالب آجائیں، تو زمین فساد سے بھر جاتی ہے۔



0 Comments
Post a Comment